Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»چارٹر آف ڈیموکریسی کی تحریر مدہم پڑ چکی ؟
    کالم

    چارٹر آف ڈیموکریسی کی تحریر مدہم پڑ چکی ؟

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانمئی 5, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے نجانے کیوں لگتا ہے کہ اب اس کی تحریر مدہم پڑرہی ہے بالکل اسی طرح جیسے فیکس کے کاغذ پر لکھے حرف کچھ عرصے بعد خود بخود مٹنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

    مئی 2006 ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر سیاسی دلدل سے نکلنے کی کنجی میثاقَ جمہوریت میں تلاش کی تو کسی کو یہ یقین نہ تھا کہ اس معاہدے کی حیثیت اس کاغذ سے بڑھ کر بھی ہے جس پر یہ تحریر کیا گیا تھا۔

    سیاست کا طالب ِ علم ہونے کے ناطے میں پریشان تھا کہ اس تاریخی دستاویز کے اوپر دستخط تو دو ہیں لیکن اس کے درحقیقت فریق تین ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو جانا ہو گا ۔تیسرے فریق نے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کو این آر او کا جھانسہ دیا جو کہ جمہوریت کے لئے مصنوعی پل ِ صراط ثابت ہوا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے جان نشینوں نے سیاسی مفاہمت کامعاملہ خوب نبھایا اور پاکستانیوں نے 2013ء میں پہلی بار ایک سویلین حکومت سے اقتدار پرامن انداز میں دوسری سویلین حکومت کو منتقل ہوتے دیکھا ۔اس سفر میں این آر او سے لے کر میمو گیٹ تک کئی سپیڈ بریکر آئے لیکن چارٹر آف ڈیموکریسی کی فراہم کردہ بنیاد پرتاریخی اٹھارویں ترمیم نے جمہوریت کے گرد مؤثر آئینی حصار قائم کر دیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ بحران کو سیاسی مفاہمت کی حکمت عملی کا شاخسانہ قرار دینے اور اسے پارٹی کے لئے بھاری قیمت گردانے والوں نے بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی نفرت کے محاورے میں ڈھالنے کی کوششیں شروع کر کھی ہیں ۔

    آج چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے نجانے کیوں لگتا ہے کہ اب اس کی تحریر مدہم پڑرہی ہے بالکل اسی طرح جیسے فیکس کے کاغذ پر لکھے حرف کچھ عرصے بعد خود بخود مٹنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

    چارٹر آف ڈیموکریسی ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان پاکستان کے جمہوری مستقبل کے حوالے سے خاکے پر سمجھوتا تھا جسے مخالفین اور ناقدین نے مک مکا کا نام دیا ۔چاہئے تویہ تھا کہ اس چارٹر کی تمام شقوں پر عمل در آمد ہوتا اور اس کے بعد اس کامیاب ماڈل کو چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف گڈ گورننس تک لے جایا جاتا۔لیکن شومئی قسمت سیاسی افق پر کئی نئے سیاسی چہرے ابھر آئے ۔لگتا ہے ہمیں کسی نے ایک بار پھر 90 کی دہائی کی غلام گردشوں میں جھونک دیا ہے ۔دائروں کا یہ سفر یونہی بغیر کسی سمت کے جاری رہے گا ۔وہ سیاسی قوتیں جو چارٹر آف ڈیموکریسی اور 18ویں ترمیم کے عمل کا حصہ نہ تھیں ان کی ان کے بارے میں تفہیم بھی سطحی ہے اور پاکستانی بحران کی بڑی تصویر دیکھنے کی صلاحیت بھی محدود ،وہ کرپشن کے منترے سے سیاسی تبدیلی کی خواہاں ہیں ۔۔1947ء سے لے کر آج تک پاکستان میں کرپشن کی دھن پر ایسا ہی گیت گایا گیا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے پورا ماحول ہی کرپٹ ہو چکا ہے ۔تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے موجد اہل سیاست ہیں اور اگر ہماری کل پارلیمانی آبادی یعنی 1174 اراکین پارلیمنٹ (342ایم این اے ، 104 سینیٹرز )و ممبرانِ صوبائی اسمبلی (چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 728 اراکین )نیک ہو جائیں تو سب کچھ سدھر جائے گا ۔

    چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان کے تمام سیاسی قائدین ایک دوسرے پر الزامات ری سائیکل کرنے کی بجائے ایک ایسے میثاق ِ معیشت پر دستخظ کریں جو محنت کش پاکستانیوں کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لئے ہو۔

    حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کی تقریر پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کرپشن ہماری گھٹی کا مسئلہ ہے ۔اس تقریر میں کرپشن ، رشوت ستانی ، ذخیرہ اندوزی ،اقربا پروری جیسے مسائل کا اچھا خاصا ذکر ملتا ہے ۔پھر جعلی کلیمز اور سرکاری تابعداری پر انعامات و اکرامات کا لامتناہی سلسلہ پلاٹوں اور پرمٹوں کی شکل میں جاری ہو ساری رہا ۔انعامات اور نوازشات کا سلسلہ فقط ان کے لئے تھا جو پالیسی پر گونگے رہنے والے وفاداروں کا ہجوم بن کر رہنے کا سلیقہ جانتے ہوں ۔پھر سرد جنگ میں تو اسلحہ بھی خوب آیا اور ادھر ادھر کی لڑائیاں بھی جاری رہیں ۔ڈرگ اور اسلحہ کی سمگلنگ کے بعد پراپرٹی کی چائینا کٹنگ نے بھی بہت ساروں کو امیر کر دیا ۔ سزا ملی تو فقط محنت کش لوگوں کو جو اپنے تھوڑے بہت ٹیکس بھی ایمانداری سے دیتے رہے ۔باقی سب کے لئے تو ہر دس سال بعد کال دھن کو سفید کرنے کی کوئی نہ کوئی "وائیٹنر سکیم ” آتی رہی ۔

    چارٹر آف ڈیموکریسی کی دسویں سالگرہ مناتے ہوئے کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان کے تمام سیاسی قائدین ایک دوسرے پر الزامات ری سائیکل کرنے کی بجائے ایک ایسے میثاق ِ معیشت پر دستخظ کریں جو محنت کش پاکستانیوں کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لئے ہو۔اسی طرح برباد ہوئے اداروں میں اصلاحات کے لئے ایک میثاق  گورننس بھی کیا جائے جو ہمیں شخصیات اور سیاسی مفادات کے تابع  اداروں کی بجائے حقیقی معنوں میں عوام کے تابع اداروں کا کلچر دے ۔وگرنہ نعرے بازی ، جلسہ جلوس ، وعدے وعید اور توڑ پھوڑ میں تو ہم پہلے ہی خود کفیل ہیں دوچار قدم اور بھی چل لئے تو کیا ہو گا ۔کیا ہماری سیاسی قیادت چارٹر آف ڈیموکریسی کی فراہم کردہ بنیاد پر کوئی ٹھوس سیاسی ڈھانچہ تعمیر کر سکتی ہے ؟اگر آج ایسا نہ کیا گیا تو شاید کل کو اس کا موقع بھی نہ ملے اور سکڑتی سیاسی اسپیس میں اس کی کوئی  گنجائش ہی نہ بچے ۔!

    آخری بات :

    پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ بحران کو سیاسی مفاہمت کی حکمت عملی کا شاخسانہ قرار دینے اور اسے پارٹی کے لئے بھاری قیمت گردانے والوں نے بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی نفرت کے محاورے میں ڈھالنے کی کوششیں شروع کر کھی ہیں ۔جس میں وہ اچھے خاصے کامیاب بھی نظر آتے ہیں ۔لیکن شاید وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ پاکستانی سماج بدل چکا ہے اور لوگ اب آگ کی بجائے امید کی آس رکھتے ہیں کیونکہ ہم اپنا بہت سا وقت بے مقصد لڑائیوں میں پہلے ہی گنوا چکے ہیں ۔وقت ملے تو پی پی پی کے چیئر مین کو چارٹر آف ڈیموکریسی ایک بار ضرور پڑھنا چاہئے ۔

    نئی قیادت کو نئی سوچ اور نئی اپروچ کے ساتھ آگے آنا چاہئے نہ کہ ماضی کا قیدی بن کر غلام گردشوں میں گم!ویسے بھی آج ناقص احتساب کا نظام فقط اسی وجہ سے ہے کہ مؤثر اور غیر جانبدار انہ احتساب کے حوالے سے چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق پر عمل در آمد نہیں کیا گیا ۔

    محض اگلا الیکشن جیت کر اقتدار تک پہنچنے والے سیاستدان اور اپنی قوم کے حوالے سے بڑی تصویر دیکھ کر نئے زمانے تخلیق کرنے والے لیڈر کہلاتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے نئے سیاسی لوگ کس چیز کا "چوائس ” کرتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleضربِ عضب کے بعد زندگی کی تعمیرِ نَو
    Next Article لندن کا پہلا مسلمان مئیر صادق خان کون ہے ؟
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by