Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»”رشتہ لینے تو نہیں جا رہا“
    کالم

    ”رشتہ لینے تو نہیں جا رہا“

    آصف محمودBy آصف محمودستمبر 27, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    شیخ رشید جیسوں کی صحبت صالح نے معلوم نہیں عمران خان کو بدل دیا ہے یا صرف بے نقاب کیا ہے،تاہم وہ جو زبان استعمال کر ہے ہیں وہ ان کے فکری افلاس اور اخلاقی بحران کا اعلان عام کر رہی ہے۔

    پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے۔

    نرگسیت کے گھونسلے سے سر نکال کرصاحب نے فرمایا:” ناراضی کس بات کی، مارچ کی دعوت دینے جا رہا ہوں رشتہ لینے تو نہیں جا رہا“۔گویااخلاقیات کے علمبرداروں نے اپنے کزن طاہر القادری کو بھی نہیں بخشا، حالانکہ کزنز کا ’دادا‘ ایک ہوتا ہے۔

    اختلاف ایک چیز ہے ،جسے گوارا کیا جانا چاہیے کہ یہ زندگی کا حسن ہے اور سماج میں شعوری بیداری کی علامت۔لیکن اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو پست ذہنیت کی علامت ہے۔شیخ رشید جیسوں کی صحبت صالح نے اب معلوم نہیں عمران خان کو بدل دیا ہے یا صرف بے نقاب کیا ہے۔تاہم وہ جو زبان استعمال کر ہے ہیں وہ ان کے فکری افلاس اور اخلاقی بحران کا اعلان عام کر رہی ہے۔

    تحریک انصاف نے اور کچھ کیا یا نہیں بد تمیزی اور گالیوں کو ایک کلچر بنا دیا۔ہماری صدیوں کی تہذیب و روایت ہے کہ مائیں،بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔اختلاف بھلے دشمنی تک بھی پہنچ جائے ماﺅں بیٹیوں کا احترام کیا جاتا ہے۔عمران خان نے اس تصور کو بیچ بازار پامال کر دیا ہے۔

    جب قائد محترم ہی تہذیب نفس سے محروم ہوں تو ٹائیگرز کا تو کیا ہی کہنا۔بعض تو اسم بامسمی ہیں۔دکھ ہوتا ہے کہ ان سے ہم نے کیا توقعات وابستہ کر لیں لیکن یہ کتنے چھوٹے اور کتنے بودے نکلے۔

    مریم نواز کے بارے میں تحریک انصاف کے عام کارکنان نے نہیں ، مرکزی عہدیداروں نے جس زبان میں گفتگو فرمائی اور جس طرح کے ٹویٹ کیے وہ بتا رہے کہ تحریک انصاف کا اخلاقی بحران کتنا شدید ہو چکا ہے۔

    جواب آں غزل کے طور پرٹیرن خان کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی ویسی ہی بد تہذیبی اور بد اخلاقی کہلائے گی جس کا مظاہرہ تحریک انصاف کر رہی ہے۔

    عمران کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی عمر صالح کا غالب ترین حصہ ’ چھڑے‘ کے طور پر گذرا ہے۔گھر ، آنگن،چاردیواری میں پروان چڑھنے والے رشتوں کی لطافت سے وہ محروم ہی رہے۔انہیں اس لطیف احساس کی بھی کوئی خبر نہیں کہ بیٹی کیا ہوتی ہے۔ان کے گھر کا آنگن بیٹی کے قہقہوں اور اور اس کی شرارتوں سے محروم ہی رہا۔انہیں خبر ہی نہیں باپ اور بیٹی کا رشتہ کیسا ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ رات گئے جب بیٹی ضد کرے ” بابا پیپسی کی بھوک لگی ہے“ تو اس ضد کو پورا کرنے کے لیے گھر سے گاڑی نکالنا کتنا پیارا تجربہ ہوتا ہے۔بیٹی کی مسکراہٹ اور قلقاریوں میں کیسا امرت ہوتا ہے انہیں معلوم نہیں۔وہ اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ بیٹی کی آنکھ پر نم ہو جائے تو من کی دنیا کیسے اتھل پتھل ہو جاتی ہے۔انہیں قدرت نے ایک باپ کی ذمہ داریاں نبھانے کا موقع بھی نہیں دیا۔عالی ظرف جمائما بھابھی ہی بچوں کا باپ بھی بن گئیں۔مقبول ترین آدمی کی زندگی کا یہ پہلو آدمی کو اداس کر دیتا ہے۔وہ اس حوالے سے قابل رحم ہیں۔

    لیکن وہ ایک رہنما بھی ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیے لاکھوں دل ان کے لیے دھڑکتے ہیں۔وہ اگر تہذیب نفس سے بے نیاز ہو کر عامیانہ طرز گفتگو اختیار کریں گے تو یہ سماج کی اخلاقی بنیاد یں کھود ڈالنے کے مترادف ہو گا۔اس سما ج پر رحم کیجیے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعرب ایران تنازع : تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ
    Next Article پاکستانی ڈرامے عرب دنیا میں اور ترجمہ کا عالمی دن
    آصف محمود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by