صوبہ سندھ کے دوبڑے شہروں کراچی اورحیدرآباد میں اثرونفوس رکھنے والی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ گزشتہ دو تین سالوں سے کئی مشکلات کاسامنا کررہی ہے جس میں لندن میں پارٹی رہنما ڈاکٹرعمران فاروق قتل اورمنی لانڈرنگ کے مقدمات کے معاملات، کراچی میں ستمبر 2013 ء میں رینجرزکی سرپرستی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن میں پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریاں اورمقدمات اور نتیجتا شہرکو ’منٹوں میں بند‘ کرنے کی قوت سے محرومی، حکومت کی جانب سے پارٹی سربراہ الطاف حسین کی تقریر اورتصویرپرذرائع وابلاغ میں پاپندی اورکراچی اورحیدرآباد میں دسمبرمیں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں شہروں سے میئرشپ کے انتخابات کا نہ ہونا شامل ہیں۔ مگرحال ہی میں ایم کیوایم کے ناراض رہنماؤں مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی شہرمیں واپسی، پارٹی سے بغاوت اورنئی جماعت کے اعلان کے بعد پارٹی کو ایک نئے مگراندرونی بحران کا سامنا کرناپڑرہاہے جہاں اب تک دواراکین سندھ اسمبلی اوررابطہ کمیٹی کے دوسابق اراکین نے پارٹی سے علیحدگی اختیارکرکے نئے دھڑے کی حمایت کا اعلان کیاہے۔
کراچی کے سابق میئرمصطفی کمال اورپارٹی کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرانیس قائم خانی کی پہلی پریس کانفرنس کے بعد اب تک دواراکین سندھ اسمبلی ڈاکٹرصغیراحمد اورافتخاراحمد کے ساتھ ساتھ رابطہ کمیٹی کے اہم رکن وسیم آفتاب اور رضا ہارون نے ایم کیوایم سے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے نئے گروہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیاہے جبکہ نئے گروہ کے معاملات سے باخبرذرائع کاکہناہے کہ ابھی مزید اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اورتنظیمی رہنما جوپہلے ہی سے مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کے ساتھ رابطے میں تھے، مرحلہ وارنئی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے جبکہ سندھ اسمبلی اورکراچی بلدیاتی کونسل میں بھی فارورڈ بلاک بنائے جانے کی اطلاعات زیرگردش ہے ۔ گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد کی اس نئے گروپ کی پست پردہ سرپرستی کرنے کا بھی دعوٰی کیاجارہاہے جبکہ ایکسپریس ٹریبیون کی 14 مارچ کی ایک رپورٹ میں ایم کیوایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی وڈپٹی پارلیمانی لیڈرز خواجہ اظہارالحسن اورفیصل سبزواری سمیت حیدرعباس رضوی، خوش بخش شجاعت، ایم پی اے ارم فاروقی سمیت متعدد رہنماؤں کواچانک دبئی، امریکہ اورکینیڈا روانگی کی بھی ایم کیوایم میں جاری بحران کاحصہ قراردیاہے۔
ایم کیوایم کی تنظیمی ساخت کا اگرجائزہ لیاجائے تو رابطہ کمیٹی پارٹی فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک معتبرباڈی سمجھی جاتی ہے مگردرحقیقت پارٹی کی روزمرہ سیاست،آبادیوں اورگلیوں کی سطح پرہونے والے معاملات، انتخابی فتوحات اورمخالفین کوسبق سکھانا کراچی کے 26 سیکٹروں اور200 کے لگ بھگ یونٹوں کی مرہون منت ہے
ایم کیوایم اورکراچی کی سیاست پرمطالعہ کرنے والے مبصرین کا ایک حلقہ مصطفٰی کمال اورانیس قائم خانی کی قیادت میں بننے والے نئے دھڑے کے قیام کو ’اسٹیبلشمنٹ‘ کی سازش قراردیتے ہوئے کہاکہ 1992 ء کی طرح ایک بارپھرایم کیوایم کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے۔پارٹی کے مرکزی فاروق ستار نے الزام عائدکیاہے کہ کراچی کی جیلوں میں مختلف مقدمات میں بند کارکنوں کوتشددبناکر وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے جبکہ نامعلوم فون نمبروں سے ایم کیوایم کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پر وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے دباؤڈالاجارہاہے۔
