Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»یہ کریم کون ہے؟
    کالم

    یہ کریم کون ہے؟

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعودجولائی 24, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    ایک وفا شعار بیوی  کا یہ درد ناک سوال آج تک کانوں میں گونجتا ہے۔ بے چاری اتنی دیر سے دفتر سے آنے کا سبب پوچھ رہی تھیں اور حضرت مکمل بے اعتنائی سے کسی کریم کا نام لے رہے  تھے۔ وفا شعار کو شک تو تھا لیکن یقین نہیں تھا کہ کریم مرد ہے یا عورت۔  جھنجلاہٹ میں محتاط  خفگی کی وجہ سے سوال دھیما ہوتا ہوتا صرف گلہ بن کر رہ گیا تھا۔ یہ کریم کون ہے؟

    معلوم نہیں اس سوال جواب کا نتیجہ کیا نکلا ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ ایک لیموزین سروس نے اپنا کاروبار چمکانے کے لئے ایک خاتون کی وفا شعاری کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنا دیا۔ ہم لوگ بھی  کالوں کو گورا بنانے والی کریم کا اشتہار سمجھ کر خاموش رہے۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا ہے ؟ اب  وفاداری صرف گاڈ فادر کے لئے لازمی سمجھی جاتی ہے۔ باقی ہر رشتے میں غیر ضروری بلکہ مذاق ہوگئی ہے۔

    اصل میں کاروباری لوگ ہر چیز کو کاروبار کی طرح دیکھتے ہیں۔ حتی کہ خدمت کو بھی۔ اب اسی لیموزین سروس کو لے لیجئے۔ ہے تو خدمت کی سروس لیکن تیور دیکھیے کہ اشتہار میں بھی رشتوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اسی پر بس نہیں۔ اسی اشتہار سے شہ پاکر اب لیموزین نے رشتہ آنٹی  سروس بھی لانچ کردی ہے۔ وہ جو تھوڑا بہت رشتوں کا پردہ تھا وہ بھی چاک ہو گیا۔ اب رشتے بھی کاروبار کی طرح  سفر میں طے ہوں گے۔ کہتے ہیں  صرف کاروباری لوگ رشتوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ رشتوں کو کاروبار اور کاروبار کو رشتوں میں بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ رشتوں میں اس لئے  مار کھا جاتے ہیں کہ وہ کاروباری لوگ نہیں ہوتے اور رشتوں کو کاروبار نہیں سمجھتے۔ ہم ابھی یہ گتھی نہیں سلجھا پائے تھے کہ سیاست کو کاروبارسے الگ کیوں رکھا جاتا ہے۔ سیاست  دان بھی  کاروبار کی نہیں خدمت کی  بات کرتے ہیں ۔بلکہ  ان کا کہنا ہے کہ وہ خدمت کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ اب خدمت کاروبار بننے لگی ہے تو سوال تو بنتا ہے کہ سیاست کاروبار ہے یا کاروبار سیاست۔ اور اگر سیاست خدمت بلکہ عبادت ہےتو اس کے لئے الجبرے اور اقلیدس میں مہارت کی ضرورت نہیں کہ یہ سیدھی سادی مساوات ہی سمجھ میں نہ آئے کہ اگر خدمت کاروبار ہے اورسیاست خدمت بلکہ عبادت ہے تو سیاست بلکہ سیاسی عبادت عین کاروبار ہے۔

    ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں لیکن رشتے بھی کاروبار بن جائیں تو وفا داری کے رشتے کا کیا ہوگا؟

    سیاست اگر کاروبار ہے تو اس میں وفاداری کیسی؟  شاید ہم الٹا سوچ رہے ہیں۔  کہیں سیاست میں وفاداری کا دعوی اور توقع بھی کاروبار تو نہیں؟

    رہے  شادی بیاہ اور نکاح، ہو سکتا ہے ہم ہی غلط فہمی کا شکار ہیں جو انہیں رشتے سمجھ رہے ہیں۔ ایسے رشتے جوعمربھر وفا کے عہد، باہمی وفاداری کی توقع ،اور وفا شعاری کے دعوے پر استوار ہوتے ہیں۔ غلط فہمی اس لئے کہ رشتے کی جانچ پڑتال کے وقت خدمت مفروضے کے طورپر ذہنوں میں موجود تو ہوتی ہے لیکن اس کا بھاؤ تاؤ نہیں ہوتا۔ صرف طلاق کے وقت خدمت کی ناکامیاں گنا ئی جاتی ہیں جن میں  بیوی کا بانجھ پن، اولاد نرینہ کی صلاحیت سے محرومی، یا میکے جا کر واپس نہ آنا وغیرہ شامل ہوتی  ہیں۔ خاوند کی طرف سے شکایت میں بھی  زن شوئی کی خدمت اور حقوق کا کھل کر ذکر ہوتا ہے۔ ورنہ رشتہ طے کرتے ہوے تو تنخواہ، بینک بیلنس وغیرہ کا یوں پوچھا جاتا ہے جیسے ملازمت کے لئے انٹرویو ہو رہا ہے۔ والدین بھی شادی کر کے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے اب عمر بھر کی خوشحالی کی ضمانت مل گئی ہو۔

    لڑکے والے جہیز وغیرہ کے بارے میں پوچھ تاچھ ضرور  کرتے ہیں، حتی کہ کار اور مکان وغیرہ کے بارے میں بھی تسلی کرتے ہیں۔ لیکن  یہ کاروبار کے نقطہ نظر سے نہیں ہوتا۔

    اب لگتا ہے یہ سب بدل جانے کو ہے۔ اب تو میاں بیوی دونوں کو نہ صرف منی ٹریل کی حفاظت کرنا ضروری ہوگی۔ کسی وقت بھی مانگی جا سکتی ہے۔ بلکہ دونوں کو الگ الگ ایک اکاؤنٹنٹ  رکھنا ہوگا جو ہیر پھیر بھلے نہ کرے لیکن اس کا ماہر ہو  تا کہ بوقت ضرورت  کام آ سکے۔

    وکیل کی بھی ضرورت پڑے گی جو آف شور معاملات میں تجربہ رکھتا ہو۔ یہ سب اس لئے کہ اب شادی بیاہ کو  کاروبار کی طرح نبھانا ہوگا۔ صرف وفاداری سے کام نہیں چلے گا ورنہ۔۔۔۔

    آپ کریم رشتہ آنٹی  کے بارے میں سوال ہی کرتے رہیں گےاور جواب محفوظ رہے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleچوہدری نثار نوازشریف کے جانثار رہیں گے یا ؟
    Next Article خلیج کا بحران ایک نئی شکل میں
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by