Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جنگ مذاق نہیں
    کالم

    جنگ مذاق نہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 25, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    "مجھے جنگ سے نہیں، جنگ کے بعد کی صورتحال سے ڈر لگتا ہے۔” یہ ڈائیلاگ مشہور سیریز Game of Thrones میں ایک کردار کی زبانی سننے کو ملتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں آج کی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے تو ایک مخصوص طبقہ جنگ کو ایک تفریح بنا دیتا ہے۔ میمز بنتی ہیں، لطیفے گھڑے جاتے ہیں، اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے جنگ کسی فلم کا سین ہو جو سب کو محظوظ کرے گا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جنگ سے ہوگا کیا؟

    جنگ صرف گولیوں، ٹینکوں اور میزائلوں کا نام نہیں۔ یہ بھوک، خوف، اور بربادی کا دوسرا نام ہے۔ جب جنگ چھڑتی ہے تو وہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہر گلی، ہر بازار، ہر گھر تک اس کی لپیٹ آتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ 1965، 1971 اور کارگل کی جنگوں نے دونوں ممالک کے عوام کو جو نقصان پہنچایا، وہ آج بھی معیشت، ذہنی صحت، اور تعلقات کی صورت میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ آج کی نسل جس نے نہ جنگ دیکھی ہے نہ اس کی تباہی، وہ اسے صرف اسکرین پر دیکھ کر ہیرو ازم سمجھتی ہے۔

    انڈین میڈیا جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔ ایک طرف اینکرز قوم پرستی کے نعرے لگا رہے ہیں، تو دوسری طرف ہتھیاروں کی نمائش کی جا رہی ہے۔ مگر وہ بھول رہے ہیں کہ اگر جنگ ہوئی تو نقصان صرف پاکستان کا نہیں، بھارت کا بھی ہوگا۔ عالمی ماہرین، جیسا کہ نوم چومسکی اپنی کتاب Media Control میں لکھتے ہیں کہ میڈیا کس طرح عوامی رائے کو قابو میں رکھ کر اسے جنگ کی طرف مائل کرتا ہے، اور یہی کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔ لوگ بھول گئے ہیں کہ اسلحے کے سوداگر صرف خون بیچتے ہیں، اور جنگ کا سب سے زیادہ منافع انہیں ہوتا ہے۔

    جب جنگ کے بعد حالات بگڑتے ہیں، تو سب سے پہلے نوکریاں جاتی ہیں، مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے، اور غریب آدمی روٹی کے لیے ترستا ہے۔ لوگ چوہے، کتے، اور گندم کے دانے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جیسے کہ شام، عراق اور افغانستان میں ہوا۔ عورتیں اپنے گلے کے زیورات بیچ کر سبزی خریدتی ہیں۔ یہ منظرنامے فلمی نہیں، بلکہ حقیقی ہیں۔

    ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب دہشتگردی عام تھی۔ طالبان کے دور میں جینا، روز گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچنا کہ شاید واپس نہ لوٹ سکیں، یہ ہمارا معمول تھا۔ ہم نے بم دھماکوں کے بعد اپنے ہی پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ کیا واقعی ہم ایک اور غیر ضروری جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ کیا ایک قوم ہونے کے ناطے ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ ہمیں محبت، تعلیم، روزگار، صحت اور ترقی کی بات کرنی چاہیے؟

    سوشل میڈیا پر چند ہزار لائکس یا ری ٹویٹس کے لیے جنگی میمز بنانے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ اگر جنگ چھڑ گئی، تو انٹرنیٹ، بجلی، پانی، گیس — سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ اسکول بند، اسپتال ویران، اور سڑکیں خالی ہوں گی۔ تب صرف ایک خواہش بچے گی — کاش یہ جنگ نہ ہوتی۔

    وقت ہے سوچنے کا۔ جنگ سے محبت نہیں، انسانیت سے محبت کریں۔ مذاق کا وقت تب ہوتا ہے جب زندگی محفوظ ہو۔ جب زندگی ہی نہ بچے تو ہنسی کس بات کی؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایک بڑی تبدیلی
    Next Article پاکستان میں قومی جمہوری دور اور وفاقی ریاست کا جمہوری چیلنج
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    سلفیت زدہ جامعات اور فنون لطیفہ

    جون 2, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by