Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»امریکہ میں آج نئی تاریخ رقم ہو نے جا رہی ہے
    کالم

    امریکہ میں آج نئی تاریخ رقم ہو نے جا رہی ہے

    سجاد اظہرBy سجاد اظہرنومبر 8, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج امریکی اپنے 58ویں صدر کا انتخاب کررہے ہیں ،حالیہ انتخابات کو امریکی تاریخ کے متنوع ترین انتخابات کا درجہ حاصل ہو چکا ہے کیونکہ ان میں سفید فام ووٹرز کا کردار کم ہو کر 69فیصد پر آ چکا ہے اب 31فیصد ووٹرز غیر سفید فام ہیں جن میں ہسپانوی ، سیاہ فام اور ایشیائی ووٹرز شامل ہیں

    آج امریکی اپنے 58ویں صدر کا انتخاب کررہے ہیں ،حالیہ انتخابات کو امریکی تاریخ کے متنوع ترین انتخابات کا درجہ حاصل ہو چکا ہے کیونکہ ان میں سفید فام ووٹرز کا کردار کم ہو کر 69فیصد پر آ چکا ہے اب 31فیصد ووٹرز غیر سفید فام ہیں جن میں ہسپانوی ، سیاہ فام اور ایشیائی ووٹرز شامل ہیں ۔ڈیموکریٹس کی ہیلری کلنٹن، ریپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔مقابلہ سخت ہے تاہم ایف بی آئی کی جانب سے ہیلری کو ای میل سکینڈل میں کلین چٹ ملنے کے بعد ان کی جیت کے امکانات بڑھ گئے ہیں رائے عامہ کے پیشگی جائزوں کے مطابق 90فیصد امکان ہیلری کے صدر بننے کا ہے ۔اگر وہ صدر منتخب ہو گئیں تو وہ امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر بن جائیں گی ۔

    امریکہ کی پچاس ریاستوں میں اراکین کانگریس کی تعداد 538ہے اور یہی امریکہ کا الیکٹرول کالج کہلاتی ہے ۔ کامیاب ہونے والے کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ 270ووٹ حاصل کرے ۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے 164کے مقابلے پر ہیلری کلنٹن کو 219کی برتری حاصل ہے ۔مزید51ووٹ ہیلری کو ملنے کا امکان ہے جبکہ 155نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا فیصلہ کیا ہو گا ؟اگرچہ اکثریتی آبادی کی ریاستیں نیویارک ، کیلی فورنیا ، نیو جرسی اور الی نائے کا جھکاٶ ہیلری کلنٹن کی طرف ہے تاہم” سٶنگ سٹیٹس“کا کردار فیصلہ کن ہو گا جن میں ایری زونا ، فلوریڈا، اوہائیواور ورجینیا شامل ہیں ۔جو ان ریاستوں میں جیت گیا فتح کا تاج اسی کے سر پر ہو گا ۔فلوریڈا امریکہ کی قدیم ترین ریاست ہے جس کی آبادی میں سب سے تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اس کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 29ہے ۔2000کے انتخابات میں اسی ریاست میں صدر بش نے محض پانچ سو ووٹوں سے الگورے کو ہرا کر صدر بننے میں کامیاب ہوئے تھے ۔اس لئے اس بات کا امکان ہے کہ اگر ہیلری یہاں سے جیت جاتی ہیں تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے دیگر تمام سٶنگ سٹیٹس میں جیتنا لازمی ہو گا۔یہاں مقابلہ سخت ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے 49.1ووٹوں کے مقابلے پر ہیلری کو 50فیصد ووٹوں کی حمایت حاصل ہے تاہم فلوریڈا میں بلیک اور ہسپانوی ووٹ فیصل کن ہو نگے جن کا جھکاٶ ہیلری کی جانب ہے ۔اوہائیوایسی ریاست ہے جس نے 1964کے بعد ہر صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اس کی الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 18ہے۔اور یہاں بھی ہیلری کو اپنے مد مقابل پر تین پوائینٹس کی برتری حاصل ہے ۔شمالی کیرولینا میں بھی مقابلہ سخت ہے اور فی الحال یہاں ہیلری دو پوائنٹس کی برتری پر ہیں ۔یہاں الیکٹرول کالج کے ووٹوں کی تعداد 15ہے۔یہاں سے اوبامہ گزشہ الیکشن ہار گئے تھے ۔ورجینیا کی الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 13 ہے ۔یہاں سے گزشتہ دس انتخابات میں ری پبلکن پارٹی جیتی لیکن گزشتہ دہائی میں یہاں کالے امریکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اب یہاں بسنے والا ہر پانچواں شخص سیاہ فام ہے اس لئے گزشتہ انتخابات میں صدر اوبامہ یہاں سے جیت گئے تھے ۔ایری زونا میںڈونلڈ ٹرمپ کو ہیلری پر دس پوائنٹ کی برتری حاصل ہے ۔ نیواڈا ،آئیوا، کولوراڈو میں بھی ہیلری کو سبقت حاصل ہے تاہم جارجیا جس کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 16ہے وہاں ٹرمپ نو پوائنٹس کی واضح برتری لئے ہوئے ہیں ۔ امریکہ میں 70فیصد ووٹرز سفید فام ، 13فیصد سیاہ فام ،11فیصد ہسپانوی اور چھ فیصد ایشیائی اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔

    امریکہ میں مسلمان آبادی کی تعداد 33لاکھ ہے جس میں سے 15لاکھ ووٹ دینے کے اہل ہیں ۔کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق 83فیصد مسلمان ووٹرز کا جھکاٶ ہیلری کلنٹن کی جانب ہے ۔امریکہ میں سیاہ فام آبادی کی تعداد تین کروڑ ستر لاکھ ہے اور اس کے رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف تین فیصد کا جھکاٶ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب ہے۔ جبکہ ا س کے مقابلے پر سیاہ فام ووٹرز کی اکثریت یعنی 83فیصد ہیلری کے ساتھ ہیں ۔امریکہ میں ہسپانوی نژاز آبادی کی تعداد پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ ہے اور اس میں بھی اکثریت یعنی ستر فیصد ہیلری کے ساتھ ہیں ۔

    امریکہ کے حالیہ انتخابات کو امریکی تاریخ میں نسلی بنیادوں پر متنوع ترین انتخابات کا درجہ حاصل ہو چکا ہے ۔تقریباً ہر تیسرا ووٹرز یا تو ہسپانوی ہے یا سیاہ فام ، ایشیائی یا کوئی دوسرا ،2012کے صدارتی انتخابات میں غیر سفید فام ووٹرز کی تعداد 29فیصد تھی جبکہ 2016میں یہ تعداد بڑھ کر 31 فیصد ہو چکی ہے ۔اس طرح 2012کے انتخابات کے مقابلے پر حالیہ انتخابات میں تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے ۔تاہم سفید فام ووٹرز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی مد مقابل ہیلری پر 33کے مقابلے پر 45فیصد کی برتری حاصل ہے ۔گویا آج امریکہ کے صدر کے انتخابات میں ان لوگوں کا کردار کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے جن کو ایک عرصے تک سفید فام ووٹ دینے کے حق سے بھی محرام رکھتے رہے ۔امریکہ کے مستقبل کے فیصلے میں اب سفید فاموں کا کردار محدود ہو چکا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپانامہ ، عدلیہ کا امتحان
    Next Article فاٹا میں تعلیمی حالت زار،اندازوں سے بھی بدتر
    سجاد اظہر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by