Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کیا اہلِ مدارس روشن خیالی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
    کالم

    کیا اہلِ مدارس روشن خیالی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

    ڈاکٹر عامر طاسینBy ڈاکٹر عامر طاسیندسمبر 26, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ دنوں کراچی کا معروف دینی مدرسہ جامعۃ الرشید کو الغزالی یونیورسٹی کا چارٹر حاصل ہو گیا۔ ایک نئی یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی اور ان کے مطلوبہ شرائط پر عمل در آمد کے لیے ایک طویل مشقت اور جدو جہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن جیسے ہی جامعۃ الرشید میں الغزالی یونیورسٹی کی منظوری کا اعلان ہوا تو سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں کی جانب سے الزامی و دفاعی محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ ایک جانب جہاں مبارکباد اور نیک خواہشات کی گردان کا سلسلہ تھا تو دوسری جانب دکھڑوں کا محاذ بھی دیکھنے کو ملا۔ کئی سوالات، تجزیات، خدشات، تحفظات اور قیاس آرائیاں بھی پڑھنے کو ملی۔ مثلاً یہ تو ایک عام دینی مدرسہ ہے اسے کس بنیاد پر چارٹر مل گیا؟ ایسے ہی کسی دینی مدرسہ کو یونیورسٹی کا چارٹر نہیں ملتا اس کے پیچھے ضرور کوئی کہانی ہوگی؟ پاکستان کے تمام ہی بڑے نامورعلمائے کرام ان کے بارے میں خوب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات کہاں تک اور کن سے ملے ہوئے ہیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ وفاق المدارس کو کمزور کرنے کے لیے ان کا نیا بورڈ مجمع المدارس کس نے، کیوں بنوایا اور کس بڑی طاقت نے انہیں یونیورسٹی کی منظوری دلوائی ہے؟ اس طرح کے مدارس، دینی مدارس کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں جو کہ ایک سازش ہے۔ دینی مدارس کے نظام تعلیم میں عصری علوم کو شامل کرنا اسلاف کے طریقہ کے خلاف عمل ہے۔ دینی مدارس کو جدیدیت میں بدلنے کی یہ سازش بری طرح ناکام ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

    سو شل میڈیا جو کہ ایک آزاد میڈیا ہے، یہاں پر کسی کو اپنے اپنے تجزیات پیش کرنے اور قیاس آرائیاں کرنے پر کون روک سکتا ہے؟ اندازہ یہی ہے کہ یہ ایک ایسی بحث کا سلسلہ ہے جو بہت جلد وقت آنے پر خود ہی تھم جائے گا۔ بظاہر یوں لگا کہ یہ تو نفرت، ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب بحث در بحث کی فضول جنگ ہے اور ان اعتراضات میں مکالمہ نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ جو تعریف و توصیف بیان کر رہا ہے وہ خوش نظر آ رہا ہے اور جو تنقید و اعتراضات پیش کر رہے ہیں اسے بھی سکون واطمینان حاصل ہے۔

    Jamia al Rasheed
    جامعہ الرشید کراچی

    زمینی حقائق کے مطابق دینی مدارس کی گزشتہ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ ہر دور میں ہی اہل مدارس میں سے چند لوگ اٹھتے رہے اور درد دل کے ساتھ حالات و زمانہ کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے مروجہ نصاب میں سے کچھ اسباق کو عصری ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے یا شامل کرنے کے لیے غور و فکر کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ یقینا اس عمل میں کوئی عیب والی بات نہیں۔ دینی فہم اور درد دل رکھنے والے اہل دانش سے ایسے ہی مثبت عمل کی امید اور توقع رکھنی چاہیئے۔ ویسے بھی وقت سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے جو ماضی کے لاکھ اختلافات کے باوجود نظریہ ضرورت یا پھر حالات کا جبر کے تحت بہت کچھ بدل کے رکھ دیتا ہے۔