کراچی میں ستمبر2013 ء سے جاری آپریشن کامرکزی ہدف شہرمیں میں بدامنی، فساد، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اورقتل وغارت پرقابوپانا ہے
سیاسی مبصرین اورعام شہریوں میں بھی یہ رائے بڑھ رہی ہے کہ مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کے پیچھے اسٹیلشمنٹ کا ہاتھ ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کی یا مائنس ون فارمولے کی کوششیں ہوتی رہی ہے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکل سکا۔ یہ بھی عام تاثرہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ پتہ نہیں کوایم کیوایم کی پرتشدد سرگرمیوں میں مصطفی کمال یا انیس قائم خانی ملوث نہ ہوں یا ان دونوں رہنماؤں کو الطاف حسین کے کردارکوجاننے میں بیس سال کاطویل عرصہ گزرا۔ انہیں کراچی ائیرپورٹ سے لے کر ڈیفنس تک کس کے کہنے پرپروٹوکول دیاگیا اوران کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کس کے کہنے پرکئے جارہے ہیں ؟
بعض دفعہ تو اس کے ردعمل میں ایم کیوایم کمزورہونے کے بجائے مزیدمضبوط ہوئی ہے۔کچھ دن قبل ایم کیوایم کی جانب سے فوج کے بارے میں الطاف حسین کے بیان پرمعافی بھی مانگی گئی تھی مگر اب دوبارہ ’اسٹیبلشمنٹ‘ یا فوج پرپارٹی توڑنے کی سازشوں کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ایم کیوایم کافی عرصے سے اسٹیلشمنٹ پرمائنس ون فارمولے کا الزام کرتی رہی ہے مگرماضی خصوصا مشرف دورحکومت میں اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کے سبب ایم کیو ایم کوبھی کافی حدتک مضبوط کیاگیاہے۔البتہ پارٹی کے اندرونی ذرائع اورمبصرین اس بات پربھی متفق ہے کہ موجودہ صورت حال میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین اوران کے رہنماؤں کو اپنے طرزسیاست میں تبدیلی لانی ہوگئی کیونکہ اگر اسٹیبلشمنٹ ساتھ نہ بھی ہوتی تومصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی جیسی آوازیں ایم کیو ایم کے داخلی بحران کوکسی نہ کسی صورت میں ظاہرکرتی۔
مصطفی کمال اورانیس قائم خانی نے اپنی سیاسی مہم جوئی میں جو باتیں کہیں ہے وہ سنجیدہ اورحساس نوعیت کی توہے مگریہی باتیں قانون نافذکرنے والے ادارے کافی عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔اس طرح کے الزامات 1992 ء کے آپریشن کے دوران بھی لگے گئے تھے اورجناح پورکے نقشوں کی مبینہ برآمدگی پر یہ کہاگیاتھاکہ ایم کیوایم کے ساتھ را کے تعلقات ہے۔
معاملات سے باخبرذرائع کاکہناہے کہ ابھی مزید اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اورتنظیمی رہنما جوپہلے ہی سے مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کے ساتھ رابطے میں تھے، مرحلہ وارنئی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے جبکہ سندھ اسمبلی اورکراچی بلدیاتی کونسل میں بھی فارورڈ بلاک بنائے جانے کی اطلاعات زیرگردش ہے ۔
البتہ ایم کیوایم کے اندرونی معاملات سے باخبرصحافیوں کاخیال ہے کہ ایم کیوایم نئے دھڑے کی تشکیل کی تیاریوں سے پہلے ہی سے باخبرتھی جس کااشارہ انہوں نے 17 فروری کوکراچی کے شہریوں کوپندرہ دن کا راشن جمع کرنے کامشورہ دینے کے بیان سے ہوگیاتھا۔ مصبرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض ’قوتوں‘ کی جانب سے ایم کیوایم میں جاری داخلی کشمکش کا فائدہ اٹھایاجارہاہے جبکہ پارٹی کے باغی رہنماؤں نے بھی جاری آپریشن کے سبب کراچی میں پرامن ماحول کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے شہرمیں سیاسی سرگرمیوں کااغازکیاہے۔
