Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»’جرگہ‘ انسانی حقوق کے منافی نظام ہے
    کالم

    ’جرگہ‘ انسانی حقوق کے منافی نظام ہے

    زبیر توروالیBy زبیر توروالیجنوری 2, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آجکل پختون معاشرے اور اس کے زیر اثر دیگر طبقات میں بعض لوگ جرگے کی معدومی کا رونا روتے ہیں اور اس کے احیاء کی بات بھی کر تے ہیں۔ یہ نظام بظاہر ماضی کی ہر شے کی طرح خوشنما نظر آتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

    جرگہ بندی کیا ہے؟ یہ جدید ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے کا سیاسی و عسکری نظام ہے۔ یہ اساسی طور پر تاتاریوں کی روایت سمجھی جاتی رہی ہے تاہم اس جیسے انتظامی انصرام دیگر معاشروں میں بھی پائے جاتے تھے۔ جرگہ ایک گونہ عسکری اور سیاسی نطام ہوتا تھا۔ اسے لشکر کشی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے اثرات و نتائج کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سماجی لحاظ سے جرگے نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے اور سماج میں طاقتور کے مفادات کو ہی اگے بڑھایا ہے۔

    جرگہ کی روح ’غیرت‘ کا عنصر گردانا گیا ہے جوکہ زن، زمین اور زر سے متعلق ہوتی تھی اور اب بھی ہے۔ اسی لیے کوئی جرگہ اج تک ایسا نظر سے نہیں گزرا جس میں خواتین کی نمائندگی ہو کیوں کہ قبائلیت میں عورت کو ہی غیرت کی سب سے بڑی بنیاد، وجہ اور شے مانا جاتا ہے اس لیے خواتین مردوں کی کسی مملوکہ شے کی طرح خیال کی جاتی ہیں جن کا فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں بنتا۔ چونکہ اس کی بنیاد میں قدامت پسندی ہے لہذا کوئی ایسا جرگہ بھی نظر سے نہیں گزرے گا جس نے جدید تعلیم یا جدید سماجی انتظامی سہولیات کا مطالبہ کیا ہو۔

    یاغستانی دور میں جرگہ مقامی سیاسی انتظام ہوا کرتا تھا جہاں ایک شخص یا چند بااثر افراد کا سکّہ چلتا۔ یہ بادشاہت کی چھوٹی یا اس نوع کی ایک ناقص ترین شکل تھی۔ جب جدید ریاست کی بنیاد پڑی، قانون، انصاف اور نظم و ضبط کے لیے متبادل اداروں کی تشکیل کی گئی تو جرگہ اپنی افادیت کھونے لگا تاہم یہ اس کے بعد بھی ایسے علاقوں میں مروج رہا جو قدامت پسند تھے۔ جرگہ چونکہ کسی تحریری ضابطے یا آئین کے تحت نہیں چلتا تھا اس لیے اسے کمزر لوگوں کے خلاف آسانی سے استعمال کیا جاتا تھا اور اسی وجہ سے جرگے کے لیے مقامی اشراف کو نوازنے کا عمل ہمیشہ ممکن رہا۔ اب مقامی اشرافیہ کی باقیات ہی جرگے جیسی شے کی بحالی کے زیادہ دلدادہ نظر آئیں گی۔

    قبائل کے نچلے طبقات سے اگر پوچھا جاسکتا تو وہ بتاتے کہ جرگہ بندی کتنا بڑا عذاب تھا

    ہمیں چونکہ تعلیم و تدریس اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کے توسط سے ماضی پرست بنایا گیا ہے اور ماضی کو شاندار بنا کر پیش کیا گیا ہے اس لیے تعلیم یافتہ بھی عمومی طور پر ماضی کی ایسی دقیانوسی روایات کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ یا شاید یہ وجہ ہے کہ نفسیاتی لحاظ سے ہم میں سے ہر ایک اپنے حال سے ناخوش ہے اور خوفزدہ ہے اس لیے ماضی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ مگر ماضی تو گزر گیا ہے اور اس کی صرف تاریخ باقی رہ گئی ہے۔ ماضی سے ہمیں اب کوئی خوف بھی نہیں کیونکہ وہ گزر چکا ہے، یوں اس کے ساتھ ایک رومان سا رہتا ہے۔ مستقبل کسی پر نہیں گزرا اس لیے ہر بندہ اس کے بارے میں غیر یقنیت کا شکار ہے۔

    ماضی کا رومان اس لیے بھی ہے کہ اس کے سنہری ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں مگر کسی کو اس میں رہنے کا تجربہ نہیں ہوا۔ اس لیے محسوس نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا تجربہ حقیقت میں کیسا تھا۔

    اگر ماضی کے جرگوں کے اثرات بارے ان لوگوں کی شہادت ہوتی کہ جنہوں نے اسے بھگتا ہے تو بات سمجھ میں آتی۔ قبائل کے نچلے طبقات سے اگر پوچھا جاسکتا تو وہ بتاتے کہ جرگہ بندی کتنا بڑا عذاب تھا۔

    ہمیں تو ماضی کے بارے میں بھی اشراف نے بتایا ہے۔ تاریخ بذات خود اشراف کی کہانیاں ہی ہے۔ تاریخ اشراف کے واقعات کا تذکرہ کرتی ہے، ان معاشروں کی مجموعی زندگی کا نہیں۔ جرگہ اشراف کے لیے ہوتا تھا اس لیے وہ شخص معتبر گردانا جاتا جو جرگے کا ممبر بن سکتا تھا۔ اور وہ شخص کون ہوتا؟ جس کے پاس زمین اور افرادی طاقت ہوتی تھی۔ ایسے سماج میں پڑھے لکھے لوگ منشی بن سکتے ہیں یا پھر مولوی۔

    کسی اجلاس، پارلیمان یا جلسے کو اگر آج کے زمانے میں جرگے کا نام دیا جائے تو کوئی حرج نہیں تاہم اگر اس انصرام کو اپنی ساری روایات سمیت زندہ کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ صرف بند معاشروں، جیسے سابقہ فاٹا یا ہمارے پہاڑی علاقے کے بعض کونوں میں بحال ہے جہاں کے افراد کو باہر کی دنیا کی خبر نہیں، یا وہ اس دنیا سے پوری طرح منسلک نہیں ہیں۔

    آج کے زمانے میں ایسی روایات پالنا اور ان پر عمل در آمد کرانا ریاست کی نااہلی ہے۔ جدید ریاستی اداروں کی موجودگی میں ایسے کسی نطام کی گنجائش نہیں ہونی چاہے۔ ایسی تمام روایات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہے جو انسانی حقوق سے متصادم ہو یا پھر وہ کسی ایک گروہ، جنس، قوم، مذہب یا نسل کے مفادات کا تحفظ کرے۔

    جدید ریاست جرگہ قبائلی نظام قدامت پسندی
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article2021ء: اُمید کی کرن اور نئے چیلنجز
    Next Article بے بس سماج
    زبیر توروالی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by