Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لغت: مستعمل کی بازگشت
    کالم

    لغت: مستعمل کی بازگشت

    فیصل اقبال اعوانBy فیصل اقبال اعواناکتوبر 8, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    "بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند زریعہ نہیں ہے۔ ”

    "کیوں اور کیسے بل کہ کیوں کر؟”

    "عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔”

    "اگر لغت ثانوی زریعہ ہےتو کیا لفظ کا معنی آسمان سے ٹپکتا ہے؟”

    "نہیں حضور! زمین سے پھوٹتا ہے، جہاں ازل سے اگ رہا ہے۔ لغات اس پیداوار کے ذخائر ہیں۔”

    ” یعنی جہاں بھی، جیسی بھی، پیداوار ہوگی، لغت ذخیرہ کر لے گی”

    ” جی سرکار! یہ اس کی وجودی اور ساختیاتی مجبوری ہے۔”

    "چاہے کوئی بھی لفظ ہو، کسی بھی رائج معنی کے ساتھ”

    ” جی یقیناََ، فقط ایک شرط ہے: سماج نے اس لفظ کا معنی متعین کر دیا ہو مسلسل استعمال سے”

    ” کوئی استثناء؟”

    ” کوئی نہیں”

    ” لاحول ولا قوہ۔۔۔۔ پھر تو نازک اعضاء کے نام اور ان کی حساس اور مرغوب اہداف تک مطلوبہ فرضی رسائی کیلئے سماجی طور پر متعین الفاظ بھی لغت میں موجود ہونے چاہئیں؟”

    ” چاہئیں نہیں, قبلہ! موجود ہیں۔ باقی چھوڑیں، فرہنگِ آصفیہ سے متعلق بابائے اردو مولوی عبد الحق کی معروف رائے ملاحظہ کیجئے:

    ‘فحش الفاظ جمع کرنے میں خاص اہتمام کیا ہے اور کوئی ایسا فحش لفظ یا محاورہ نہیں ہے جو ان کی نظر سے بچا ہو’

    ” تو پھر”

    ” بھئی یہ تو لغت کی خوبی ہے کہ وہ اپنی تہذیب کی نمائندہ ہو، اس کا مرقع ہو مکمل طور سے۔”

    ” تو مطب یہ ہوا کہ لغت لوگوں کی زبان بولتی ہے؟”

    ” لغت نہیں بولتی، زبان بولتی ہے سماج کے زریعے۔۔۔۔ لغت سنتی ہے اور لکھ لیتی ہے۔”

    ” میں اتفاق نہیں کرتا، یہ صرف سماج ہی کی نہیں اپنی تدوین کرنے والے کی زبان بھی بولتی ہے”

    ” اور اس کی تدوین کرنے والا کس کی زبان بولتا ہے؟ اپنی تہذیب کی یا لغت کی؟ حضورِ والا! مکرر عرض ہے: لغت خطیب نہیں سامع ہے، انتہائی اعلی سامع، حیران کن یادداشت اور وسعت کا مالک۔”

    ” بھئی اہلِ زبان، لغت اور قواعد کے زریعے ہی سے تو زبان کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ”

    ” فضیلتہ الشیخ! زبان سخن شناسوں‌ کی محفلوں ہی میں نہیں گلی محلوں، تھڑوں اور سڑکوں‌میں بھی پروان چڑھتی ہے۔ جہاں نیا اظہاریہ درکار ہوتا ہے، وہیں نیا لفظ جنم لیتا ہے اور پھر بہ قدرِ افادیت وہ لفظ یا جملہ زبان زدِ عام ہو جاتا ہے۔ زبان کا دامن وسیع ہو جاتا ہے۔”

    ” اور اہلِ زبان چنے بھونتے رہ جاتے ہیں۔ ہیں نا؟ ”

    ارے کہاں حضور پر نور! نیا لفظ یا جملہ پھر زبان کے زبردستی کے پاسبان معاف کیجئے گا، زبردست پاسبان اسے تطہیر کے عمل سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں‌۔ اجازت ہے اور اجازت نہیں ہے کے دم چھلے لگا لگا کر اس کے استعمال یا امتناع کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ لیکن لفظ وہی زندہ رہتا ہے جو خلقِ خدا کی زبان پر ہوتا ہے۔”

    "لیکن میں ابھی بھی آپ سے متفق نہیں ہوں کہ لغت ہر غلط سلط اور اہلِ زبان کا مسترد شدہ لفظ ذخیرہ کر لے گی”

    ” بھئی لوگ بولیں اور لکھیں گے تو لغت کو اسے اپنے دامن میں جگہ دینی پڑے گی اور دینی چاہیے۔ اپنے خود ساختہ مقام کے دوام کے لیے زبان کو جامد نہ کریں خدارا! اسے پھلنے پھولنے دیں”

    ” اچھلنے کودنے بھی دیں؟”

    ” جی کوئی حرج نہیں, اچھل کود زبان کی صحت کیلئے مفید عمل ہے۔ سانس پکّا ہوتا ہے اس سے. دور تک چلتی ہے زبان, بغیر سانس اکھڑے”

    ” سانس نہ اکھڑے، چاہے جڑیں اکھڑ جائیں!”

    ” بندہ پرور! آپ لمبے لمبے سانس لیں اور غصہ نہ کریں۔ کچھ نہیں ہوگا جڑوں کو بلکہ روایت سے جدت کے تعلق سے یہ شجر اور بھی ہرا بھرا ہو جائے گا۔”

    ” غلط العام اور غلط العوام کے کانٹوں کے ساتھ یہ ہریالی ہمیں منظور نہیں۔”

    ” لیکن آپ کی منظورِ نظر، لغت منظور کرلے گی، اور کرتی ہے۔”

    ” بھئی وہ کیوں کرے گی۔”

    ” وہ کرتی ہے اور کرے گی۔۔۔۔۔ ضرور کرے گی۔۔۔۔ وہ مستعمل ہی کی تو بازگشت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleیو بی ایل لٹریری ایوارڈز کی بندر بانٹ
    Next Article اکرام اللہ: حسابِ سود و زیاں سے بے نیاز ایک نابغہ ادیب
    Avatar photo
    فیصل اقبال اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by