Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جماعت اہل سنت والجماعت کا فرقہ واریت کو الوداع
    کالم

    جماعت اہل سنت والجماعت کا فرقہ واریت کو الوداع

    ضیاء الرحمٰنBy ضیاء الرحمٰنفروری 7, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دونوں جماعتوں کے متحد ہوکر الیکشن لڑنے کی صورت میں خیبر پختون خواہ اوربلوچستان میں جے یوآئی(ف) کی پوزیشن مستحکم جبکہ پنجاب اورسندھ، خصوصا کراچی سے متعدد نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی بھی ہو سکتی ہے .

    قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کریک ڈاﺅن سے پریشان مگر جھنگ اورکراچی میں انتخابی معرکوں میں فتح کے بعد پرامید اہلسنت والجماعت کی قیادت نے سنجیدگی سے فرقہ وارانہ سیاست چھوڑ کرپارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کافیصلہ کیاہے اورانتخابی سیاست میں قدم رکھنے کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے اتحاد کی بات چیت بھی شروع ہوگئی ہے۔

    فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے الزام کی وجہ سے پاکستانی حکومت اہلسنت والجماعت کو باقاعدہ کالعدم قراردے چکی ہے جبکہ اس سے قبل یہ سپاہ صحابہ پاکستان اورملت اسلامیہ پاکستان کے نام سے فعال تھی جنہیں بھی کالعدم قراردیاجاچکاہے۔’تجزیات‘ کومذہبی سیاسی رہنماﺅں نے بتایاکہ ملک میں جاری آپریشن کے سلسلے میں اہلسنت والجماعت بھی کافی متاثرہوئی ہے اورجماعت کے سینکڑوں فعال کارکنان اورہنما لاپتہ ہوچکے ہیں جن میں اکثر کوماورائے عدالت مقابلوں میں قتل بھی کیاجاچکاہے۔ اس حوالے سے جماعت ملک بھرمیں اپنے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لئے مظاہرے بھی کررہی ہے۔

    البتہ جھنگ کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 78 میں ماہ دسمبرمیں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اہلسنت والجماعت کے رہنما مسرورنوازجھنگوی کی آزاد حیثیت میں فتح کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت نے فرقہ وارانہ سیاست ترک کرکے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کافیصلہ کیاہے۔ اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدرعلامہ اورنگزیب فاروقی نے بھی کراچی میں گزشتہ ہفتے صحافیوں کی ایک غیررسمی نشست میں کھل کرکہاکہ وہ کسی بھی جماعت کے پلیٹ فارم کوکسی بھی فرقہ کے خلاف نعرے بازی یا تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اورنہ ہی کسی بھی تشددپسند اقدام کی حمایت کریں گے۔علامہ فاروقی نے یہ بھی کہاکہ وہ ملکی قوانین کااحترام کرتے ہیں اورکسی بھی پرتشددگروہ سے ان کی جماعت کاتعلق نہیں ہے۔

    پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی سیاست پرگہری نظررکھنے والے ماہرین گزشتہ چند ہفتوں سے اہلسنت والجماعت کی فرقہ وارانہ اورپرتشددسیاست ترک کرنے اور’مین اسٹریم‘ میں آنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم سیکیوریٹی امورکے ماہر محمد عامررانا نے بھی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک  کالم میں اہلسنت والجماعت کا نام لئے بغیرلکھا کہ ایک بڑا فرقہ پرست گروپ ماضی کی پرتشدد سیاست ترک کرکے مین اسٹریم سیاست میں حصہ لینے کا سوچ رہا ہے اور کھلے عام یہ اعلان کرنے کے لئے بھی تیارہے کہ مستقبل میں ان کی جماعت کے پلیٹ فارم سے کسی فرقے کے خلاف نعرے بازی نہیں ہوگی۔ محمد عامررانا کاکہنا تھاکہ ریاست فرقہ کی بنیاد پر فعال ایسے گروہوں کے ایسی پیشکشوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں پرامن سیاست میں لانے کی اجازت دے جس کی وجہ سے ان کے انتہاءپسندگروپوں سے رابطے منقطع ہوسکتے ہیں۔

    پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کے حوالے سے اہلسنت والجماعت کی قیادت نے فیصلہ کرلیاہے کہ وہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے ساتھ مل کر2018 ءکے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔ جمیعت علمائے اسلام(ف) کے اہلسنت والجماعت سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ جے یوآئی(ف) پاکستانی پارلیمان میں سب سے بڑی سیاسی مذہبی جماعت ہے جودیوبندی مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے کے باوجود تمام فرقوں اورمسالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتی چلی آرہی ہے جس کی بڑی مثال 2002 ءکے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کا قیام تھا جبکہ اہلسنت والجماعت شروع ہی سے جہادی تنظیموں مثلا جماعت الدعوہ اورانصارالامہ یا جے یوآئی ہی کے دھڑوں جسے سمیع الحق اورنظریاتی کے ساتھ اتحادوں میں چلی آرہی ہے جن میں دفاع پاکستان کونسل اورمتحدہ دینی محاذ شامل ہے۔ البتہ اہلسنت والجماعت کو پارلیمانی سطح پرکوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اہلسنت والجماعت اورجے یوآئی(ف) کے مابین برف اس وقت پگھلنے لگی جب جھنگ کے ضمنی الیکشن میں اہل سنت ولجماعت کے امیدوار مولانا مسرورنواز جھنگوی کو جماعت نے جے یو آئی(ف) میں شامل کروایا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں کے قائدین مولانا فضل الرحمان ،مولانا احمد لدھیانوی اور مولانا اورنگ زیب فاروقی کے مابین متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔ اورنگ ریب فاروقی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ جے یو آئی اور اہلسنت و الجماعت  میں اس وقت جو قربت نظر آرہی ہے اس سے پہلے نہیں تھی ،دونوں جماعتوں کی قیادت اس نکتے پر متفق ہے کہ مل کر الیکشن میں حصہ لیں گے اگر ایسا نہیں ہوسکا تو کم ازکم ایک دوسرے کے مدمقابل امیدوار کھڑے نہیں کریں گے ۔مبصرین کاکہناہے کہ دونوں جماعتوں کے متحد ہوکر الیکشن لڑنے کی صورت میں خیبر پختون خواہ اوربلوچستان میں جے یوآئی(ف) کی پوزیشن مستحکم جبکہ پنجاب اورسندھ، خصوصا کراچی سے متعدد نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی بھی ہو سکتی ہے ۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدہشت کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ )،فواذ اے جارج کی کتاب پر تبصرہ
    Next Article روایتی عسکری گروہوں کا چیلنج
    ضیاء الرحمٰن

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by