Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تکفیری سوچ نے مذہب کو نقصان پہنچایا
    کالم

    تکفیری سوچ نے مذہب کو نقصان پہنچایا

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولفروری 2, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ’’میں کسی عالِم کی کتب کا مطالعہ اس ارادے اور نیت سے کروں کہ ان کی کتابوں سے اخذ کردہ عبارات کی من مانی تشریح کروں اور لوگوں کو بتاوں کہ یہ صاحب کفریہ نظریات رکھتے ہیں‘‘۔

    یہ روش برصغیر میں یا عالٙم اسلام میں جس نے بھی سب سے پہلے اختیار کی اس نے مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم کیا۔ مسلمانوں میں خون ریزی، فساد، فرقہ واریت اور جنگ و جدال کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ  تکفیری سوچ اور رویے کو منبر و محراب سے عام کیا گیا۔ فروعی مسائل کے تانے بانے ارادتاََ اصولی مسائل سے جوڑے گئے اور کوشش کی گئی کہ کسی طرح مخالف کو دائرہ اسلام سے نکال باہر کیا جائے۔ کلامی مسائل جو دور رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و دورِ صحابہ کے بعد یا اُن کے آخری زمانے میں اُٹھائے گئے ان کی بنیاد پر جیّد اور عبقری علما و ائمہ پر صرف فتوے نہ لگے بلکہ اس کی پاداش میں ان کی جان بھی چلی گئی۔

    یہ کام صرف ذاتی سطح پر نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ہوا۔ ریاست مذہب سے خود کو غیرجانبدار نہ رکھ سکے یا کسی ایک مذہب کی خدمت گار بن جائے تو پھر وہی قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ہے جو ہماری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ برصغیر میں گزشتہ دو صدیوں سے  یہی سرگرمیاں اپنے عروج پہ ہیں۔ اب تکفیری ذہن جس حد تک پروان چڑھ چکا ہے اور اس سے جو خلیج مسلمانوں میں پیدا ہوئی اُسے کم کرنے کی کوشش ناامیدی کی حد تک ناپید ہوچکی ہے. موجودہ پروردہ ذہن اِسے خدمت دین خیال کرتا ہے۔ وہ مختلف فرقوں کے علما یا جس کا کوئی فرقہ نہیں ہے لیکن وہ قرآن وسنت سے وابستہ ہے  جستجو اور کھوج میں رہے کہ کب کیسے اور کِسے کافر قرار دے سکتا ہے؟

    بہترین روّیہ یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں کسی سے اختلاف ہے تو وہ اختلاف واضح کیا جائے، اس کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں کردی جائے۔ کسی شخص کو کٹہرے میں کھڑا نہ کیا جائے۔ اس کے خلاف لوگوں کو مشتعل نہ کیا جائے۔ تقریر و تحریر کے ذریعےاس پر فتوے نہ لگائے جائیں۔

    ہر مسلک کے علما کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ سب نے اس اعلیٰ مقصد کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں۔ دن رات قال اللہ اور قال قال رسول اللہ ہی پڑھا اور پڑھایا ہے۔ یہ روّیہ افسوسناک ہے کہ ہم اپنے تخلیق کردہ مسائل اور عقائد کی روشنی میں دوسروں کی تکفیر کریں یا ان کے خلاف فتوے اکٹھے کرتے پھریں۔ اس صورت حال کی اصلاح تربیت و تعلیم سے اس طرح ہوسکتی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اس کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے کہ ہم کسی کے ایمان اور کفر کا فیصلہ کریں اور اس کے خلاف فتویٰ دیں۔ ہماری ذمہ داری صرف حق کی وضاحت و توضیح ہے اور دوسروں تک درست بات پہنچانا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایران جنگ نہیں کرے گا
    Next Article مسلم سماج اور طبقاتی فکری حقوق
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by