Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مولانا طارق جمیل کا برانڈ
    کالم

    مولانا طارق جمیل کا برانڈ

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولفروری 28, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک برانڈ اپنے نام سے متعارف کروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے میری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے اخراجات اور اُن میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کفالت اس کاروبار کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور چندوں کے بجائے بزنس اور تجارت سے کمائی جانے والی دولت کے ذریعے ادارے چلائیں تاکہ عوام میں اُن کی عزت بحال ہو۔ مولانا کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے  لوگ علماء کرام کی عزت نہیں کرتے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن کے برانڈ کے ملبوسات کس قیمت پر میسر ہوں گے؟ کیا ان کے تیار کردہ لباس صرف امیر یا امیر ترین لوگ ہی خرید سکیں گے یا عام آدمی بھی خرید پائے گا۔ اس سے پہلے جنید جمشید مرحوم کا برانڈ مارکیٹ میں ہے جو مہنگے ترین برینڈز میں شمار ہوتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کا تعارف ایک مُبلِّغ اور داعی کا ہے. اب اُن کا امتحان ہے کہ وہ جس عملی زندگی کے بارے میں تاجر، سیاستدان، حکمران اور والدین کو نصیحتیں کرتے تھے، خود کس طرح اس کاروبار کو چلاتے ہیں؟ پاکستان کے نامور عالم دین کے تاجر بھائی نے ایک روز مجھ سے کہا کہ میں اپنے بھائی سے کہا کرتا ہوں آپ گھنٹے کی تقریر میں نصیحت و تنقید کے بعد ممبر سے نیچے اتر آتے ہیں، ذرا ہم سے پوچھیں ان نصیحتوں پر عمل کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی سے بچنا، ملاوٹ کے بغیر سودا بیچنا، جائز منافع لینا، یہ سب کام مارکیٹ میں بیٹھ کر نبھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ممبر پر بیٹھ کر معاشرے کی برائیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآنی آیات و احادیث سنانا بہت آسان ہوتا ہے۔ حقیقتاً  وہ لوگ ولی اللہ ہیں جو مارکیٹ میں بیٹھے، حلال روزی کماتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں انبیاء، صدّقین اور شھداء کی رفاقت کل قیامت میں نصیب ہو گی۔

    مولانا طارق جمیل صاحب نے جو قدم اٹھایا ہے۔ یہ ہماری تاریخ میں نیا اور انوکھا نہیں ہے۔ آئمہ، فقہاء کرام اور علماء کرام کاروبار کرتے  اور کاروبار سے لوگوں کی کفالت بھی کرتے رہے ہیں۔ امام ابو یوسف یتیم بچے تھے ان کے سوا گھر کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ حضرت امام ابو حنیفہ نے انہیں کام سے اٹھا کر تعلیم میں مشغول کر دیا۔ امام ابو یوسف کی والدہ نے آپ سے کہا کہ اگر بیٹا پڑھے گا تو گھر کے اخراجات کیسے چلیں گے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا اسے پڑھنے دو گھر کے اخراجات کا بوجھ میں اٹھاتا ہوں۔ امام ابوحنیفہ بھی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے کہیں جانا تھا تو آپ نے ملازم سے کہا کہ فلاں کپڑے میں خرابی ہے اگر کوئی لینے آئے تو  اُسے اس عیب سے خبردار کر دینا۔ ملازم بھول گیا۔ جب کپڑا گاہک لے گیا تو اُس کے بعد امام ابوحنیفہ آئے۔ جب آپ کو  معاملے کا علم ہوا تو آپ نے وہ رقم راہِ خدا میں دے دی، اپنے استعمال میں نہیں لائے۔ آج بھی بہت سے علماء اور اُن کے صاحبزادگان تجارت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن کے برانڈ کے ملبوسات کس قیمت پر میسر ہوں گے؟ کیا ان کے تیار کردہ لباس صرف امیر یا امیر ترین لوگ ہی خرید سکیں گے یا عام آدمی بھی خرید پائے گا۔ اس سے پہلے جنید جمشید مرحوم کا برانڈ مارکیٹ میں ہے جو مہنگے ترین برینڈز میں شمار ہوتا ہے

    میرا ذاتی مشاہدہ ہے وہ نوجوان جو بزنس کرتے ہیں یا کسی اور شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ فرقہ واریت یا گدی نشینی کے معاملات میں آنا پسند نہیں کرتے۔ وہ آزادانہ کاروبار کرتے اور ایک عام شہری کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ فرقہ واریت اور گدی نشینی میں دلچسپی صرف اُن صاحبزادگان کی ہوتی ہے جو یا تو سب سے بڑے ہوتے ہیں یا پھر روزگار میں دوسروں سے پیچھے ہوتے ہیں۔ فرقہ واریت اور پیری مریدی کے ذریعے عوام کے استحصال کے دروازے کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہے تو اُس کا بہترین ذریعہ کاروبار ہے۔

    جب پاکستان تخلیق ہو چکا اُس وقت ایک علمی شخصیت نے حضرت قائداعظم سے گزارش کی تھی کہ ہمیں جتنے علماء کرام کی ضرورت ہے اس سے زیادہ علماء کرام ہجرت کر کے پاکستان آ رہے ہیں۔ اس لیے انہیں حکومتی سرپرستی میں کاروبار کے چھوٹے چھوٹے یونٹ شروع کرکے دئیے جائیں تاکہ یہ لوگ کاروبار کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کی گلی محلے میں چار چار مسجدیں ہوں گی اور فرقہ واریت عام ہوگی۔ اُس وقت ریاستِ پاکستان نے اس مسئلے کو  بوجوہ اہمیت نہ دی۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    اسلامی تاریخ اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے زکوٰة ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ وصول کرتی، اجتماعی معاملات اور منصوبوں پر خرچ کرتی تھی۔ زکوة کا استعمال جب سے انفرادی طور پر جمع کرنا اور خرچ کرنا ہوا ہے اس سے یہ مسائل پیدا ہوئےہیں۔ آج مدارس کی حیثیت فیکٹری سے زیادہ نہیں رہی۔ جس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی حالت فیکٹری کے ورکروں سے زیادہ اچھی نہیں ہوتی لیکن فیکٹری کے مالکان اور اولاد  امیر ترین ہوتے ہیں۔ اگر مدارس کے نظام ریگولرائز کرنے کے بات کی جائے تو فوراً احتجاجی آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ حکومت اسلام کے خلاف اقدامات کر رہی ہے۔ ان مدارس کے ذمہ داران سے کم ازکم اس کا حساب تو ضرور لیا جانا چاہیے کہ طلباء و طالبات کے لیے مہیا کردہ نظام بدتر کیوں ہے؟ اور آپ کا اپنا رہن سہن اتنا شاہانہ اور امیرانہ کیوں ہے؟

    مولانا طارق جمیل صاحب کا تجارت کرنا احسن قدم ہے۔ اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا کرے۔

    برانڈ کاروبار مولانا طارق جمیل
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحیرت تو حیرت ہے!
    Next Article شہزادیوں کا فرار: محمد بن راشد آل مکتوم کی شخصیت کے اوجھل پہلو
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by