طاقت کے استعمال سے مزید نفرتیں جنم لیتی ہیں، بلوچستان کا معاملہ سیاسی ہے، اس کا سیاسی حل نکالنا ناگزیر ہے۔ گہرام اسلم بلوچ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں، وہ شعبہ ابلاغیات میں ماسٹر کرچکے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کے متعلق لکھتے آرہے ہیں۔ انتہا پسندی اور بلوچستان میں جاری کشیدگی پہ ان کی گہری نظر ہے۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی متحرک سیاسی رہنما تھے اور وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن( پجار) کے مرکزی چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں انھوں نے بلوچستان میں نئی تحریک کے آثار دیکھتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ (مدیر)
بلوچستان میں "عزت و احترام ” کا نعرہ اب ایک نیا بیانیہ بن کر سامنے آ چکا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے تحت بلوچستان میں کسی بھی وقت کوئی بھی سیاسی جماعت یا سول سوسائٹی عوام کی بڑی تعداد کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس وقت بلوچستان کے تمام شہری جس ماحول میں میں زندگی گزاررہے ہیں وہ اس میں ہر قدم پر اپنی عزت و وقار کو مجروح ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی سے بلوچستان میں تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ عام آدمی کو ہر دوسری چیک پوسٹ پر اتار کر تلاشی لی جاتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ "کدھر سے آ رہے ہو کدھر جا رہے ہو”۔ یہ سوال متعلقہ انتظامیہ کے مطابق اس لیے کیا جاتا ہے کہ بلوچستان امن و امان کے حوالے سے ایک غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے اور امن و امان کو برقرار رکھنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تاہم عوام کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سوال سکیورٹی کے نام پہ عوام کی تذلیل کی نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاس ہے جو شعوری طور پر بلوچ اور پشتون عوام کو یہ احساس دلاتی ہے کہ بلوچستان ایک کالونی نما سر زمین ہے جہاں کسی کو شعوری، تنقیدی یا آزادانہ سوچنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ عوام اس رویے سے تنگ آ چکے ہیں اور سفید پوش شہریوں نے کئی بار چیک پوسٹس پہ اس طرح کے رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور کئی بار شہریوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں کچھ مسائل موجود ہوں تو کیا وہاں امن و امان قائم رکھنے کےلیے عام شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے گا جس سے شہری اپنی تضحیک محسوس کریں؟ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ اس تنازعے کی شدت کو کم کرنا بلوچستان یا ملک کے مفاد میں ہے اور مقتدرہ قوتیں اس پر سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے جامع متبادل پالیسی مرتب کرنا ناگزیر ہے کہ جس میں عوام کی عزت مجروح نہ ہو۔ ایک معتدل ماحول ہی میں بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کی عزت مجروح ہوگی تو عام شہری ریاست کے ساتھ تعاون کیسے کریں گے۔ جہاں کہیں بھی کوئی تحریک یا تنازعہ چل رہا ہو وہاں عام شہری جو اس کا حصہ نہیں ہوتے وہ بھی متأثر ہوتے ہیں۔ایسے علاقوں میں زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھا جائے اور احتیاط برتی جائے۔ عام لوگ ہی ریاست کا اثاثہ ہوتےہیں جن کا اعتماد ریاست کی اصل طاقت ہے۔ عام شہریوں اور ان کے سیاسی رہنماؤں کی سرعام تضحیک مسائل کو اور بڑھاوا دے گی۔
سیاسی جماعتیں بھی اسی وقت عوام کو ریاستی بیانیے کے قریب لاسکیں گی جب وہ ان کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچا سکیں گی۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اس کے سیاسی حل کے لیے قوم پرست قیادت کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے۔اب بھی وقت ہےکہ ریاست اپنا رویہ تبدیل کر ے، جیسا کہا جاتا ہےکہ "ریاست ماں جیسی ہوتی ہے”۔ ریاست صرف ایک دہائی تک بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پہ نظرثانی کر کے ایک "ماں جیسی ریاست” بن کر بلوچستان کو ایک اولاد کی نگاہ سے دیکھے۔ اپنی تمام تر حکمت عملیوں پہ نظرثانی کر کے اپنے رویوں میں بہتری اور تبدیلی لائے تو ایک دہائی کے بعدبلوچستان کے حالات بالکل مختلف ہوں گے۔ جنگ کو شورش تک محدود کیا جانا چاہیے، اس کا بدلہ عام لوگوں یا طالب علموں سے نہ لیا جائے تو حالات ضرور بہتری کی طرف جائیں گے۔
