Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پولیس حراست کے دوران تذلیل و تشدد کے معاملے پر ریاست اور سماج کے رویے
    رواں تبصرے

    پولیس حراست کے دوران تذلیل و تشدد کے معاملے پر ریاست اور سماج کے رویے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 24, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    حالیہ کچھ دنوں کے دوران ملک میں کچھ سیاسی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اس دوران یہ دعوی بھی کیا گیا کہ پولیس نے حراست کے دوران کچھ لوگوں کی تذلیل کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ الزامات حقیقت ہیں نہیں، اس سے قطع نظر یہ بات اہم ہے کہ اس پر عمومی رویہ کیا سامنے آیا اور اس مسئلے کو کیسے غیرسنجیدگی سے لیا گیا۔ کسی بھی سیاسی طبقاتی وابستگی کے بغیر یہ ضروری ہے کہ پولیس حراست میں تشدد کی بھرپور مذمت کی جائے، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے اور عوام اس سے بخوبی واقف ہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں اور ان کی کئی خدمات بھی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پہ دیکھا جائے تو یہ محکمہ تنقید کی زد میں میں رہتا ہے جس کی اپنی حقیقی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی اشرافیہ کا کردار نمایاں ہے۔ تھانوں میں عام شہریوں کے ساتھ جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس محکمے میں کئی دیگر مسائل کی طرح حراست کے دوران انسانوں کی تذیلیل اور تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے اور وقفے وقفے سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تشدد کو قانونی طور پہ جرام قرار دیا جائے۔

    رواں ماہ کے شروع میں پولیس حراست کے دوران تشدد کے حوالے سے ایک بل پاس کیا گیا ہے لیکن اسے قانونی شکل نہیں دی گئی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ کم ازکم اب اسے مزید طول نہ دیا جائے، کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ تشدد اور انسانی تذلیل کو قانونی جرم قرار دینے میں تاخیر کی ایک بنیادی وجہ سیاسی اشرافیہ کو سمجھا جاتا ہے۔

    تشدد کو تفتیش کے دوران اعترافی بیان اگلوانے کے لیے تو استعمال کیا ہی جاتا ہے لیکن اس کو ریاست کی جانب سے اس طور بھی حوصلہ افزائی میسر ہے کہ وہ اسے اپنی رِٹ قائم کرنے کا ایک کارگر وسیلہ خیال کرتی ہے۔ اگر اب تک حراست کے دوران تشدد اور تذلیل کو قانونی جرم قرار نہیں دیا جاسکا ہے تو اس کا ذمہ دار کافی حد تک خود سماج بھی ہے کہ اس کی جانب سے کبھی سخت احتجاج نہیں کیا گیا۔ اس مسئلے پر حالیہ سیاسی گرفتاریوں کے دوران تشدد اور انسانی تذلیل کے الزامات کے بعد نظر آنے والی تقسیم اور طبقاتی سردمہری اجتماعی رویوں کا ایک افسوسناک پہلو آشکار کرتی ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کا زیادہ اور بدترین شکار سیاسی اشرافیہ سے زیادہ خود عام لوگ بنتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں، پولیس حراست میں تذلیل و تشدد کا مسئلہ ایک حقیقت ہے جس سے سب بخوبی واقف ہیں، اور اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہنی چاہیے۔

    پولیس تشدد سماج
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدم توڑتی اُمیدیں
    Next Article پاکستان کا سیاسی کلچر اور وفاقی ڈھانچہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    ’اخلاقیات کی ثقافت‘ اور اس کے بوجھ

    اکتوبر 6, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by