Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ہم نے عوامی تحریکوں کو سبوتاژ ہوتے دیکھا
    کالم

    ہم نے عوامی تحریکوں کو سبوتاژ ہوتے دیکھا

    گہرام اسلم بلوچBy گہرام اسلم بلوچدسمبر 22, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اُن لوگوں کیلئے یہ کتنا تکلیف دہ امر تھاجنہوں نے گوادر دھرنے سے اپنے مقدر بدلنے کے خواب وابستہ  کیے، ہزاروں کی تعدادمیں  لوگوں نے اس میں شرکت کی۔ دھرنے کے اکتیسویں روز( فائیو اسٹار ) سے آئے ہوئے سرکاری وفد نےپیسے کے زور پر یہ تاثر دینے کی کوشش  کی کہ گوادر کے لوگوں کی اوقات کیا ہے؟ یہ منظردیکھ کر مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کو بہت تکلیف و کرب سے گزرنا پڑا  کیونکہ ہم اس تحریک کو ایک عوامی تحریک سمجھ  کر سیاسی موومنٹ میں بدلنے  کے  خواب لیے بیٹھے تھے۔ ( کھودا پہاڑ نکلا چوہا)۔۔۔

    گوادر کے اس دھرنے میں جوان، بزرگ ، خواتین سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے    اور ان کے  بنیادی مطالبات میں سے چندایسے مسائل شامل  تھے  جس کو وہ اپنے لیے باعث تذلیل  سمجھتے ہیں ۔ اس دھرنے سے لوگوں  نے بہت سی امیدیں وابستہ کر لیں تھیں لیکن وہی ہوا  جو ماضی میں ہوتا آرہا  تھا۔ دھرنے کے  مطالبات بنیادی انسانی حقوق کی نوعیت  کے تھے۔ اس لیے اس میں  سول سوسائٹی اور عام شہریوں نے  اپنی شرکت  کو یقینی بنایا۔

    گزشتہ تیس روز سے جاری یہ عوامی تحریک ملک بھر  کے سوشل میڈیا اورسول سوسائٹیز  کی  توجہ کا مرکز  بنی  رہی ، جو اپنے  جائز اور بنیادی حقوق کے  حصول کے لیے  ملکی تاریخ کی پہلی پرامن عوامی تحریک  تھی۔ گزشتہ روز ماسی زینب ( ماسی زینی ) کی قیادت میں بلوچستان کی تاریخ میں خواتین کی سب سے بڑی ریلی نکالی ۔جس کے شرکا سرکاری و غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچائے بغیر اس نعرے کیساتھ   آگے بڑھتے  رہےکہ ’’ مولانا قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘  یہ تحریک  بنیادی انسانی حقوق  کے تحفظ  کے لیے تھی۔  دوسری جانب ذمہ داران پر اس تحریک کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔ اس دوران متعدد بار سرکاری سطح پر بنائی گئی کمیٹیوں کے ساتھ مذاکرات کیے گیے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ منتظمین کا خیال تھا کہ ان کمیٹیوں کے پاس ان کے مطالبات تسلیم کرنے کا اختیار نہیں جن کا مطالبہ دھرنے کے شرکا کر رہے تھے۔ شرکا بضد تھے  کہ وہ وزیر اعلی کے علاوہ کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں  یا تو یہ طے شدہ اسکرپٹ تھا کیونکہ ماضی کی سیاسی تاریخ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسکرپٹ والے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تحریک کے اکتسیویں روز بلوچستان  سے وزیر اعلی کی قیادت میں اعلی حکومتی وفد گوادر (پی سی ہوٹل) پہنچا۔ دھرنے کے قائدین "مذاکرات عوام کے سامنے ” والے بیانیے پر قائم تھے۔ لیکن ان سب حالات کے باوجود دھرنے کے قائدین نے پی سی ہوٹل جا کر اعلی حکومتی وفد سے ملاقات کی ۔ مذاکرات کے بعد تحریک کے سربراہ نے   شرکا کومذاکرات کامیاب ہونے کی نوید سنائی اور کہا کہ ہمارے تمام مطالبات مان لیے گیے ہیں ۔ جس کا اعلان وزیر اعلی خود شرکا کے سامنے کریں گے۔ اگلے دن تمام معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا  گیے اور دھرنے کے شرکا پر امن طریقے سے منتشر ہو گیے۔

    دھرنے کے اختتام سے بعض سیاسی کارکنان اور تحریک کے دیگر سربراہان اس سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں  کہ یہ تحریک مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ اس اختتام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہ سوال کیا  کہ  دھرنے کے ابتدائی دنوں میں  گوادر یونیورسٹی  وہ طالب علم جنہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو اگلے روز سے ابھی تک لاپتہ ہیں کیا ان کے بارے میں اعلی سطح وفد سے کوئی بات ہوئی ، اگر ہوئی تو پیش رفت کیا ہے؟

    اس ملک کے بزرگوں نے پاکستان کو بنتے، ٹوٹتے ہوئے دیکھا کسی نے ڈھاکہ کو بھی ڈوبتے ہوئے  دیکھا پاکستان میں ہماری نسل نے عوامی تحریکوں کو سبوتاژ ہوتے ہوئے دیکھا جس طرح کل گودار میں ہوا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدیق عالم کا ناول "صالحہ صالحہ”: اسرار کی دھند میں لپٹی ہوئی کہانی
    Next Article عوام میں مطالعے کے رجحانات کی نوعیت
    گہرام اسلم بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by