Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»حج اور سیکیورٹی
    کالم

    حج اور سیکیورٹی

    ممتاز حسینBy ممتاز حسیناگست 24, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمارے ہاں کہیں دو چار بندے جمع ہو جائیں تو قانون نافذ کرنے، امن بحال رکھنے، سیکیورٹی دینے اور معلومات جمع کرنے کو قسم قسم کے اداروں کے لوگ پہنچ جاتے ہیں۔ اکثر ان اداروں کے بیچ افہام و تفہیم کا فقدان ہوتا ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ عموماً ایک ادارہ دوسرے ادارے کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا نظر آتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ہجوم سے زیادہ سرکاری لوگ ہوتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد افسروں کی ہوتی ہے۔

    حج کے دوران مکہ میں اس کی اصل آبادی سے کوئی تین گنا لوگ جمع ہوتے ہیں۔ وہ بھی غیر ملکی جو اس ملک کی زبان اور قاعدے قانون سے ناواقف۔ پچیس تیس لاکھ لوگ ایک عمارت (حرم شریف) کے اردگرد رہتے ہیں اور روزانہ پانچ وقت اس کی طرف آتے ہیں۔ حج کے ایام میں منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں تو ناقابل یقین ہجوم ہوتا ہے۔ اس ہجوم کے ساتھ قسم قسم کے مسائل ہوتے ہیں، مثلاً مختلف راستوں اور مناسک کی ادائیگی کی جگہوں پر ہجوم کو برابر تقسیم کرنا کہ کہیں ہجوم حد سے بڑھ نہ جائے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی تقسیم، ٹرانسپورٹ کی سہولت کا انتظام وغیرہ پیچیدہ معاملات ہیں۔ پھر خواتین اور مردوں کے مسائل ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہجوم کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ایک کثیر فورس کی ضرورت ہونی چاہیے۔

    لیکن عملاً حج کے دوران بہت کم فورس نظر آتی ہے۔ حرمین کے اندر ان کی اپنی فورس ہے جس کا اصل کام ہجوم کو مینیج کرنا لگتا ہے۔ یعنی لوگوں کو یکساں تعداد میں ہر طرف تقسیم کرنا تاکہ ایک جگہ رش کی صورت حال نہ بنے۔ یہ بہت تربیت یافتہ لوگ لگتے ہیں اور اور ان کا ریسپانس تیز ہوتا ہے۔ وہ ممکن حد تک حاجیوں سے نرم رویہ رکھتے ہیں اور بہت کم کسی کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ تاہم ان کے بے لچک رویے کی وجہ سے سب ان سے ڈرتے ہیں۔ ایک بار حرم مکہ کے بس ٹرمینل پر باہر نکلنے والے حجاج دو قطاروں میں بسوں کی طرف جا رہے تھے۔ ایک بندہ اپنی قطار کے جنگلے کو پھلانگ کر دوسری قطار میں چلاگیا۔ کافی دور سے فورس والے نے اسے دیکھا، آکر اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا اور ایک منٹ اپنے پاس روک کر چھوڑ دیا۔ اس سے زیادہ اس نے ایک لفط بھی اس سے نہیں بولا۔

    ہوٹلوں میں جہاں چھ سات سو بندے ایک بلڈنگ میں رہتے ہیں دو تین وردی پوش لڑکے سیکیورٹی کے لیے لاونج میں بیٹھتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اتنے نو عمر لڑکے کسی فورس میں کیوں بھرتی ہوتے ہیں۔ ایک دن حرم جانے کے لیے بس کے انتظار میں وہاں کھڑا تھا کہ ان میں سے ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ حرم شریف میں میرے لیے دعا کریں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نے اپنا کارڈ دکھایا کہ بوائے سکاوٹ ہے۔ معلوم ہوا کہ سعودی بوائے سکاوٹس کی بڑی منظم تنظیم ہے اور حج کے دوران وسیع پیمانے پر ذمے داریاں نبھاتی ہے۔ حج کے دوران منیٰ اور عرفات میں کیمپوں کے اندر تقریباً ساری سیکیورٹی، کراوڈ مینیجمنٹ اور امدادی کام یہی نو عمر لڑکے کر رہے تھے۔ وہ ڈیوٹی میں بڑے سخت اور کافی تربیت یافتہ معلوم ہو رہے تھے۔ منیٰ میں ان کا شاندار حج ہیڈ کوارٹر بھی نظر آیا۔

    عام پولیس منیٰ اور عرفات کی سڑکوں پر تھوڑی بہت نظر آئی۔ ٹریفک پولیس بھی خال خال نظر آتی ہے اور عموماً ایک چھوٹی سی گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے نگرانی کرتے ہیں۔ ڈرائیور قوانین کی سخت پابندی کرتے ہیں حالانکہ پولیس کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا۔ طائف میں ایک جگہ ہمارے ٹیکسی ڈرائیور نے سڑک کے کنارے گاڑی اہستہ کی تو کہیں سے پولیس والا نازل ہوگیا اور جرمانہ کردیا۔ حالانکہ گاڑی پوری طرح رکی نہیں تھی۔
    اتنے سارے ہنگامے کے دوران کہیں فوجی نفری یا گاڑی پر نظر نہیں پڑی۔ جدہ سے مکہ، مکہ سے طائف اور مدینہ تک کوئی ہزار کلومیٹر چلے ہونگے، لیکن کہیں کوئی فوجی کیمپ، چھاونی بلکہ کانوائے تک نظر نہیں آئی۔

    جو بھی فورس والے نظر آتے ہیں ان میں سے کسی کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا۔ بندوق اور پستول تو دور کی بات، ڈنڈا بھی نہیں۔ ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ عرفات میں ایک پولیس افسر کی کمر میں پستول تھا، لیکن میں نے خود وہ بھی نہیں دیکھا۔ البتہ سڑکوں پر ڈیوٹی کرنے والوں کی بیلٹ میں چھتریاں بندھی ہوئی تھیں۔

    فورس والوں کے علاوہ کوئی سول افسر (جس کے ساتھ سیکورٹی، پروٹوکول وغیرہ ہو) نظر نہیں آیا۔ حرم مکہ کے باہر کافی فاصلے پر ایک پولیس سٹیشن کی عمارت ہے لیکن وہاں بھی باہر کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

    مسجد نبوی کے ہر بڑے دوازے کے باہر کی طرف اونچی شاندار کرسیوں پر دو دو افراد معزز لباس پہنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ یہاں کے روایتی دربان ہیں جن کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے ان کی حیثیت علامتی ہے اور وہ معمول کی نگرانی سے زیادہ کچھ نہیں کرتے۔

    Hajj
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجمہوریت کی موت، کیسے ؟
    Next Article گلگت بلتستان کے مذہبی اور سماجی مشترکات
    ممتاز حسین

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by