Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بیٹی رحمت ہے ……..زحمت نہیں
    کالم

    بیٹی رحمت ہے ……..زحمت نہیں

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولستمبر 22, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز ایک پرائیویٹ چینل سے کال آئی کہ ہم آپ سے ایک اہم سماجی مسئلہ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔میں نے انہیں اپنے گھر بلا لیا کہ وہ ریکارڈنگ کے لئے گھر تشریف لے آئیں۔ آپ واقعہ پڑھ کر کانپ اٹھیں گے کہ سنگدلی ، ظلم اور بے حرمتی کی اس سے زیادہ بدتر اور کیا مثال ہوگی ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی چار ماہ کی بیٹی کو فیڈر Feederمیں  زہر ملا کر پلا دیا جس سے وہ بچی فوت ہو گئی۔ظلم یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد،ظالم باپ نے اپنی بیٹی کی لاش قبر سے نکال کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے گندے نالے میں بہا دیے تاکہ وہ قانون کی گرفت میں نہ آ سکے۔ آپ کو یہ پڑھ کر بھی دکھ ہو گا کہ وہ شخص قرآن مجید کا حافظ اورایک مسجد میں امام بھی تھا۔میں ہمیشہ گزارش کرتا ہوں ہمیں قرآن مجید سمجھ کر پڑھنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے قرآن مجید نازل فرمایا تاکہ ہم سمجھیں اوراس پہ عمل کریں کیونکہ

     عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

     علماءکرام قرآن مجید پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہیں لیکن اس نکتہ پہ توجہ کی ضرورت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن پڑھنے کی فضیلت اس قوم کے سامنے بیان کی جن کی زبان عربی تھی۔ وہ قرآن سمجھتی تھی لیکن ہمارے لئے صرف پڑھنے کی فضیلت چہ معنی دارد؟ قرآن مجید نے جتنا زیادہ تدبر ، تفکر اور تذکر کی تعلیم دی ہے ،کسی اور کتاب نے نہیں دی۔ لیکن ہم قرآن مجید کو ہی تدبر،تفکر اور تذکر کے بغیر پڑھتے ہیں جس وجہ سے ہماری زندگی قرآنی اثرات سے محروم ہے۔میرے خیال کے مطابق بیٹی کے قتل میں فقط باپ مجرم نہیں ہے اس کا خاندان اور معاشرہ بھی شریک جرم ہے۔ ماں ، بہن اور دیگر رشتہ دار بیٹی کی پیدائش پہ ہمیشہ مرد میں احساسِ محرومی پیداکرتے ہیں ،اس کی بیوی کو منحوس قرار دیتے ہیں، اسے دوسری شادی کی رغبت دلاتے ہیں حالانکہ میڈیکل ریسرچ کے مطابق بیٹی کی وجہ خود خاوند ہے ۔ معاشرہ بھی قصوروار ہے کہ وہ باپ کو بیٹی کی مبارک اس طرح دیتا ہے جیسے حوصلہ دے رہے ہیں یا افسوس کر رہے ہیں ۔ افسوس نہ بھی کریں لیکن ایسے انداز میں مبارک دیتے ہیں جیسے کوئی انوکھا واقعہ رونما ہو گیا ہے۔ دنیا کے قانون میں سزا صرف ”باپ “ کو ملے گی لیکن اللہ کی عدالت میں سب اپنے جرم کی سزا بقدر حصہ پائیں گے۔

