Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مولانا طارق جمیل اور وینا ملک
    کالم

    مولانا طارق جمیل اور وینا ملک

    اسد علی طورBy اسد علی طورمارچ 21, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مولانا صاحب ایک بھرپور جوانی گزارنے کے بعد ادھیڑ عمری میں دعوت و تبلیغ سے وابسطہ ہوئے اور انہوں نے اپنی شخصیت کے سحر سے تبلیغی جماعت کو پاکستان میں چلنے والی تمام مذہبی تحریکوں سے ممتاز بنا دیا۔ لیکن یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے مولانا طارق جمیل نے پرانی سوچ کے حامل مبلغین کے طریقہ پر چلنے کی بجائے غیر روائتی طریقہ اختیار کیا۔

    مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کے سب سے معروف مبلغ مولانا طارق جمیل ہیں۔ مولانا صاحب ایک مخصوص فقہ سے وابستگی کے باوجود پاکستان کے تمام فقہوں کے ماننے والوں میں مجموعی طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ البتہ دیوبند کے علاوہ دیگر مکاتبِ فکر کی نمائندہ تنظیموں میں مولانا طارق جمیل شاید اتنے قابلِ قبول نہیں جس کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے ‪-‬ بے انتہا شہرت اور احترام کے باوجود مولانا صاحب کی شخصیت میں جو تشنگی باقی ہے وہ ان کا اپنے اثرورسوخ اور قد کاٹھ کو پاکستان میں سماجی تبدیلی کے لیے استعمال نہ کرنا ہے۔ حالانکہ تبلیغی جماعت کے جس پلیٹ فارم سے مولانا طارق جمیل منسلک ہیں اس کا ایجنڈا ہی  معاشرتی برائیوں کو ختم کرتے ہوئے لوگوں کو دین کی معتدل اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرنا ہے۔
    مولانا صاحب ایک بھرپور جوانی گزارنے کے بعد ادھیڑ عمری میں دعوت و تبلیغ سے وابسطہ ہوئے اور انہوں نے اپنی شخصیت کے سحر سے تبلیغی جماعت کو پاکستان میں چلنے والی تمام مذہبی تحریکوں سے ممتاز بنا دیا۔ لیکن یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے مولانا طارق جمیل نے پرانی سوچ کے حامل مبلغین کے طریقہ پر چلنے کی بجائے غیر روائتی طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے غیر مذہبی  بیک گراونڈ سے تعلق رکھنے والے لیکن شہرت کی بلندی پر موجود کھلاڑیوں اور اداکاروں کو انتہائی مہارت سے اپنی پزیرائی کے لئے استعمال کیا۔ مولانا نے جس مہارت سے ان کھلاڑیوں اور اداکاروں کے پرستاروں میں اپنا قد کاٹھ بڑھایا وہ ثابت کرتا ہے کہ مولانا ایک دماغ استعمال کرنے والے عالم ہیں۔ لیکن مولانا نے کامیابی کے یہ زینے طے کرنے کے بعد کیا بصیرت کا بھی مظاہرہ کیا؟
    حال ہی میں اداکارہ وینا ملک کی خلع کی خبر میڈیا کی ذینت بنی اور ہمارے نیوز چینلز نے اپنی کاروباری ذہنیت کے تحت اس خبر کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر سنسنی خیز بنا دیا۔ یہ وینا ملک کا گھریلو مسئلہ تھا لیکن جس انداز میں وینا ملک نے ٹی وی چینلز پر نمودار ہونا شروع کیا ہوا اس سے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ “توجہ حاصل” کرنے کی متقاضی ہیں۔ ہم میڈیا والوں کو بکنے کو ایک “اوپرا سوپ” مل رہا تھا ہم نے بھی بڑھ چڑھ کر بیچا۔۔ کہانی نے جب ریٹنگ حاصل کرنی شروع کردی اور بوریت کے شکار عوام کو بھی سستی تفریح ملنے لگی تو مولانا طارق جمیل نے بھی انٹری دی۔۔۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک شو میں وینا ملک اور ان کے شوہر اسد خٹک میں مصالحت کروائی۔۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایک اداکارہ کی ذات میں مولانا کی دلچسپی کیا ہے؟ کیا مولانا اتنے معصوم ہیں کہ وہ ریٹنگ حاصل کرنے کے شوقین ایک اینکر اور توجہ کی متقاضی ایک خاتون کے ہاتھوں ٹریپ ہوگئے؟ اگر مولانا طارق جمیل کے پیروکاروں کی یہ دلیل مان بھی لی جائے کہ انہوں نے نیکی کی نیت سے یہ کام کیا کیونکہ دو ناراض لوگوں کو ملانا بہت افضل کام ہے۔ تو  یہ سوال بنتا ہے کہ اتنے بلند مقام پر بیٹھ کر مولانا کو چند جانی پہچانی شخصیات کے ہی مسائل سے دلچسپی کیوں؟ مولانا کے اردگرد اس سے زیادہ مجبور سائلین دادرسی کے لیے رل رہے ہیں ۔۔۔
