Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کرونا عہد کی چند سچی کہانیاں (قسط دوم)
    کالم

    کرونا عہد کی چند سچی کہانیاں (قسط دوم)

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانمئی 30, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کرونا عہد میں جب روئے زمین پر انسانی سرگرمیاں محدود ہوئیں تو اکثریت نے سیارہ سائبریا پر ہجرت کرلی۔ اس سیارے وسعت بے پناہ ہے۔ سائبراعداد و شمار پر کام کرنے والے اداروں کے مطابق اس وقت دنیا کی کل آبادی 7اعشاریہ 8 ارب کے لگ بھگ ہے۔ اور اس میں سے 59 فیصد 4 اعشاریہ 5 ارب افراد کو  اچھا برا انٹرنیٹ دستیاب ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کے حوالے سے عدم مساوات یا غربت ہے وہ ایشیاء ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ "انٹرنیٹ تک رسائی ” کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کرنے کے مطالبات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس سیارے کے بارےمیں وکی لیکس والے جولین اسانج نے ایک بار کہا تھا کہ اس سے بڑھ کر جاسوسی کی مشین آج تک نہیں بنی ۔ اب جب یہاں ہجرتیں بڑھ رہی ہیں اور یہی کئی سرگرمیوں کو زندہ رکھنے کا حوالہ ہے تو یقیناََ ابہام ، افواہ ، پروپیگنڈہ بھی یہاں اچھی باتوں  کےساتھ  ساتھ پہنچیں گے۔

    انٹرنیٹ کے علاوہ موبائل اور سمارٹ فونوں کا قبیلہ بھی اہم ہے۔دنیا میں اس وقت کل آبادی کے 68 فیصد یعنی 4 اعشاریہ 8 ارب افراد کے پاس موبائل فونز ہیں ۔ اور ان میں سے تقریباََ 3 اعشاریہ 5 فیصد کے پاس اسمارٹ فونز ہیں ۔ ان اعداد و شمار میں سے اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو 208 ملین آبادی میں سے 76 اعشاریہ 78 ملین کو انٹرنیٹ تک رسائی میسر ہے جبکہ 164اعشاریہ 9 ملین افراد کے پاس موبائل فونز ہیں۔ 37 ملین پاکستانی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ کرونا عہد میں ہمیں پاکستانی انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا پر خوب متحرک نظر آئے۔ ٹرائبل ڈسٹرکٹس (سابقہ فاٹا) کے طلبہ تو آن لائن ایجوکیشن کی گونج میں انٹرنیٹ تک موثر رسائی کے لئے مظاہرے کرتے بھی نظر آئے۔

    انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تذکرے سے آج ہم آپ کو کرونا عہد میں پارلیمنٹ کی کہانی سناتے ہیں ۔