    اہل مدارس کے فہم کے اعتبار سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ہمارے یہاں دو طبقات موجود ہیں، جن میں ویسے تو مجموعی طور پر ہم آہنگی موجود ہے لیکن چند امور میں ایک طبقہ مخصوص روایتی دینی علم کو جوں کا توں وراثت دین کا حصہ سمجھتا ہے اور اس میں کسی قسم کی بہتری یا تبدیلی کو خلاف مزاج سمجھتا ہے۔ جب کہ دوسرا طبقہ جو کہ مختصر ضرور ہے مگر وہ روایتی علوم دینیہ کے ساتھ جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کو ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔ میری دانست کے مطابق دونوں میں مقابلہ کے بجائے مکالمہ کی صورت ہونی چاہیئے تھی کیونکہ دونوں ہی اپنے اخلاص کے ساتھ اپنی اپنی جگہ خدمات انجام دینے میں باعث فخر و ثواب سمجھتے ہیں۔ ایک سال قبل جس طرح حکومت نے 5 وفاقات کے بعد مزید 10 نئے بورڈ وفاقات کی منظوری عطا کی تو اب تمام وفاقات کو اس مسئلہ پر نہایت سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیئے کہ ہم اپنے اپنے نصاب کو عصری ضرورتوں کے مطابق کسی طرح بہتر سے بہتر بنا کر پیش کر سکتے ہیں ۔ تجویز کے طور پر یہ کام وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ماتحت ادارہ ڈائیریکٹوریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن آسانی سے کرسکتا ہے۔ حکومتی سطح پر 15 بورڈز (وفاقات) کے بڑے علمائے کرام، پالیسی میکر اور ماہرین تعلیم حضرات پر مشتمل بعنوان "دینی مدارس کے نصاب میں مشترکات، عصری ضرورتوں کے مسائل اور حل اور اہداف” کے عنوان پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جاسکتا ہے جس کے ممکنہ طور پر بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

    یوں تو پاکستان کے دینی مدارس کے تعلیمی نظام کے حوالے سے اب تک بے شمار تعریفی، توصیفی، تنقیدی، الزامی، دفاعی مضامین، مقالہ جات، کالمز، بلاگ ، کئی کتب اور مقالہ جات بھی تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اگر تقسیم ہند سے قبل خطہ ہندوستان کو دیکھا جائے تو وہاں کے بھی علمائے کرام اور محققین نے اس عنوان پر کتب لکھی ہیں۔ ان میں سید مناظر احسن گیلانیؒ کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب "ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت” سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔ جس میں انہوں نے نہ صرف دینی مدارس کو ترغیب دی ہے کہ مسلمانوں کوعصری علوم کی جانب بھی بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ اہل مدارس کو مختلف علوم وفنون بھی سیکھنے سمجھنے چاہیئے۔

    پاکستان میں چند دہائی قبل تک اہل مدرسہ اسکول کالج اور یونیورسٹی قائم کرنا تو دور کی بات بلکہ کچھ نامور اہل علم حضرات بنات کے مدارس قائم کرنے اور اسکول کی عصری تعلیم کے بھی شدید خلاف رہ چکے ہیں۔ علوم دینیہ کے نصاب میں عصری علوم پڑھانے کی نہ صرف مخالف کرتے بلکہ اپنے طلباء کو کالج، یونیورسٹی میں داخلے پر بھی شدید معترض رہ چکے ہیں۔ لیکن مخالفت کے باجود وقت نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ پھر رفتہ رفتہ کچھ اہل مدارس نے بنات کے مدارس بھی قائم کیے۔ علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم بھی نصاب کا حصہ بن گیا۔ دینی مدارس کے ساتھ باقاعدہ اسکول و کالج بھی تیار ہوگئے۔ یونیورسٹیوں میں بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے کی باقاعدہ ترغیب بھی دی جانے لگی۔ ایک قدم اور آگے بڑھ کر انہی دینی مدارس کے فاضلین نے جہاں منفعت بخش فیس وصول کرنے والے جدید طرز کے اسکول قائم کرلیے وہاں ان میں سے کچھ فاضلین اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ بننے کی دوڑ میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ایسے میں اب اگر کسی دینی مدرسہ نے یونیورسٹی کا باقاعدہ چارٹرڈ حاصل کرلیا ہے تو یہ خوش آئند عمل ہے۔ اس پر اب کسی کے اعتراض و اشکالات کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