    مضاربہ اسکینڈل میں ہزاروں غریب اور مڈل کلاس پاکستانیوں کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری چند مذہبی افراد نے ہتھیا لی اور ملک سے فرار ہوگئے۔۔ مولانا نے  خود کو  یہ کہہ کر الگ کر لیا کہ لوگوں نے سرمایہ ان سے پوچھ کر نہیں لگایا تھا۔۔۔ ۔۔ ان لوگوں کی اپنی کوئی ساکھ نہیں تھی بلکہ آپ کی ساکھ کو ہی ان لوگوں نے استعمال کیا۔۔ اس فراڈ کا شکار ہونے والوں کی اکثریت تبلیغی جماعت کے ہمدردوں کی تھی۔  لیکن ہوا کیا؟  وہ پیسہ لوٹ کر فرار ہوگئے اور یہاں جن بیگمات نے اپنے شوہروں سے چھپ کر سرمایہ کاری کی تھی ان میں سے درجنوں کو طلاق ہوئی، کئی بیوگان نے صدمے سے خودکشی کی اور معلوم نہیں کتنے سفید پوش بزرگ اب کمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔  کیا مولانا جیسی دینی شخصیت حقوق العباد کے فرائض سے نابلد تھی کہ انہوں نے یہ تکلف کرنا گنوارہ نہ کیا کہ ان خواتین کے گھر بھی بچانے کی کوشش کرتے۔ کیا وینا ملک  ان بے کس غریب بیواوں سے زیادہ اہمیت ملنے کی حقدار تھی ؟
    مضاربہ اسکینڈل واحد مسئلہ نہیں جہاں مولانا نے جان بوجھ کر کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے جان چھڑوائی۔ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ کا سامنا ہے۔ سول اور ملٹری قیادت جنرل کیانی کے دور سے اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کو خطرہ اب بیرونی نہیں اندرونی ہے۔  دہشت گرد تنظیموں کی انتہا پسندی کا جوابی بیانیہ کیا علما کی ذمہٰ داری نہیں ہے؟ کیا یہ دہشت گرد ہم جیسے غیر مذہبی اور دینی لحاظ سے کمزور پسِ منظر رکھنے والے افراد کی درخواست پر ہتھیار رکھنے کو تیار ہوں گے؟ کبھی نہیں۔۔۔ یہ مولانا طارق جمیل جیسہ رتبہ رکھنے والے عالم سے ہی مکالمہ کرکے ہتھیار رکھ سکتے ہیں۔ ملک میں ستر ہزار سے زائد مسلمان شہری اور فوجی اہلکار بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی نظر ہوگئے لیکن مولانا طارق جمیل کی طرف سے جوابی بیانیہ تو کجا دہشت گردوں کی کبھی کھل کر مذمت بھی نہ کی گئی۔ کچھ ہفتے قبل سندھ میں مشہور صوفی شہباز قلندر کے مزار پر حملے میں درجنوں مسلمان مرد، عورتیں اور شیر خوار بچے شہید ہوگئے لیکن مولانا طارق جمیل پاکستانی ٹی وی چینلز پر نمودار نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سوشل میڈیا پر کوئی وڈیو پیغام جاری کرکے اس خونریزی کی مذمت کی۔ ہاں وینا ملک کی خلع نے ان کو ضرور پریشان کیا۔
    مولانا طارق جمیل ہر طبقے کے لیے قابلِ قبول خطبے بڑے دلکش انداز میں دیتے ہیں لیکن کیا کبھی مولانا نے سوچا یا جانچنے کی کوشش کی کہ ان کی اس محنت نے سماجی رویوں میں کیا کوئی مثبت تبدیلی پیدا کی؟ سوشل میڈیا پر ایک مقبول وڈیو میں مولانا طارق جمیل کو سنا جاسکتا ہے کہ بیوی سے ساس سسر کی خدمت کا اللہ نے کوئی حکم نہیں دیا اس لیے آپ اس کو مجبور نہیں کرسکتے۔۔ لیکن کیا کبھی اعدادو شمار کا جائزہ لیا کہ پاکستان میں چولہہ پھٹنے سے بہووں کی ہلاکت کے واقعات میں کوئی کمی ہوئی یا نہیں؟ مولانا کبھی ٹیکس افسران کے سیشن سے خطاب کرنے پہنچ جاتے ہیں کبھی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے ہیں لیکن کیا کبھی انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت کی کہ محکمہ ٹیکس میں رشوت ستانی ان کے خطبات سے کم ہوئی یا نہیں؟
    مولانا طارق جمیل نے اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں سوشل میڈیا پر لگا کر اور خطبات میں بھارتی اداکار عامر خان، جنید جمشید، کرکٹر شاہد آفریدی وغیرہ کے قصے سنا کر شاید اپنی شخصیت کو تو گلیمرائز کرلیا لیکن اپنی بڑھتی ہوئی اس فین فالونگ کا مثبت فائدہ اٹھانے کی بجائے حج اور عمرہ کا کمرشل فائدہ اٹھایا۔ مولانا طارق جمیل کی ایک سوشل میڈیا وڈیو کا چرچا رہا۔۔ مولانا فرماتے ہیں ایک بار مجھے بھارتی اداکار عامر خان کی کال آ گئی کہ میری نئی آنے والی فلم کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔۔ میں پریشان ہوگیا کہ میں ایسے کام کے لیے کیسے دعا کروں جو گناہ کے ذمرے میں آتا ہے یعنی اداکاری۔۔ مولانا کیا آپ نے یہ بات کہنے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈے دل سے سوچا کہ اداکاری ہی وہ پروفیشن ہے جس نے عامر خان کو شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچا دیا ہے کہ آپ اور آپ کے سامعین اِن میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوگئے ورنہ مجھ جیسے عام گناہ گار سے ملنے کے لیے برینڈ نیو بلیک لینڈ کروزر میں سفر کرنے والے مولانا طارق جمیل اتنی تگ و دو کیوں نہیں کرتے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبے سمت راہوں کا سفر
    Next Article ہماری آگ میں جلتے کمزور طبقات
    اسد علی طور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by