Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بین المسالک ہم آہنگی اور چند گزارشات
    کالم

    بین المسالک ہم آہنگی اور چند گزارشات

    مجتبیٰ راٹھورBy مجتبیٰ راٹھورفروری 2, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بہت عرصہ سے مصروف عمل ہیں اور تمام مکتب فکر کے سنجیدہ علماء کے ساتھ کاوشیں کر رہے ہیں اور بین المسالک مصالحت کا بیانیہ بھی پیش کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ باتیں ان تمام حضرات کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں جو کسی مسلک کی اپنے عقیدہ یا مسلک پر انتہا پسندی سے بین المسالک ہم آہنگی کی ان کاوشوں سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات یہ کہ ہم آہنگی سے مراد کسی کو بھی اس کے نظریات یا عقیدہ سے ہٹانا مقصود نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ تمام مسالک اپنے بات کو شائستہ انداز میں پیش کریں۔
    ہماری کاوشوں کا مقصد ان مسالک کو تصادم سے روکنا ہے جس سے ماضی میں قتل و غارت ہوتی رہی ہے۔ اور ان کو پرتشدد کاروائیوں سے اور مسلح گروہوں سے نکالنا ہے۔
    دوسرا ہمارا مقصد ان مسالک کو ایک دوسرے کے خلاف اعلانیہ کفر کے فتووں سے نکالنا ہے۔
    تیسرا ہمارا مقصد ان کو ایک دوسرے کے ساتھ قریب کرنا اور ان کے مابین مکالمہ کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اور کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔
    ان مسالک کے مابین عقائد کے اختلافات یا دیگر مذہبی اختلافات پر مباحثہ، مکالمہ یا مناظرہ کبھی بھی ہم آہنگی کی کاوشوں کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔
    ایک دوسرے سے ملنا، ایک دوسرے کے پاس آنا جانا اور روابط رکھنا یہ بہت اہم ہے تاکہ کبھی بین المسالک منافرت کی فضا اتنی آلودہ نہ ہو کہ دوبارہ پرتشدد کاروائیاں شروع ہو جائیں۔ اس کے لیے تمام سماجی تنظیمیں اور علماء مشترکہ نشستیں، سیمینارز اور تربیتی نشستیں منعقد کروا رہے پیں جو بہت ثمر آور ہے۔
    بین المسالک ہم آہنگی کے لیے اتحاد امت کی اصطلاح ہماری تحقیق کے مطابق اس لیے درست نہیں کہ مسالک کے مابین اختلافات ہمیشہ رہیں گے اورمشترکات ہونے کے باوجود یہ مسالک اپنے نظریات پر کبھی کمپرومائز نہیں کر سکتے۔اس لیے ان مسالک کے مابین ملکی معاملات پر قومی اتحاد تو ممکن ہو سکتا ہے مگر دینی اتحاد کبھی ممکن نہیں۔
    مشترکہ مفادات اور مذہبی طاقت کے بیانیہ پر اکھٹا ہونے کے لیے ایسی کا وشوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مفاد خود بخود اتحاد کا محرک بن جاتا ہے۔
    ایک اور بات جو اکثر سننے میں آتی ہے کہ ہم آہنگی کے داعی خود منافرت پھیلاتے ہیں۔ تو یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ ہم آہنگی کے داعی یا چیمپئن ہیں یا دعوی کرتے ہیں یا ایسی کاوشوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کے لیے تو مسلکی شناخت کو فوقیت دینا یا مسلک کی نمائندگی کرنا زیب نہیں دیتا۔
    اکثر علماء اپنے مسلک کی ترجمانی کرتے ہوئے بھی اس منافرت کو کم کرنے میں یقینا مددگار ہیں اور قابل تحسین ہیں۔
    اس لیے جو لوگ تصادم کو روکنے کے لیے ایسی کاوشیں کر رہے ہیں انہیں ہر گز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔۔فساد کو روکنا ہی بہت بڑا کام ہے۔ الاجر من اللہ

    Interfaith harmony Mujtaba Rathore
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسوات: خونی چوک سے تحریر اسکوائر تک
    Next Article کیا بڑی زبانیں چھوٹی زبانوں کو کھا رہی ہیں؟
    مجتبیٰ راٹھور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by