ریاست چاہتی ہے کہ سیاسی جماعتیں بلوچستان کے تنازعے کو ختم کرنے یا اس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اپنی پالیسی سازی میں ان سیاسی جماعتوں کی رائے کو اہمیت ہی نہیں دیتی۔ ایسے میں سیاسی لوگ کیسے عام لوگوں سے کوئی مطالبہ منوا سکتے ہیں یا کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلوچ عوام یہ سمجھ گئے ہیں کہ ریاستی پالیسی سازی میں ان کے نمائندوں کی کیا حیثیت ہے۔ بلوچستان سے متعلق اب تک جتنی بھی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست صرف تنازعہ کو محور بناکے ہی فیصلے کرتی ہے اور طاقت کے استعمال کو مؤثر مانتی ہے جبکہ اس میں سیاسی پہلو نظر اندازہوتا ہے۔فیصلہ سازی کے عمل میں عوام اور ان کے حقیقی نمائندے نظر نہیں آتے۔ صرف چند لوگوں کی بات سنی جاتی اور انہی پہ تکیہ کیا جاتا ہے جو سماج میں گہرا اثرورسوخ نہیں رکھتے۔
جب تک رياست نے بلوچستان ميں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی خاطر سخت حربے استعمال نہيں کیے، اس وقت تک بيشتر بلوچ قوم پرست جماعتوں نے سخت گير موقف نہيں اپنا يا تھا۔ وه پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے اندر ره کر زياده سياسی خود مختاری اور معاشی اور معاشرتی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کررہی تھيں۔ مذاکرات کے ذريعے مسئلے کا سياسی حل ڈھونڈنا ممکن ہے۔ قوم پرست تحريک کمزور اور منقسم ہےاور زياده تر بلوچ آزادی کے انتہا درجے کے مطالبے کے مقابلے ميں خود مختاری کے حق ميں ہيں۔ چونکہ اسلام آباد بندوق کی نوک پرقوم پرستوں کو کچلنے ميں کامياب نہيں ہوسکا ہے تو شايداب وه ايک سياسی حل پر آماده ہو۔
لیکن کوئی بھی سياسی حل اس وقت تک دير پا نہيں ہوسکتا جب تک انسانی حقوق کی صورتحال ميں بڑے پيمانے ميں بہتری نہيں آتی اور ہر بلوچ شہری کے تحفظ کی ضمانت نہيں دی جاتی۔ جو سياسی جماعتيں پاکستان کے فريم ورک ميں ره کر اپنے حقوق کی بات کررہی تھيں ان کو بھی رياست نے اتنا دبا يا اور مجبور کيا کہ وه اپنے موقف ميں سختی لائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں پیراڈائم شفٹ آجائے، نئی نسل کو فکری اور سیاسی طور پر ایک نئے عہد میں سانس لینے کا احساس ہو، نظریاتی سیاست کے لیے نوجوانوں کو سیاسی پیش رفت میں تخلیقی پیش رفت کرنے کی مکمل آزادی ملے گی تو بلوچستان بآسانی ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ بنیادی طور پر سیاسی آزادی ملنے کے امکانات زیادہ ملیں گے تو نئی نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ بلوچ مورخین سیاسی موضوعات پر آزادی کے طلبگار ہیں، وہ ملکی سیاست پر آزادی سے لکھنے کے منتظر ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ میڈیا وہ باتیں نہیں لکھ سکتا جو واقعاتی حقائق ہیں اور نئی نسل ان سے آشنا ہونا چاہتی ہے۔ بزرگ اور نوجوان سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مکالمے کا آغاز نیک نیتی سے ہو تو سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں، لیکن ملکی سیاست میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت میں گفتگو میل ملاپ اور رواداری کا فقدان ہے۔ دشمنی عروج پر ہے، صرف ضرورت کے وقت ایک عارضی سیز فائر ہونے کے بعد کچھ جوڑ توڑ ہو تو ہو، لیکن سیاسی دورانیے کا بیشتر حصہ بغیر بات چیت کے گزر جاتا ہے، ایسے میں جمہوریت میں سبک روی کہاں سے آئے گی، بلوچستان کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔
وفاقیت کے تقاضے حقیقی معنوں میں ذہنی، فکری اور عملی اتحاد ویگانگت کا عکس ہیں۔ ہمیں ذاتی مفادات، نجی تحفظات، صوبائی تعصبات اور قوم پرستانہ شبہات کو پس پشت ڈال کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے نعرے کو عملی شکل دینا ہوگی اور اس کے لیے اجتماعی دانش کو بروئے کار لانا ہوگا۔ آج ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں ہر فریق اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔ ہر کسی کو آئینی حقوق ملیں، مرکز وفاق کا محافظ ہو اور صوبے وفاقیت کے علم بردار بن جائیں۔