    جونہی کروناکی وباء آئی پاکستان کی پارلیمنٹ پہ لاک ڈاؤن ہوگیا۔ اجلاس ختم ہوگئے ، کمیٹیوں کا کام تھم گیا اور سیکرٹریٹ میں چھٹی کاسا سماں ہوگیا۔ ویسے توکہتے ہیں کہ ایمرجنسی کا ماحول ، آئین ، قانون کی حکمرانی ،جمہوریت اور جمہوری اداروں بالخصوص پارلیمنٹ کے لئے کبھی اچھا نہیں ہوتا ۔لیکن ہماری صورتحال عجیب ہے۔ ایگزیکٹو نے اپنے پاس دو ہتھیار ایسے رکھے ہوئے ہیں کہ پارلیمانی ادارے ربڑ اسٹمپ بن کر رہ گئے ہیں ۔ پہلا ہتھیارصدارتی آرڈیننس ہے ۔ دنیا بھر میں پارلیمان وباء سے نمٹنے کے قوانین بنا کر چھٹی پر گئے  لیکن ہماری ایگزیکٹو نے یکے بعد دیگرے چار آرڈیننس جاری کئے اور اپنا کام چلایا ۔ ان میں ایسے آرڈیننس بھی تھے جن کا تعلق  ٹیکسوں ، کسٹم اور ڈیوٹیز میں ردوبدل سے متعلق تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ جب اجلاس ہوا بھی تو آئینی ضرورت کے تحت بھی یہ آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھے گئے۔  دنیا بھر کی طرح ہمارا دستور بھی یہی کہتا ہے کہ عوام کی منتخب کردہ اسمبلی کی منظوری  کے بغیر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا جاسکتا ۔ مگر ہماری ایگزیکٹو کے پاس سپلیمنڑی گرانٹس کا ہتھیار ہے اور بعد از خرچ ایک سطری منظوری سالوں بعد بھی دے دی جاتی ہے ۔ اسی طرح آئین کا دیباچہ اور قرارداد مقاصد کا متن تو ملکی معاملات عوام کے منتخب نمائندوں کےذریعے چلانے کی بات کرتا ہے لیکن عملاََ سارا کام ایگزیکٹو ریاست انہی دو ہتھیاروں سے چلاتی ہے ۔ ہم کون سا امریکہ ہیں کہ بجٹ منظور نہ ہونے پر حکومت کا شٹر ڈاؤن ہوجاتا ہے ۔ اپوزیشن نے شور مچایا تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ورچوئل اجلاس کروانت پر غور ہوا اور پھر جب بات فزیکل اجلاس پر آئی تو قومی اسمبلی کا تین دن کا اجلاس اور سینٹ کا دو دن کا اجلاس "ٹاک شاپ ” یا پھر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیبیٹنگ مقابلہ تھا ۔ وہ بھی الزامات سے بھرپور، تاہم کرونا عہد کا سچ یہ بھی ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور متعدد اراکین اسمبلی و سینٹ کرونا کا شکار ہوکر صحت یاب ہوئے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے رکن سید فضل آغا اور پنجاب اسمبلی کی رکن شاہین رضا کرونا وائرس کے سبب جہان فانی سے کوچ کرگئے ۔ اب  5 جون سے دونوں ایوانوں کا نیا اجلاس ہے جو کہ بجٹ اجلاس ہوگا اور شائد طویل ترین اجلاس ہوگا کیونکہ سوچا جارہا ہےکہ 130دن کے آئینی اجلاس کی ضرورت بھی پوری کرلی جائے ۔ خدا کرے کہ یہ اجلاس خیریت سے ہوجائیں اور آزمائش کی کوئی نئی کہانی نہ لکھنی پڑے۔

    کرونا عہد میں اہل سیاست بھی ورچوئل اجلاسوں ، پریس کانفرنسوں اور ٹیلی ویژن ٹاک شوز تک محدود ہیں ۔ جلسے جلوسوں کو تو سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کی بھی ہے ۔ وباء کے موسم میں انتخابات اور انتخابی مہم کا سوچنا بھی محال ہے ۔ سندھ اور اسلام آبا د میں لولی لنگڑی لوکل گورنمنٹ ہے لیکن وہ ریلیف کے کام میں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ اسلام آباد کے میئر کو تو وفاقی حکومت نے معطل بھی کردیا اور اب انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحال کیا ہے ۔ صرف کنٹونمنٹ بورڈ کےمقامی  نمائندے اپنی ٹرم پوری کرنے کے بعد بھی کام کررہے ہیں ۔

    کرونا کے جمہور پر اثرات تو ہوئے ہی ہیں ۔ جمہوریت ، جمہوری عمل (سیاسی جماعتوں  ، انتخابات وغیرہ)اور جمہوری ادارے مثلاََ پارلیمان تک اس کے اثرات سے بچ نہیں پائے۔ کیا یہ وباءکے خاتمے کا انتظار کرلیں گے یا پھر سیاسی عمل بھی کرونا اور بعد از کرونا عہد میں بالکل مختلف انداز میں ہوگا۔

    ہمارے ہاں تو ہائبرڈ سسٹم کی بات کسی اور انداز میں تو ہوتی ہی رہتی ہے کیا اب جمہوری اداروں کی فعالیت بھی ہائبرڈ ماڈل یعنی فزیکل اور ورچوئل کے امتزاج سے ہی ممکن ہوپائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکرونا عہد کی چند سچی کہانیاں
    Next Article شہزاد اکبر کون ہے؟
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by