Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لبرل کی شامت
    کالم

    لبرل کی شامت

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعودنومبر 7, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان کے لبرلز کے بارے میں عامر رانا صاحب کا رنجیدہ رنجیدہ مقالہ پڑھا۔ کہتے ہیں پاکستان میں جب بھی بحران آئے لبرل کی شامت آتی ہے۔آخر میں انہوں نے ایک معصومانہ سوال بھی کیا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ وہ اپنے سوال کے جواب میں جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس سے ان کی لبرل معصومیت کن اکھیوں سے جھانکتی نظر آرہی ہے۔  

    ہمیں توان کا مقالہ پڑھ کر کوکلا چھپاکی کا کھیل  یاد آگیا۔  سب بچے ایک گول دائرے میں بیٹھ جاتےہیں۔ ان میں سے ایک  کو کوڑا پکڑا دیا جاتا ہے  جو عام طورپر کسے کپڑے یا دوپٹے  کو بَل دے کر بنایا جاتا ہے اسے کوکلا یا کوٹلا کہتے ہیں۔ بچوں کو کھیل میں دلچسپی ہوتی ہے اس لئے کوئی نہیں پوچھتا  کہ کوکلا اور کوٹلا میں کیا فرق ہے یا ان کا کیا مطلب ہے۔ مطلب کھیل میں شامل ہونے سے خود بخود سمجھ میں آ جاتا ہے۔ دائرے میں بیٹھے بچوں کو ادھر ادھر آگے پیچھے  دیکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ کیوں؟ یہ بھی جلد ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ جس کے ہاتھ  میں کوکلا ہوتا ہے وہ اسے کوڑے کی طرح گھماتے ہوئے خوفناک  بھاری آواز میں  زمین پر زور زور سے پاؤں مارتے ہوے یہ بول دہراتا ہوا دائرے کے چکر لگاتا ہے

    کوکلا چھپاکی جمعرات آئی جے

    جیہڑا اگے پچھے ویکھے اوہدی شامت آئی جے

    ان پنجابی الفاظ کا مطلب ہم تھوڑی دیر میں بتاتے ہیں۔ کھیل یہ ہے کہ کوکلا چپکے سے کسی کے پیچھے رکھ کے وہ بچہ یہی الفاظ دہراتا چکر لگاتا رہتا ہے۔ کوکلا اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا لیکن کوکلے کی دہشت اور شامت کا خوف بچوں کو دہلائے رکھتا ہے۔ محترمہ آمنہ مفتی نے اپنے بچپن کی یادوں میں اس کھیل کی دہشت کا  جو نقشہ کھینچا ہے وہ بے مثال ہے۔ لگتا ہے کسی پُر اسرار آہٹ پر وہ اس دہشت یاد کرکے آج بھی چونک جاتی ہوں گی ۔ کھیل جاری رہتا ہے۔ جس بچے کو احساس ہو جائے کہ کوکلا اس کے حصے میں آیا ہے وہ کوکلا اٹھا کے  خالی ہاتھ  بچے کے پیچھے وہی بول دہراتے بھاگتا ہے۔ خالی ہاتھ پکڑا جائے تو کوکلے کی مار کھانی پڑتی ہے۔ وہ  خالی جگہ ڈھونڈتا ہے  تاکہ وہاں بیٹھ کر دائرے میں محفوظ ہو جائے۔  مشکل یہ ہے کہ صرف ایک جگہ خالی ہوتی ہے۔   

    یہ کھیل کوکلے کی اہمیت کا  درس دیتا ہے اور اس بات کی تربیت دیتا ہے کہ  دائرہ حفاظت کی ضمانت ہے، لیکن اسی وقت تک جب ادھر ادھر آگے پیچھے نہ دیکھیں۔  کیونکہ اس سے پتا چل سکتا ہے کہ کوکلا کہاں جا رہا ہے اور کس کو ملنے والا ہے۔ چلنے پھرنے اور بولنے کی آزادی صرف کوکلے والے کو ہے۔ باقی بچے سرجھکائے آنکھیں نیچی کئے بیٹھے رہیں تو محفوظ رہتے ہیں۔ کوکلا  ہمیشہ کسی ایک کے پاس نہیں رہتا۔ لیکن یہ فیصلہ کوکلے والا کرتا ہے کہ کوکلا کس کو دینا ہے۔ جس کے پاس کوکلا نہ ہو اسے  اپنی حفاظت کے لئے فوراً دائرے میں واپس آجانا چاہئے ورنہ کوکلے کی مار پڑتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے  کہ یہ دائرے کا کھیل ہے جو اسی وقت ختم ہوتا ہے جب دائرے کے باہر سے آواز آئے۔ بچو روٹی کھالو۔  