بلوچستان کی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار ہماری حکمران اشرافیہ ہے جس نے گذشتہ ستر سالوں سے بلوچستان کے عوام کو مسلسل معاشی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھ کر انھیں دیوار سے لگادیا ہے۔ ہماری حکمران اشرافیہ اگر بلوچستان کے لیے مخلص ہے تو اس کو بلوچستان کے عوام کو ان کے جمہوری و سیاسی حقوق دینا ہوں گے۔ بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کے عوام کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ محض لفاظی اور نعروں سے بلوچستان کے مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا۔ بلاشبہ بدامنی اور دہشت گردی بلوچستان کا سنگین اور توجہ طلب مسئلہ ہے، جبکہ شفافیت اور اچھی حکمرانی عوام کی تمنا و خواہش ہے۔ امن کا خواب اگر تشنہ ہے تو اس کے کئی پہلو اور وجوہات ہیں۔ بعینہٖ شفافیت اور گورننس کی راہ میں اندرونی و بیرونی عوامل شامل ہیں۔ جب بھی کوئی اچھی پیش رفت ہوتی ہے تو مشکلات و مسائل کھڑے کردیے جاتے ہیں۔ نظام کی بربادی میں سیاسی و غیرسیاسی عناصرکے چہرے بھی بے پردہ نہیں۔ دراصل بلوچستان کا بڑا مسئلہ اشرافیہ کی حکومتیں ہیں جو نظام کے تسلسل میں حائل چلی آرہی ہیں۔ یہی اشرافیہ بگاڑ اور خرابیوں کی جڑ ہے۔
بلوچستان میں مصنوعی طور پہ ایک نئی سیاسی اشرافیہ پروان چڑھائی گئی ہے جس نے عوامی سیاست کرنے کی بجائے صرف اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔بلوچستان کے زیر دست طبقات کا سیاسی طور پر باشعور حصہ تاریخی طور پر انہی بورژوا قیادت کے ساتھ وابستہ رہا ہے جنہوں نے ہر دور میں اپنے طبقاتی مفادات کو اولیت دیتے ہوئے عوامی توقعات کو پس پشت ڈالا۔ ان کے حقیقی کردار کے سامنے آنے کے سبب حالیہ برسوں میں زیر دست طبقات اور مراعات یافتہ قومی قیادت کے درمیان وابستگی ختم ہو کر بیگانگی کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ یہ بیگانگی قومی سیاست میں واضح طور پر نظر آتی ہے جہاں عوام کی اکثریت بالعموم سیاسی عمل سے بیگانگی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ان کی گرفت سے آزاد طلبا تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوامی یکجہتی کی مقامی تنظیموں کی شکل میں مختلف غیر روایتی بنیادوں پر لوگوں کا اکٹھا ہونا سابقہ سیاسی قوتوں سے اسی بیگانگی کا اظہار ہے۔ لہذا ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ ان عناصر کی بجائے حقیقی بلوچ سیاسی قیادت پر اعتماد کرے اور اسے آگے آنے دے۔
گزشتہ دہائی کے خوف کے ماحول میں ایک نئی نسل پروان چڑھ چکی ہے جو اَب طلبہ اور نوجون سیاست کا ایک فعال حصہ ہے۔ نئی نسل سیاسی تنازعات سے آگے سوچنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے معاشی حالات، بوسیدہ سماجی ڈھانچے اور قومی قیادت کے دیوالیہ پن کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ بلوچستان کا نوجوان عوامی جذبات بھڑکانے والے موقع پرست سیاسی قیادت کے پیچے چلنے سے انکار کرتے ہوئے ایک آزاد اورباوقار زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ یہی سیاسی قوت وہ خام مال ہے جس سے شورش زدہ ماحول میں ایک نئی سماجی و سیاسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔
ایک وسیع تر پر امن عوامی تحریک کے حالات اپنی نقطہ عروج تک پہنچتے جا رہے ہیں جس کا اظہار سیاسی و سماجی جبر کے خلاف اٹھنے والے عوامی رد عمل کی شکل میں ہو رہا ہے۔ ایک پر امن تحریک جو سماج کی نمایاں سیاسی قوت بنے، خارج از امکان نہیں۔ البتہ اس کا چہرہ کیا ہوسکتا ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
موجودہ حکومت نے کئی بار اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور یہ بھی اشارے دیے گئے کہ اب انہیں حل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم خود لاپتہ افراد کمیشن کے روبرو پیش بھی ہوئے۔ تاہم شایدسیاسی عدم استحکام اس جانب زیادہ توجہ مبذول کرنے میں رکاوٹ ہے۔ آج یا کل، جو چیز واضح نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ بلوچ نوجوان متبادل کی تلاش میں ہیں اور ریاست کو یہ بات بخوبی سمجھنی چاہیے۔