عمومی طورپرایم کیوایم جیسی کنٹرولڈ سیاسی جماعتوں میں دراڑ باہرسے نہیں بلکہ اندرہہی سے ڈال کرانہیں کمزورکیاجاتاہے۔یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ مصطفی کمال اورانیس قائم خانی نے ایم کیوایم کی داخلی سیاست کوچیلنج کرکے اپنی جگہ بنانے کی پیش قدمی کی ہے اورنئی سیاسی جماعت کے بجائے فی الحال متحدہ قومی موومنٹ میں متبادل قیادت بن کرسامنے آناچاہتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت دونوں رہنما پارٹی رہنماؤں وکارکنوں اوراردواسپیکنگ کومخاطب کرکے صرف پارٹی قائد الطاف حسین پرتنقیدکررہے ہیں۔
2013 ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کراچی میں ووٹوں کے اعتبارسے دوسری بڑی جماعت ابھرکرسامنے آنے اورایم کیوایم کو غیرمتوقع پرٹف ٹائم دینے پرپارٹی قائدالطاف حسین ایک ٹیلی فونک خطاب میں پارٹی قیادت پرکافی برہم ہوئے اورپارٹی کے یونٹ سطح کے کارکنوں کو رابطہ کمیٹی اوراراکین اسمبلی کی پٹائی کرنے کی ہدایات کی۔ مصطفی کمال اوران کے ساتھ ساتھ اپنی تقاریرمیں باربار اسی بے عزتی کاذکرکرکے اپنے حق میں جذباتی ماحول پیداکرناچاہتے ہیں۔
ایم کیوایم کی تنظیمی ساخت کا اگرجائزہ لیاجائے تو رابطہ کمیٹی پارٹی فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک معتبرباڈی سمجھی جاتی ہے مگردرحقیقت پارٹی کی روزمرہ سیاست،آبادیوں اورگلیوں کی سطح پرہونے والے معاملات، انتخابی فتوحات اورمخالفین کوسبق سکھانا کراچی کے 26 سیکٹروں اور200 کے لگ بھگ یونٹوں کی مرہون منت ہے جوبراہ راست مرکز سے ڈیل کئے جاتے ہیں جبکہ کافی معاملات میں رابطہ کمیٹی صرف پارٹی کا ’سافٹ امیج‘ پیش کرنے کا کام کرتی ہے۔
الطاف حسین کا دست راست سمجھے جانے والے رابطہ کمیٹی کے سابق ڈپٹی کنوینرانیس قائم خانی کراچی کوعملی طورپرچلانے کاتجربہ رکھتے ہیں ۔دی نیوزمیں شائع ایک رپورٹ کے مطابق لندن رابطہ کمیٹی کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کوامریکہ سے واپس بلاکر اورحقیقی دھڑے کے مرکزی رہنما عامرخان کوپارٹی میں کراچی میں رابطہ کمیٹی میں شامل کرنے پرانیس قائم خانی کے پارٹٰی قیادت سے اختلافات شروع ہوئے۔ انیس قائم خانی کافی پرامیدہے کہ کافی عرصے تک کراچی کے تنظیمی معاملات کوبراہ راست ڈیل کرنے اور’گراس روٹ‘ کارکنوں سے مسلسل رابطے ہونے کی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں سیکٹروں اوریونٹوں کے عہدیداروں کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ خیال رہے کہ مصطفی کمال کی جانب سے حکومت سے تشدد میں ملوث ایم کیوایم کے کارکنوں کو عام معافی دینے کابھی مطالبہ کیاگیاتھا جس کافائدہ اٹھا کرایک بڑی تعداد میں سیکٹروں اوریونٹوں کے عہدیداران اپنے سابق باس انیس قائم خانی کی طرف آسکتے ہیں جس میں کامیابی کی صورت میں ایم کیوایم کوبڑا دچھکا لگ سکتاہے۔ایم کیوایم کی جانب سے مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی پہلی پریس کانفرنس کے بعد شہر میں مختلف اٹھارہ مقامات پرمظاہروں کے انعقاد کوبھی بعض حلقے سیکٹروں اوریونٹوں میں متوقع بغاوتوں کوروکنے کے لئے حکمت عملی کی ایک حصہ تھی۔
1992 ء میں ہونے والے پارٹی تقسیم سے مختلف کیسے؟
1992 ء میں کراچی میں جاری فوجی آپریشن کے دوران ایم کیوایم (اس وقت مہاجر قومی موومنٹ) میں دھڑے بندی، حقیقی کے نام سے ایک نئے گروہ کے وجود میں آنے اوردونوں دھڑوں کے کارکنوں میں مسلح تصادم کا اگرجائزہ لیا جائے تو آج اور1992 ء کے حالات میں کافی فرق پایاجاتاہے۔ حاضرسروس میجرکلیم الدین کے اغواء اورتشددمیں ایم کیوایم کے ملوث ہونے پر شروع کیے گئے فوجی آپریشن ’کلین اپ‘ کی شدت آج کے آپریشن سے کافی سخت تھا۔ ایم کیوایم یہ دعویٰ کرتی رہتی ہے کہ 1992ء کے آپریشن میں ایم کیوایم کے درجنوں کارکنان ہلاک اورگرفتاریاں ہوئی، پارٹی قیادت زیرزمین چلی گئی اورالطاف حسین کو لندن جانا پڑا۔
