Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ملک ریاض کا مشن
    کالم

    ملک ریاض کا مشن

    سجاد اظہرBy سجاد اظہرستمبر 10, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اگر میں یہ کہوں کہ دنیا میں اصل حکومت سرمایہ داروں کی ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا ؟ اگر انڈیا کے ٹاٹا ،امبانی ، عظیم پریم جی اور پاکستان کے ملک ریاض ، سیٹھ داؤد، میاں منشا ، امریکہ کے بل گیٹس ، وارن بفٹ ،چین کے جیک ما ، برطانیہ کے لکشمی متل ،روس کے الیکشے مارڈشوف ،یہ سب نہ ہوں تو دنیا کب کی ایٹمی راکھ بن چکی ہوتی ۔

    جب بھی کہیں سیاسی معاملات سیاستدانوں کے کنٹرول سے باہر نکلتے ہیں یہ چند دماغ سوچتے ہیں کہ اس سے تو ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو جائے گی چنانچہ یہ حرکت میں آتے ہیں ۔یہ اپنی اپنی حکومتوں کو قائل کرتے ہیں کہ وہ معمولات کو بحال کروائیں ۔ پاکستان اور بھارت میں بھی اب تک جنگ نہ ہونے کہ وجہ بھی انہی امیر ترین لوگوں کو کلب ہے ۔ جب بھی حالات جنگ کی طرف جانے لگتے ہیں اُدھر سے کوئی متل آ جاتا ہے ،اِدھر سے کوئی ملک ریاض اُدھر چلاجاتا ہے ۔امریکہ سے بل گیٹس کے کہنے پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ حرکت میں آ جاتا ہے ۔اس طرح جنگ وقتی طور پر تو ٹل جاتی ہے مگر جنگی ماحول پیدا کرنے والی لابی بھی اتنی ہی طاقتور ہے جتنی جنگ رکوانے والی ۔یہ لوگ اسلحہ بیچتے ہیں ۔بڑے بڑے ہتھیاروں کی سودے کرواتے ہیں تاکہ جنگ بیشک نہ ہو مگر ماحول کشیدہ رہے تاکہ ہتھیار بکتے رہیں ۔ اب ایک تیسری لابی بھی پیدا ہو چکی ہے ۔وہ کہتی ہے کہ وہ ملک تباہ ہونے چاہئیں جن کے پاس وسائل ہیں تاکہ پھر ان وسائل کی بنیاد پر وہاں تعمیر ِ نو کے نام پر ٹھیکے حاصل کئے جائیں ۔ اس کا تجربہ عراق، کویت اور لیبیا میں کیا گیا ہے ،شام میں ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ داعش کی صورت میں یہ منصوبہ الٹا مغرب کے گلے پڑ گیا ہے اس لئے آئندہ شاید ایسے منصوبوں کی حمایت عالمی اشرافیہ کی جانب سے نہ ہو ۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو مکمل شہ دینے کے باوجود اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کر رہا کیونکہ اس صورت میں جس شکست و ریخت کا آغاز ہو گا اس سے یورپ کے در و دیوار بھی ہل جائیں گے ۔

    شمالی کوریا کے مسئلے کا حل بھی جنگ میں نہیں ہے ۔دنیا چاہتی ہے کہ صرف دباؤ سے ہی کام چل جائے ۔ پاکستان پر بھی ٹڑمپ انتظامیہ یہی آپشن استعمال کر رہی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کو اس سلسلسے میں اتنی کامیابی ضرور ملی ہے کہ اس نے فوج اور سول قیادت کے اندر دراڑیں ڈال دی ہیں ۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یہ محسوص کرتی ہیں کہ انہیں کنارے لگایا جا رہا ہے ۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں ایک جانب مشرقی سرحد اور دوسری جانب مغربی سرحد سے ہمارا گھیراؤ کیا جا رہا ہے ۔ہمارے جوانوں کی لاشیں گر رہی ہیں ۔سرحدوں پر ہماری سول آبادی شدید خطرات میں ہے ۔ آزاد بلوچستان کے بینر لگ رہے ہیں ۔ ملک میں داعش کے جھنڈے بھی نظر آنے لگے ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ ملک میں افرا تفری پھیلانے والی قوتیں متحد ہو چکی ہیں ۔ ان حالات میں سب سے زیادہ کاروباری برادری کے مفادات کو نقصان پہنچے گا ۔ اس لئے پاکستان کی کاروباری برادری اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حرکت میں آ چکی ہے ۔ ملک ریاض اب صرف بحریہ ٹاؤن کے مالک کا نام نہیں بلکہ پاکستان میں ان تمام عالمی سرمایہ کاروں کا نمائندہ ہے جنھوں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔ان میں چین کے سرمایہ کار بھی ہیں ۔عرب بھی ہیں ،یورپی اور امریکی بھی ہیں ۔ یہ سب پاکستان کے سیاسی بحران کا کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کو شش میں ہیں ۔ اس حوالے سے کئی آپشن زیر غور ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرزنہ صرف ان کو ششوں میں آن بورڈ ہیں بلکہ وہ فوری طور پر مسئلے کا حل چاہتے ہیں ۔

    ملک ریاض سے بہتر پاکستان میں کوئی شخصیت نہیں ہے وہ تمام سٹیک ہولڈرز کے لئے محترم ہیں اور سب ان کا احترام بھی کرتے ہیں ۔وہ ایک زیرک انسان ہیں ۔خدا نے نہیں برداشت اور تحمل کی قوت کے ساتھ معاملہ فہمی اور مسائل کو حل کرنے کا ملکہ بھی عطا کر رکھا ہے ۔ امید ہے جلد ہی وہ کوئی درمیانی راستہ نکال لیں گے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعامر رانا کے ناول ‘سائے’ پر ایک نشت کا احوال
    Next Article گلگت بلتستان میں احتجاج کا موسم
    سجاد اظہر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by