    اس کھیل کے بارے میں بھارت میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ سکھ بچوں کا کھیل ہے کیونکہ اس کے بول پنجابی ہیں۔ کچھ اسے مسلمان کھیل کہتے ہیں کہ اس میں جمعرات کا ذکر ہے۔ زیادہ مین میخ نکالنے والے جمعرات کی وجہ سے اسے سُنّی کھیل  بتاتے ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ یہ لبرل کھیل ہے کیونکہ اس میں بچے بچیاں مل کر کھیلتے ہیں۔ پاکستان میں بڑی عمر کی لڑکیوں کو یہ کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں کیونکہ دو پٹے  کو  کوکلا بنانے سے دوپٹے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور جس کا دوپٹہ کوکلا بنایا جائے اسے ننگے سر کھیلنا پڑتا ہے۔ بھارت میں اسے انارکسٹ کھیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں  کوکلے کو کھیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارت فلم انڈسٹری نے کوکلے کے سارے گانوں کو بالی وڈ کی فلاسفی میں ڈھال کر تمام خدشات دور کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔

    پاکستان میں معاملہ بین بین ہے۔ شامت کے بار بار تذکرے کی وجہ سے اس کھیل کو لبرل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں نہ کوکلے والے نامعلوم ہیں نہ اٹھنے والے اٹھائے جاتے ہیں، وہ خود ہی اٹھتے ہیں۔ لیکن یہ بات کَھلتی ہے کہ کوکلے والا  اسی وقت تک محفوظ ہے جب تک کوکلا اس کے ہاتھ میں ہے۔ کھیل اس لئے مقبول ہے کہ کسی  نہ کسی صورت میں ہمارا عمرانی معاہدہ کوکلا چھپاکی کا کھیل ہے۔ کوکلے کے بغیر گذارا بھی نہیں اور کوکلا دائرے کے اندر بھی نہیں۔

    کوکلا چھپاکی کے اصل بول پنجابی ہیں اورصرف اتنے ہی ہیں جو ہم نے نقل کئے۔  یوٹیوب پر جو ویڈیو دستیاب ہے اس نے سیاق و سباق دے کر انہیں اور بھی بامعنی بنا دیا ہے۔ اس میں بہت سارے اضافے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں یہ اضافے کس کے ہیں لیکن محترمہ فریحہ نے انہیں جس پیار سے گایا ہے وہ اسی کا حصہ لگتے ہیں۔ اصل لطف تو پنجابی میں ہی ہے لیکن ہم نے عامر صاحب کے مقالے کی رعایت سے اس کا اردو میں لبرل ترجمہ  کیا ہے۔ بہت آگے پیچھے دیکھ  کرکوکلے کی حرمت،  ترجمے  سے وفا اور شعر میں وزن قائم رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔  لیکن کیا کریں ترجمہ لبرل ہو تو شامت آ بھی سکتی ہے۔


    کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

    جو آگے پیچھے دیکھے اس کی شامت آئی ہے

    کوئی بھولے سے بھی مڑکے

    مجھے ایک بار دیکھے

    اس  کی تو باری اسی رات آئی ہے


    کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

    جو آگے پیچھے دیکھے اس کی شامت آئی ہے


    ہاتھ میں میرے بٹا دوپٹّا

    گھوم چکی میں چار چوپٹّا

    کن اکھیوں سے

    ماہی مجھ کو  دیکھے   

    کیسے،  کیسے،  کیسے

    میں بھی ڈھونڈوں، وہ بھی ڈھونڈے

    دید کے سارے حیلے بھونڈے

    دید بنا  یہ کیسی  ملاقات  آئی ہے


    کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

    جو آگے پیچھے  دیکھے اس کی شامت آئی ہے


    ماہی کے پیچھے

    کوکلا چھپا کے    

    چپکے سے بیٹھوں

    بیچ میں جا کے

    ٹک ٹک تکتا رہ جائے گا

    ہکاّ بکاّ ہو جائے گا

    آج میرے ہاتھوں اس کی موت آئی ہے

    کوکلا چھپا کے جمعرات آئی ہے

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعرب دنیا میں سیاسی تبدیلیاں
    Next Article سعودی عرب۔۔۔ متبادل بیانیہ میں حائل مشکلات
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by