ساتھ ہی ساتھ ایم کیوایم کے دوبانی اراکین آفاق احمد اورعامرخان کی قیادت میں ایم کیوایم حقیقی کے نام سے ایک دھڑا وجود میں آیا جس میں اس وقت کے متعدد اضلاع کے سیکٹرانچارجز اوراراکین قومی وسندھ اسمبلی بھی نئے دھڑے میں شامل ہوئے تھے۔ لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، ملیر، لائنزایریا کے پورے علاقے اورلیاقت آباد اورنیوکراچی کے کچھ علاقے حقیقی کے زیراثر آئے جہاں ایم کیو ایم کے کارکنوں اوران کے اہل خانہ کے لئے ’نوگوایریاز‘ بن گئے تھے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے زیراثرکراچی کے مہاجراکثریتی علاقوں میں حقیقی کے کارکنوں اوراہل خانہ کے لئے نوگوایریاز بن گئے تھے۔ نوگوایریاز کی اصطلاح بھی 1992ء میں ایم کیوایم کے دونوں دھڑوں کے مابین پرتشدد حملوں کے دوران وجود میں آئی۔ دونوں گروپوں کے مابین پرتشدد حملے 2003ء تک جاری رہے جب پرویزمشرف دورحکومت میں فوجی آمریت کی حمایت کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ کوحقیقی کے خلاف کاروائیوں کی بھرپوراجازت دی گئی اورسرکاری مشنری اورطاقت کے زورپرحقیقی سے ان کے علاقے چھین کرمتحدہ قومی موومنٹ قابض ہوگئی اورحقیقی کے کارکنان کراچی کی پختون اوربلوچ بستیوں میں آباد ہوگئے۔ آفاق احمد اورعامرخان کوگرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔ 2010ء تک جیل میں ہی آفاق احمد اورعامرخان میں ہی اختلافات پیداہوگئے اورکراچی کی پختون بستیوں خصوصا شیرپاؤکالونی میں دونوں گروپوں کے مابین مسلح تصادم شروع ہوگئے۔ عامرخان نے جیل سے رہائی کے بعد 2011 ء میں متحدہ قومی موومنٹ میں دوبارہ شمولیت اختیارکرلی۔

کراچی میں ستمبر2013 ء سے جاری آپریشن کامرکزی ہدف شہرمیں میں بدامنی، فساد، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اورقتل وغارت پرقابوپانا ہے اوراس حوالے سے پولیس اوررینجرز اینٹیلی جنس اداروں کی مدد سے ٹارگٹڈ کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ شروع میں آپریشن کا ہدف مذہبی شدت پسند گروپوں بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے اور فرقہ پرست گروہ اورشہرکے بعض علاقوں خصوصا لیاری میں فعال جرائم پیشہ گینگز تھے مگر بعد میں آپریشن کا دائرہ کار سیاسی اورمذہبی جماعتوں تک بڑھایاگیا جس میں متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست رہی۔ایم کیوایم کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق تقریبا ڈھائی سال سے جاری آپریشن میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کی تعداد سوسے کم جبکہ گمشدہ کارکنوں کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ گرفتارکارکنوں میں بھی اکثریت کورہائی یا ضمانت پرچھوڑدیاگیاہے۔البتہ چھاپوں کے خوف سے ایم کیو ایم کے ’عسکری ونگ‘ سے وابستہ کارکنان کی بڑی تعداد زیرزمین چلی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کی ماضی کی طرح منٹوں میں شہرکوجبری طورپربندکرنے کی قوت پرکافی اثرپڑاہے جبکہ حقیقی جیسی مخالف جماعت کے کارکنوں کوبھی اپنے علاقوں میں بھی واپس جانے سے نہیں روکاجاسکاہے۔ایم کیوایم کے ایک سینئررہنما کاکہناہے کہ مشرف دورحکومت میں جہاں ایم کیوایم کواپنے مخالفین کوکافی حدک تک کمزورکرنے اورطاقت حاصل کرنے کاموقع ملا، وہی اینٹیلی جنس اداروں نے بھی تحریک کے اندرہی ایک بڑی تعداد میں ایجنٹس پیداکرلئے جس کی وجہ سے ایم کیوایم اندرونی طورپر بحران سے دوچارہے۔
البتہ انتخابی محاذپرمتحدہ قومی موومنٹ کی قوت پرکوئی اثرنہیں پڑاہے جس کی واضح مثال این اے 246 کاضمنی انتخاب اورکراچی میں دسمبرمیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات تھے جس میں متحدہ قومی موومنٹ نے اردواسپیکنگ کمیونٹی کے اکثریتی علاقوں سے شاندارکامیابی حاصل کی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ اورکراچی کی سیاست پراثرات