    میرا تو خیال ہے کہ جامعۃ الرشید کے سر پرست اعلیٰ مفتی عبد الرحیم صاحب نے وقت کے مسائل کو سمجھتے ہوئے فراست اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ الغزالی یونیورسٹی کی اس کامیاب کوشش سے قبل بھی مفتی عبدالرحیم صاحب کی سوچ و فکر کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے دیگر دینی مدارس و جامعات کے مقابلے میں جامعۃ الرشید کو منفرد مقام دینے کی جو کوشش کی ہے وہ ریکارڈ کا باقاعدہ حصہ ہے۔ جسے سالانہ کانووکیشن کی رپورٹ پر پڑھا اور ویڈیوز پر دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اسی درس نظامی کے ساتھ کم وبیش دو دہائی قبل سے متفرق شعبہ جات انتظامی، تدریسی، صحافتی، فلکیاتی، تحقیق و مراجعاتی وغیرہ کے لیے با صلاحیت رجال کار کی تیاری کے لیے روایتی علوم کے ساتھ عصری تقاضوں اور چیلنجز کے حل کے لیے علوم جدیدہ کو روشناس کرانے کا عمدہ سفر کا آغاز کردیا تھا۔ درس نظامی کے 16 سالہ نصاب کے علاوہ جدیدمعاشی مسائل، بنکنگ، در آمد و برآمد، کمپنی شیئرز، انشورنس، صحافت، فلکیات، موسمیات، تدریس کے جدید اسلوب جیسے بے شمار عنوانات مختصر کورسز کا سلسلہ نہ صرف اپنے مدارس کے طلباء کے لیے بلکہ کالج یونیورسٹی کے گریجویٹ اور ماسٹرز طلباء کے لیے علوم دینیہ کے شارٹ کورسز کا اجراء کیا۔ اساتذہ کی تدریسی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز کا بہترین فارمیٹ تیار کیا گیا۔ طلبہ کے داخلوں کے لیے منفرد لائحہ عمل کا معیار قائم کیا گیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے باقاعدہ چینل کو بھی متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    یہی وہ تسلسل ہے جس کے باعث اس دینی ادارے کے سرپرست اور ٹیم لیڈر مفتی عبد الرحیم صاحب کی خواہش و جستجو، محنت اور کوشش رنگ لے آئی اور آج اس دینی ادارہ کے ساتھ ایک یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں آگیا ہے جو ایک تاریخ رقم کرچکا ہے۔ الغزالی یونیورسٹی کا تعلیمی منصوبہ دیگر یونیورسٹیز کے مقابلے میں کہاں تک انفرادیت و شناخت پیدا کرے گا اور اس کے نتائج پر دینی مدارس پر کیا اثرات مرتب ہونگے یہ آنے والا وقت بتادے گا۔ مگریہ بات طے شدہ ہے آج جامعۃ الرشید نے دینی مدارس کے علمائے کرام اور فاضلین کو اعلیٰ یونیورسٹیوں اور ماہرین علوم و فنون کی دوڑ میں شامل کرا دیا ہے۔ یقیناً یہ قدم نہ صرف لائق تحسین و ستائش ہے بلکہ میرے گمان کے مطابق آنے والے وقت میں دوسرے دینی اداروں کے لیے بھی یہ عمل باعث تقلید ہوگا۔ ان سارے عمل کے دوران ایک سوال کچھ فہیم و دانا لوگوں کے ذہنوں میں ضرور ابھرے گا کہ کیا اہل مدارس روشن خیالی کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ تومیرا خیال ہے اس کا جواب جامعۃ الرشید کے جملہ بورڈ اراکین اور سر پرست ٹیم لیڈر کو ضرور تیار کرلینا چاہیئے۔

    al-Ghazali University Dr. Amir Tasin الغزالی یونیورسٹی پاکستان میں مدارس میں جدید تعلیم
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدانش وری کا مسئلہ
    Next Article عفرا بخاری: ایک باکمال تخلیق کار
    ڈاکٹر عامر طاسین

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by