Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تراجم»کٹاس راج مندر کے تاریخی تالاب کی خستہ حالی پر از خود نوٹس
    تراجم

    کٹاس راج مندر کے تاریخی تالاب کی خستہ حالی پر از خود نوٹس

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 8, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    بدھ کے روز منصفِ اعظم پاکستان  میاں ثاقب نثار نے قریبی صنعتی کارخانوں کی جانب سے زیرِزمین پانی کے غیر قانونی استعمال کے سبب ہندوؤں کے مقدس تاریخی کٹاس مندرمیں واقع تالاب کے پانی کے خشک ہوجانےکا  از خود نوٹس لیا ہے۔  نیلگوں پانی کا  تالاب ، جس میں پانی کی موجیں کناروں سے سر ٹکراتی تھیں    ، اگر حالت یہی رہی تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گا۔   مقامی لوگ علاقے میں موجود سیمنٹ  کے کارخانوں کے ذمہ داران  کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جو اپنی صنعتی پیداوارمیں اضافے  کیلئے  زیرِ زمین پانی کو بے رحمانہ طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔  اس  تباہ حالی کا نوٹس  لیتے ہوئے چیف جسٹس  نے متعلقہ وفاقی و صوبائی ذمہ دار اداروںمحکمہ آثارِ قدیمہ و عجائبات  اسلام آباد،  ادارہ برائے متروکہ وقف املاک لاہور، محکمہ آثارِ قدیمہ لاہور اور  ڈپٹی کمشنر چکوال کو تین دن کے اند ر تفصیلی جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔

    ہندومت کے  بھگوان  شیو جی سے منسوب کٹاس راج مندر پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے چاہ سیداں شاہ میں واقع ہے۔ یہ جگہ دراصل  سات تاریخی  مندروں  ،   ایک بدھ اسٹوپا   اور ایک عظیم جنگجو ہری سنگھ نروا کی حویلی پر مشتمل ہے جو چھٹی سے تیرھویں صدی عیسوی میں  تعمیر کی گئی ۔ ہندو عقائد کے مطابق یہ تالاب شیو جی کےپوتر  آنسوؤں سے وجود میں آیا  تھا جو انہوں نے اپنی پتنی ستی  کی موت پر اس کی یاد میں بہائے تھے۔   دنیا بھر سے ہر سال مہاشیورتری تہوار پر ہندو یاتری  کٹاس راج مندر  آتے اور اپنے پاپ دھونے  کیلئے مقدس تالاب میں نہایا کرتے تھے۔  مگر پاکستان میں حالات کی خرابی کے باعث اب ہندو یاتری یہاں پوجا کرنے نہیں آتے۔  کچھ ہندو ؤں کا ماننا یہ بھی  ہے کہ اس پانی میں گناہوں کے ساتھ ساتھ زخموں کو مندمل کرنے کی شکتی بھی ہے۔

    حالیہ خبروں کے مطابق یہ تالاب زیرِ زمین پانی سے بھرے رہنے کے قدرتی عمل کے رک جانے کے باعث  خشک ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کارخانوں میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سینکڑوں بور کئے گئے ہیں جس کے سبب زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے اور کٹاس مندر کے گردو نواح اور چاہ سیداں شاہ میں فراہمیِ آب کا نظام نہ ہونے کے  باعث یہاں رہائش پذیر افراد  آبی ضروریات کی تکمیل کیلئےگہرے نلوں کے ذریعے  زیرِ زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل  زیرِ زمین سطحِ آب کو مزید نیچے کی طرف گرا   لے جائے گا۔

    (ترجمہ: حذیفہ مسعود)

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسعودی عرب۔۔۔ متبادل بیانیہ میں حائل مشکلات
    Next Article ریاست کا چوتھا ستون۔۔۔آزاد میڈیا یا زرد صحافت
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر

    جون 12, 2026

    مغرب مسلم لبرلز کو کھو رہا ہے۔

    فروری 26, 2024

    انصاف اور سیاست

    جنوری 23, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by