Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لہروں کی طرح یادیں اور فیصل اقبال اعوان
    کالم

    لہروں کی طرح یادیں اور فیصل اقبال اعوان

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 14, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read6 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    1989 کا سال ہے۔اڑتی خبروں میں یہ بھی سنا گیا کہ خواجہ طارق رحیم نے گجرات کے چوہدریوں کا کوئی پینتیس کروڑ کا قرضہ معاف کروایا ہے وہ شہید بی بی کے وزیر مملکت برائے پانی بجلی تھے۔

    انھیں دنوں ہمیں جوزف فرانسس نے فون کیا کہ انڈین کمیونسٹ پارٹی کے تھیٹر ونگ کے سربراہ شمس الاسلام اپنی بیٹی اور ایک ساتھی کے ہمراہ تھیٹر فیسٹیول میں آئے تو اس کی میزبان تنظیم نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔انھیں اپنے ہاسٹل سے نکلوا دیا ہے اور واپسی کا ٹکٹ بھی اپنے پاس رکھ لیا ہے۔کامریڈ لوگ تھے اپنا زاد راہ گنا ، کم تھا تو اپنی گھڑیاں بیچ کر بیٹی کا ٹکٹ لے کر اسے تو انڈیا روانہ کیا اور خود ہمارے دوستوں کے ایک گروپ کے ہتھے چڑھ گئے جنھیں ہم ٹاون شپ سکول آف تھاٹ کہا کرتے تھے۔انھوں نے دونوں کامریڈز کو پنجاب ہاوس میں ٹھہرایا جو ان کا دفتر ہوا کرتا تھا۔

    تنازعے کی وجہ پتہ چلی کہ میزبان تنظیم اثر نے شمس الاسلام کا لکھا ہوا ڈرامہ نیدر لینڈ کی ایمبیسی کے مالی تعاون سے چھپوا دیا ہے۔اس پر کامریڈ نے احتجاج کیا کہ جناب ہم انڈیا میں این جی اوز کے کردار پر سخت اعتراضات کرتے رہتے ہیں اور اگر یہ ڈرامہ انڈیا میں ہمارے مخالفین کے ہتھے چڑھ گیا تو وہ ہماری واٹ لگائیں گے ۔آپ نے ہماری اجازت کے بغیر اسے کیوں چھاپا؟ جس پر تنظیم کی ڈائریکٹر محترمہ نگہت سعید بنی نے انھیں کھڑے کھڑے اسی وقت اپنے دفتر اور ہاسٹل سے نکال دیا۔

    میرے کہنے پر جوزف فرانسس ان دوستوں کو 16 کلو میٹر کے فاصلے سے سائیکل پر بٹھا کر انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ پہنچا۔ ظفر یاب کو واقعہ سنایا تو اس نے دونوں کا انٹرویو کروایا لیکن وہ چھپا نہیں تو میں نے ظفریاب سے پوچھا بھئی انٹرویو کیوں نہیں چھپا تو کہنے لگے یار وہ بنی طاہرہ مظہر علی خاں کی دوست ہے تو کیسے چھپتا ؟ خاکسار کا قہقہہ بلند ہوا اور عرض کیا کہ ظفریاب طارق رحیم کی اوقات پینتیس کروڑ معاف کروانے کی ہے اور ہمارے دوستوں کی ایک انٹرویو رکوانے کی۔بس اتنا کرو کہ حاکم لوگوں کو برا بھلا مت کہا کرو کہ ہم بھی اپنی حیثیت کے مطابق جائز ناجائز اقربا پروری کے شکار ہوتے ہیں۔

    ظفریاب ہمارا جان جگر تھا۔ اس کی ڈانٹ ڈپٹ سنی اور ان دونوں کامریڈز کو دی نیوز کے رپورٹر عباس علی صدیقی کے حوالے کیا کہ میاں ان کے درد میں شریک ہو جاو اور عباس صدیقی نے دھڑلے سے کامریڈز کا انٹرویو چھاپا۔عاصمہ جہانگیر نے ان دونوں کے ٹکٹ کا بندوبست کیا اور ٹاون شپ کے دوستوں سے درخواست کی کہ یہی بتانا کہ امجد سلیم نے ٹکٹ کے پیسے دئیے ہیں۔اس شہر میں خاکسار کی فقیری کے قصے مشہور تھے کسی کو اعتبارنہیں آیا ،صرف یہی پوچھتے پھرے کہ انھیں ٹکٹ کس نے لے کر دیا؟

