Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»فنون لطیفہ :زندہ معاشرے کی علامت
    کالم

    فنون لطیفہ :زندہ معاشرے کی علامت

    حلیم بلوچBy حلیم بلوچاکتوبر 22, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    فنون لطیفہ اور شخصی آزادی فطرت کی عطا کردہ ہیں۔ ان سے انکار نہ صرف فطرت سے انکار ہے بلکہ معاشرہ کو انتہا پسندی کی جانب گامزن کرانے کی جانب ایک شعوری کوشش ہے۔ مہذب دنیاذہنی اور مادی ترقی کی معراج تک پہنچ چکی ہے مگر ہم آج اکیسویں صدی میں اس مسئلہ پر الجھ پڑے ہیں کہ عامر (گلناز) کو رقص کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ شعور کی کس پست نہج پر ہیں ہم!
    آج کے اس علمی دور میں اگر شخصی آزادی اور فنون لطیفہ پر قدغن کے حق میں دلائل دیے جائیں تومیرے نزدیک یہ شعور کی بانجھ پن ہی ہوگی۔
    تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو آپ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ہمیشہ فنون لطیفہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پائیں گے۔ جب آپ معاشرے میں انسان کی شخصی آزادی پر قدغن لگائیں گے، فنون لطیفہ کے آگے بند باندھیں گے، تو معاشرہ گھٹن کا شکار ہوکر انتہاپسندی کی طرف گامزن ہوگا، یہی وجہ ہے کہ باقی دنیا کی نسبت مذہبی معاشروں میں انتہاپسندی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔رجعت پسند افراد اگر عامر کے رقص کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند کرتے توحیرانگی ہرگز نہ ہوتی، مگر ذہنی کوفت جس بات پر سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ جن سینئر ساتھیوں سے روشن خیالی کے سبق کا الف ب ازبر کیا تھا، وہی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ان دوستوں کی خدمت میں یہ گزارش ضرور کرنا چاہوں گا کہ فنون لطیفہ اور شخصی آزادی سے انکار معاشرے کو بانجھ پن کی طرف دھکیل تو سکتی ہے مگر تعمیر اور ترقی کی طرف ہرگز نہیں لے جا سکتی۔
    آخری اور اہم بات یہ کہ جب بھی کسی رجعت پسند فکر اور عمل کے خلاف بات کی جائے تو آگے سے طنزاً کہا جاتا ہے کہ اپنے گھر سے شروعات کریں، تو اس پیرائے میں عرض کرتا چلوں کہ آپ شخصی آزادی کے حق کو یہ کہہ کر رد نہیں کرسکتے کہ چونکہ آپ کےگھر کے افراد ایسا نہیں کرتے لہذا یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہونا چاہیے اور یہ عمل یا فکر ناجائز ہے۔ میرے گھر کے افراد بھی تو اسی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں پر یہ قدغن اور پابندیاں نافذ ہیں، معاشرے کے دیگر افراد کی طرح وہ بھی اس انسانی حق سے محروم ہیں۔ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں پر زندگی بسر کرنے والے سارے انسانوں کو یہ بنیادی انسانی حق حاصل ہو کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں یا زندگیوں کا اہم فیصلہ خود کرسکیں۔میرے نزدیک ہر انسان کو یہ بنیادی انسانی حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزارے ، کس طرح کے کپڑے پہنے، کس طرح کا کھانا کھائے، کس تعلیمی ادارے میں پڑھے، اپنی مرضی سے شریک حیات کا انتخاب کرے اور اس سے شادی کرے۔ یہ تمام اور اس جیسے دیگر ہم فیصلوں کا اختیار اس انسان کے علاوہ کسی اور کو نہیں کرنا چائیے-
    اپنے ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میری طرف سے میرے گھر کے افراد پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے ،( میں ہوتا بھی کون ہوں کسی دوسرے انسان پر پابندی لگانے والا اور نہ ہی اس سوچ کا قائل ہوں ) میں شخصی آزادی کا قائل انسان ہوں۔ کسی بھی کام کے لیے کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے برخلاف مجبور نہیں کرسکتا، البتہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنی کاوش جاری رکھ سکتا ہوں کہ جہاں پر ہر انسان کو شخصی آزادی کا حق میسر آئے۔ فنون لطیفہ کو حوصلہ شکنی کے بجائے زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ جب ایسا معاشرہ تشکیل پائے تو "سنج” (میری بیٹی) اپنی یونیورسٹی میں ہزاروں ناظرین کے سامنے رقص کریگی تو مجھے اس کی صلاحیت پر فخر ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشِنا زبان کے رسم الخط کی ترویج
    Next Article سوات میں عسکریت پسندوں کی واپسی : عوام کا سخت ردعمل
    حلیم بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by