اس بات پرسیاسی حلقے متفق ہے کہ کراچی آپریشن سے قبل اگرشہرمیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کی بغاوت سامنے آتی توآدھا شہرجل رہاہوتا۔ کراچی آپریشن کے سبب تشدد پارٹی میں تقسیم کے سبب متوقع تشدد نہ ہونے کے امکانات ہے۔قانون نافذکرنے والے ادارے کے ایک سینئراہلکارکے بقول متحدہ قومی موومنٹ کے اندرسے ملنے والی معلومات سے یہ اندازہ ہورہاہے کہ متحدہ قومی موومنٹ میں ’الطاف حسین کے بعد‘ کی سیاست کے حوالے سے صف بندیاں ہورہی ہے اورمصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی اس کشمکش کاحصہ ہے۔
البتہ کراچی کی اکثریتی اردواسپیکنگ کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی متبادل سامنے نہیں آرہا جس کی اہم وجہ قومی سیاست کی دعویدار بڑی سیاسی جماعتوں خصوصا پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(نواز) اورپاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی کی سیاست سے عدم توجہی بھی ہے۔
قیام پاکستان سے لے کرمتحدہ قومی موومنٹ کی تشکیل تک کراچی کی اردواسپیکنگ کمیونٹی میں جماعت اسلامی کافی حد تک اوربریلوی مسلک کی جمیعت علمائے پاکستان کچھ علاقوں میں اپنا اثرونفوس رکھتی رہی تھی مگرجماعت اسلامی ہی کے کوکھ سے جنم لینے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے دونوں مذہبی جماعتوں کی سیاست کوختم کررکھ دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کراچی میں تاج حیدر، رضاربانی، راشدربانی اوردرجنوں دیگرشخصیات رکھنے کے باوجود اردواسپیکنگ کمیونٹی میں کوئی جگہ نہ بناسکی اورصرف کراچی کے بلوچ اورسندھی آبادیوں میں اپنا وجود رکھتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں 2013ء کے انتخابات میں ووٹوں کے حساب سے دوسری بڑی جماعت بن کر متحدہ قومی موومنٹ کے لئے ایک چیلنچ بن کر سامنے آئی مگربعد میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت خصوصا عمران خان کی کراچی کی تنظیم کونظرانداز کرنے اوربعض نامناسب بیانات جیسے ’کراچی کوآزاد کرانے آرہاہوں‘ کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سیاسی طورپراستعمال کیاگیا اورحالیہ بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بری طرح فلاپ ہوگئی۔
کراچی کی اکثریتی اردواسپیکنگ کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی متبادل سامنے نہیں آرہا جس کی اہم وجہ قومی سیاست کی دعویدار بڑی سیاسی جماعتوں خصوصا پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(نواز) اورپاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی کی سیاست سے عدم توجہی بھی ہے۔
جامعہ کراچی میں سیاسیات کے ایک استاد کاکہناہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے متبادل کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے سیاسی جماعتوں کوجنجھوڑنا ضروری ہے کیونکہ جب تک یہ جماعتیں کراچی کی اردواسپیکنگ کمیونٹی کے درمیان آکراپنافعال اورمضبوط سیاسی کردار ادانہیں کرے گی، اس وقت تک متحدہ قومی موومنٹ کاسیاسی توڑممکن نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمٰن نے راقم کودئیے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ کراچی میںآپریشنوں کی وجہ سے متحدہ قومی موومنٹ کمزورہونے کے بجائے مضبوط ہوجاتی ہے کیونکہ وہ ہربار اردواسپیکنگ کمیونٹی میں یہ تاثردینے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ یہ آپریشن ان کے خلاف ہے۔
ایم کیوایم کے نئے دھڑے کے قیام نے بظاہرسندھ خصوصا کراچی کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے البتہ ایم کیوایم کے اندر یا سندھ کی سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی فی الحال مشکل ہے۔ الطاف حسین کی موجودگی میں ایم کیوایم میں کوئی بڑی تقسیم انتہائی مشکل ہے ۔
مضون نگارایک صحافی اورمحقق ہے اور Karachi in Turmoil نامی ایک کتاب کے مصنف بھی ہے۔
