Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مَیں خود سے باربار ایک سوال کرتا ہوں
    کالم

    مَیں خود سے باربار ایک سوال کرتا ہوں

    احمد اعجازBy احمد اعجازاگست 12, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یقین جانیے جب خیالات کو پنجروں میں مقید کر لیا جائے اور مطالعہ کے تازہ در نہ کھولے جائیں تو زندگی بخش سوچیں پروان چڑھنے سے معذور ہو جاتی ہیں اور جب کتابوں کوبصیرت اور آگاہی سے تہی کر لیا جائے تو لفظ فرسودہ ہو کر بُو دینے لگتے ہیں

    مَیں یہ خود سے کئی بار کئی مواقعوںپر سوال کر چکا ہوں کہ کیا ہمارا معاشرہ کتاب دوست معاشرہ ہے؟ ہر بار میرا خود کو دیا جانے والا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ ہم کتاب دشمن لوگ ہیں….کہنے والے کہیں گے کہ ہمارے ہاں بے شمار مصنفین ہیں ، بے شمار پبلشرز حضرات ہیں اور سیکڑوں کتابیں ہر سال شائع ہوتی ہیں ۔پھر ہمارا معاشرہ کیوں کر کتاب دوست معاشرہ نہیں ہے ؟ہم کس طرح کتاب دشمن لوگ ہیں ؟کہنے والوں سے گزارش ہے کہ سیکڑوں شائع ہونے والی کتابوں میں سے ایسی کتنی کتابیں ہیں جن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ،جنھیں دوست بنایا جا سکتا ہے اور جنھیں پڑھ کر وقت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا….؟کہنے والوں سے ایک گزارش یہ بھی ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں کتابیں لکھی تو زیادہ جاتی ہیں مگر پڑھی کم جاتی ہیں اور لکھنے والوں کو خود پڑھنے کی عادت نہیں ہوتی۔

    جب ہم طالبِ علم تھے ،یہ تب کی بات ہے کہ ایک نجی تعلیمی ادارہ میں ایک ناول نویس خاتون خصوصی دعوت پر لیکچر دینے تشریف لائیں ،تعارف کے مرحلے میں طلبا وطالبات کوجب یہ معلوم پڑا کہ مصنفہ نے لمحہ

    ¿ موجود تک اٹھارہ کتابیں لکھ رکھی ہیں،تو ہال میں تالیاں بجنا شروع ہو گئیں ،تالیوں کی گونج میں کسی نے پوچھا کہ میڈم !آپ نے اٹھارہ کتابیں لکھی ہیں تو پڑھی کتنی ہیں ؟اس سادہ سے سوال پر مصنفہ اس قدرغصہ ہوئیں کہ لیکچر دیے بنا چل دیں ….اسی طرح ایک واقعہ مزید ملاحظہ کریں ایک دن ایک اسسٹنٹ پروفیسر صاحب جو پانچ کتابوں کے مصنف تھے،کالج میں ایم اے کی سطح کی کلاسوں کو پڑھاتے اور مختلف یونی ورسٹیوں میں گاہے گاہے ایم فل کی کلاسوں کو لیکچر دینے پر بھی بلائے جاتے تھے ،ہماری موجودگی میں اپنے کالج کی لائبریری میں تشریف لائے،مَیں اُس وقت وہاں سے نکلنے ہی والا تھا مگر لائبریرین نے چائے اور بسکٹ کے لیے روک لیا ۔ پوچھا کہ یہ تکلف کس خوشی میں ؟بولے،یہاں گزشتہ نو برس سے لائبریری میں ڈیوٹی دے رہا ہوں ،اس پوری مدت میں پروفیسر صاحب نے پہلی بار لائبریری کو رونق بخشی ہے…. اس خوشی میں….اس پر، پروفیسر موصوف نے بغیر کسی شرمندگی کے زور دار قہقہہ لگایا اور چائے منگوانے کو کہا….

    یقین جانیے جب خیالات کو پنجروں میں مقید کر لیا جائے اور مطالعہ کے تازہ در نہ کھولے جائیں تو زندگی بخش سوچیں پروان چڑھنے سے معذور ہو جاتی ہیں اور جب کتابوں کوبصیرت اور آگاہی سے تہی کر لیا جائے تو لفظ فرسودہ ہو کر بُو دینے لگتے ہیں ۔پھر جب باسی لفظ ہمارے نصاب میں شامل ہوجاتے ہیں تو ہمیں زندگی کے بڑے اور مرکزی دھارے سے بہت دور کر دیتے ہیں اورذہنی ارتقا ءکو روک دیتے ہیں ۔کہنے والے جب یہ کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کتاب دوست معاشرہ ہے تو مجھے کئی واقعات یاد آجاتے ہیں….یہاں صرف ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے ۔چند ایک برس اُدھر ایک معروف یونی ورسٹی کے کتب خانے میں کتابیں دیکھتے دیکھتے جب ایک اہم کتاب جو تحقیق سے متعلق تھی الماری سے اُٹھائی اور نظر ڈالی تو معلوم پڑا کہ آخری بار دس سال پہلے ایشو ہوئی تھی….یہ امر واضح رہے کہ ہر اُس یونی ورسٹی میں طلباو طالبات کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی جاتی ہے….اسی طرح آپ کسی نجی تعلیمی ادارے میں چلیں جائیں وہاں آپ کو لائبریری اول تو نظر نہیں آئے گی اور اگر آئے بھی گی چند ایک کتابیں وہ بھی ادھر اُدھر سے مانگی تانگی ہوئی،حالانکہ وہ ادارہ لاکھوں سالانہ بچت کر رہا ہو گا۔ مَیںذاتی طور یہ نتیجہ اخذ کر چکا ہوں کہ(اہلِ وطن ذہنی،نظری اور فکری پراگندگی کی دھند میں گھِرے ہوئے ہیں،کچھ دکھائی دے رہا ہے نہ سجھائی ،اگر کچھ دکھائی اور سجھائی بھی دے رہا ہے تو سب ایک جیسا، جہاں چیزوں کے درمیان امتیاز کا قاعدہ نہیں رہا کہ گدھے گھوڑے ایک برابر ہیں وہاں تشکیک کا پہلو اس قدر خوف ناک حد تک نمایاں ہے کہ شک کا خطرناک جبڑوں والا کتا تھوتھنی اُٹھا اُٹھا کر بھونکتا رہتا ہے اور چپڑ چپڑ ہمارا منہ چاٹتا رہتا ہے) ہمارا معاشرہ کتاب دوست معاشرہ نہیں ہے….ہم سب اپنی اپنی ضرورتوں سے محبت اوردوستی کرتے ہیں،کتابوں سے نہیں ….

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم کب تک لاشیں اُٹھاتے رہیں گے ؟
    Next Article تصورِ پاکستان سے انحراف کیوں؟
    احمد اعجاز

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by