    میں نے کبھی نہیں سنا کہ مسجد کے امام صاحب نے یہ دعا کی ہو کہ فلاں کے ہاں بیٹی نہیں اللہ تعالیٰ اسے بیٹی عطا فرمائے یا کسی باپ نے آ کر یہ کہا ہو کہ میرے ہاں بیٹی نہیں ہے دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے بیٹی عطا فرمائے ۔ ہمیشہ یہی دعا سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کواولاد نرینہ عطا فرمائے ۔ جب منبر و محراب سے ایسی آواز بلند ہو گی تو معاشرے میں بیٹی سے متعلق رّویوں کی انتہا وہی ہوگی جو ہم دیکھتے اور سنتے ہیں۔قرآن مجید نے بیٹیوں کی پیدائش پہ دکھ کا اظہار کرنا کفار ومشرکین کا شیوہ قرار دیا ہے ”جب ان میں سے کسی کوبیٹی کی خبر دی جاتی ہے ۔ اس کا چہرہ مارے دکھ کے سیاہ ہو جاتا ہے ۔ اس غم کی وجہ سے قوم سے چھپتا پھرتا ہے کہ وہ بیٹی کو ذلت سے رکھے یا زندہ درگو ر کر دے“۔ قرآن مجید نے زندہ درگو رکر دینے والی بچیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا”اورجب زندہ درگور کر دینے والی سے پوچھا جائے گا کس جرم کی پاداش میں اسے قتل کیا گیا“ قرآن مجید کا یہ اسلوب بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم باپ سے نہیں پوچھے گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اس جرم کی کوئی تو جیہہ نہیں ہو سکتی اس لئے مظلوم سے بات کی جائے گی۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ مظلومہ سے اس گناہِ عظیم کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے اتنی بڑی سزا کیوں دی گئی ؟۔رسول اللہﷺ نے بیٹیوں سے متعلق خاص طور پر والد کو نصیحت کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے برا سلوک نہ کرے ۔بیٹوں کو بیٹیوں پہ ترجیح نہ دے، انہیں اچھی تعلیم دلوائے، ان کی تربیت کرے تو ایسے والد کی جزاءجنت ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا وہ جنت میں اس طرح داخل ہو گا کہ میرے اتنا قریب ہوگا کہ آپ نے دو انگلیوں کو ملاکر سمجھایا کہ اس طرح ہم جنت میں اکٹھے ہوں گے۔

    ایک حدیث کے مطابق سب سے اعلیٰ صدقہ مطلقہ یا بیوہ بیٹی کو عزت سے اپنے گھر میں رکھنا ہے۔ ہم لاکھ انکار کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے گھروں میں بیٹوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ انکا خیال زیادہ رکھا جاتا ہے انہیں بیٹیوں سے زیادہ بہتر خوراک و تعلیم مہیا کی جاتی ہے ۔ یہ جہالت آج بھی ہے کہ بیٹی پیدا ہونے پہ بیوی کو گھر سے نکال دیاجاتا ہے، اسے طلاق دے دی جاتی ہے ۔

     دوسری تیسری شادی نرینہ اولاد کے شوق میں کی جاتی ہے ،اگر دوسری یاتیسری بیوی سے نرینہ اولاد نہ ہو تو بیٹی سے یہی سلوک کیا جاتا ہے جو اس سفاک اورظالم باپ نے چار ماہ کی بیٹی سے کیا۔میں نے صرف ایک افسوسناک واقعہ کاذکر کیا ہے ورنہ آپ اخبارات کا مطالعہ کریں تو روزانہ دو تین خبریں نظرسے گزرتی ہیں جن کے مطابق ماں یا باپ اپنی اولاد خصوصاً بیٹیوں کو زہر ، پھانسی یا پانی میں ڈبو کر مار دیتے ہیں۔ اس گھناﺅنے جرم کے معاشی اسباب بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمارا Social Setupبھی ہے جس میں بیٹیوں والے کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ ہم کب تلک اس کا الزام ہندو وانہ رسم و رواج کودیتے رہیں گے۔ اس سے کہیں زیادہ ہمیں اپنے آپ کو موردِ الزام ٹھرانا چاہئے کہ ہم ابھی تلک اپنے سماج کو اسلامی اور انسانی خطوط پہ استوار نہیں کر سکے۔ایسے واقعات ”ثناخوانِ تقدیس مشرق“ کے ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں جو اپنی قوم کو احتساب خویش کے بجائے خبطِ عظمت اورفخر کی نفیسات میں جینے کی تربیت دے رہے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمشکل وقت سر پر ہے
    Next Article پاکستانی سنگھ پریوار
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by