    اکتیس سال پہلے کا قصہ جان عزیز فیصل اقبال اعوان کے ساتھ ہونے والے ادبی دھراو سے یاد آیا۔فیصل اعوان” ہم سب ” میں کتب پر شاندار تنقیدی تبصروں سے آج کل کی ادبی دھڑے بندی کی فضا سے بالکل ہٹ کر ایک نیا ادبی منظرنامہ تخلیق کر رہا ہے۔اس نے صاحب مطالعہ اور اعلی علمی و سیاسی شعور رکھنے والے دوست سید کاشف رضا کے ناول کا ادبی محاکمہ کیا ہے اور کیا شاندار کیا ہے۔ہم اس تبصرے کی ابھی فیصل کو داد بھی نہ دے پائے تھے کہ حضرت نے محترمہ آمنہ مفتی کے ناول” پانی مر رہا ہے ” پر تبصرہ لکھ ڈالا۔فیصل کو ہم ذاتی طور پر نہ جانتے ہوتے تو یقین کیجئے یہی سمجھتے کہ یہ دونوں ناول نگار کسی ادبی گروہ بندی کا شکار ہوئے ہیں لیکن فیصل اقبال اعوان ادب کا نہیایت سنجیدہ طالب علم ہے۔شاندار ذوق مطالعہ رکھتا ہے۔قہقہہ باز اور زبردست سریلا ہے۔وکالت میں درک اور دلیل کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔پرعزم ہے ، کاشف کے ناول پر لکھے تبصرے کو دیکھ کر ایک پیارے  اور لکھاری دوست نے سمجھایا کہ اسے چھپنے کے لئے مت دینا،لوگ بھاگ ناراض کیا دشمنی پالیں گے۔دھن کے پکے اور دھڑے بندیوں سے آزاد اس شخص نے اسے ہم سب  میں بھیجا اور وہ چھپا۔

    اب میں حیران ہوں کہ محترمہ آمنہ مفتی کے ناول ” پانی مر رہا ہے” پر اس تبصرے میں ایسی کون سی بات تھی جس پر اتنا سخت رد عمل دیتے ہوئے” ہم سب ” کے مدیران نے اسے آٹھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی ویب سائٹ سے اتار دیا ؟ یا اب کون سی طاہرہ مظہر علی خاں کی سہیلی تھی جسے ناراض نہیں کیا جا سکتا تھا ؟ یا واقعتا اب ہمارا اجتماعی شعور اس سطح پر آچکا ہے کہ ہم اب ایک ادبی تبصرہ بھی برداشت نہیں کر سکتے، محض ایک ادبی تبصرہ ؟ کیا قاری اب اتنا حق بھی نہیں رکھتا کہ صحت مند ادبی مکالمے سے اپنےتنقیدی شعور میں اضافہ کر سکے کہ آج کل ادبی گروہ بندیوں سے آلودہ فضا میں جھوٹ کو تنقیدی شعور کا معیار ٹھہرا کر اپنے گروہ سے منسلک وابستگان کو آسمان ادب کا درخشندہ ستارہ قرار دیا جا رہا ہے اور اگر اس پر کوئی انگلی اٹھائے گا تو اس کی تحریر کو سنسر شپ کی سخت سزا دی جائےگی۔فیصل تو کوئی مارکسسٹ بھی نہیں کہ اسے کسی نگہت سعید خاں کی پالیسیوں پر احتجاج کی سزا دی جائے۔

    آخری بات تاکہ سند رہے کہ

    میں اس مسئلہ پر دیگر کچھ لوگوں کی طرح مدیر ” ہم سب ” وجاہت مسعود کی مذمت جیسے گھٹیا الفاظ ہر گز استعمال نہیں کروں گا کہ میں اسے کسی ایک عمل سے نہیں وسیع تر تناظر میں جانتا ہوں ، اس لئے امید رکھتا ہوں کہ  ہم سب پڑھنے والوں کو ایسا صدمہ دوبارہ نہیں ملے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآمنہ مفتی کا ناول "پانی مر رہا ہے” : اردو ناول مر رہا ہے
    Next Article فطرت سے ہم آہنگی ضروری ہے
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by