Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»عوام اور ملکوں کی قسمت ہیروز نہیں، خود عوام تبدیل کرتے ہیں
    کالم

    عوام اور ملکوں کی قسمت ہیروز نہیں، خود عوام تبدیل کرتے ہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمئی 9, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دُنیا میں ہر جگہ ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی مبارزت اور رسہ کشی کے دوران بعض اوقات سیاسی و جمہوری اخلاقیات متأثر ہوتی ہیں اور نتیجے میں سماجی سطح پر ایک غیرشفاف ماحول پیدا ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلاف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ سیاسی مخالفین طاقت اور جیت کے حصول کی دوڑ میں ہوتے ہیں، نتیجے میں بعض اوقات وہ حدود کے پابند نہیں رہتے۔

    پاکستان میں سیاسی عمل ہمیشہ غبارآلود اور اُونچ نیچ کا شکار رہا ہے۔ یہاں کی سیاست زیادہ تر تنازعات کی سیاست رہی ہے جس میں شخصیات کی باہمی رقابت اور مڈبھیڑ ایک نمایاں عنصر رہا۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ سے ملک کی سیاسی صورتحال جس ابتری کا شکار ہے وہ قابل تشویش ہے۔ سیاسی اختلاف سیاسی منافرت میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کا سب سے مخدوش پہلو یہ ہے کہ اس منافرت کا بڑا شکار نوجوان بن رہے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان اسباب ومحرکات کا جائزہ لیا جائے اور ان  کاسدِباب کیا جائے جن کے باعث ہم سیاسی شدت پسندی کے اس مرحلے تک آپہنچے ہیں۔

    پاکستان میں نوجوانوں کی بہبود اور ان کے مسائل وضروریات کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جس کے سبب ان کے اندر غصے اور فرسٹریشن کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کی ناراضی اور غصے کے دراصل کئی مختلف عوامل ہیں، ریاست جن کا تدارک کرنے کی بجائے انہیں باقی رکھے ہوئے ہے۔ مفادات اور طاقت کی حرکیات کے اس کھیل میں نوجوانوں کی شخصیت اور ان کی فکری صلاحیتوں کو زد پہنچی ہے اور وہ بے سمت ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی ذات کے اندر موجود اس خلا کو آسانی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح عسکریت پسند اور مذہبی عناصر ان کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں اسی طرح سیاسی جماعتیں اور شخصیات بھی اپنے مفادات کے لیے کچھ نعروں کی بنیاد پر ان کے غصے، فرسٹریشن اور بے سمتی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی ذات کا استحصال کرتی ہیں۔

    ہمارا سماج پہلے ہی مذہبی، آئیڈیالوجیکل اور دیگر کئی تنگ نظر رجحانات کی وجہ سے تقسیم اور عدم برداشت کا شکار ہے، اس پر سیاسی حلقوں کی جانب سے عدم برداشت کو ہوا ملنا افسوسناک بھی ہے اور اثرات کے اعتبار سے زیادہ خطرناک بھی۔ عوامی سطح پر رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے پہلے ہی سماجی ادارے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام تھے، ایسے میں سیاسی ہیجان نے جس منافرت کو اوپر اٹھایا ہے اس کے نتائج سامنے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر منافرانہ تقسیم نے معاشرے کے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، حالانکہ سیاست اور سیاسی عمل کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں لچک ، رواداری اور برادشت کا درس دیتے اور اسی کی عملی تربیت کرتے ہیں۔

    نوجوانوں کا سیاسی شعور واضح اور حقیقی جمہوری اقدار پر استوار نہیں ہے اور نہ وہ درست معلومات رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی عمل جن شدید مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اس کے بعد یہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ نوجوان اپنے سیاسی شعور کے حوالے سے واضح ہوں اور درست معلومات رکھتے ہوں۔ واضح سیاسی شعور انہیں ہر قسم کی انتہاپسندی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سیاسی تربیت نہیں کی جاتی اور صحت مند سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ خود مطالعہ کریں اور جمہوری و شہری اقدار سے واقفیت حاصل کریں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ سیاست میں حتمیت اور اعتقادی جذبات کی جگہ نہیں ہوتی، نہ کوئی ایک فرد نجات دہندہ ہوسکتا ہے۔ یہ پاپولزم کی علامت ہے جو جمہوری وسعت ظرفی اور اختلاف کو جگہ دینے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ انجام کار انتشار کو جنم دیتا ہے۔ جمہوریت میں عوامی مفادات کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح حاصل ہوتی ہے اور ملکی آئین و قوانین کا احترام کیا جاتا ہے۔

    واضح سیاسی شعور اور درست معلومات نوجوانوں کو سیاسی منافرت کی بھینٹ چڑھنے سے بچا سکتے ہیں اور ان میں یہ ایقان پیدا کرسکتے ہیں کہ  عوام اور ملکوں کی قسمت ہیروز نہیں، بلکہ خود عوام تبدیل کرتے ہیں۔

    ریاست عوام نوجوان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسیاسی جماعتیں اور توہینِ مذہب کے مقدمات: چند غورطلب پہلو
    Next Article کیا یہ محض سیاست ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by