Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گزشتہ ہفتے کے دوران عراقی سرزمین پر ایران امریکا کشیدگی کیسے بڑھی؟ چند اہم واقعات
    کالم

    گزشتہ ہفتے کے دوران عراقی سرزمین پر ایران امریکا کشیدگی کیسے بڑھی؟ چند اہم واقعات

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 4, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جمعہ کے دن امریکا نے اہم ترین ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنا کر ایران کے خلاف کھولے گئے محاذ کو نئے رُخ پر ڈال دیا ہے۔ ذیل میں گزشہ آٹھ دنوں کے دوران پیش آنے والے ان نمایاں واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے معاملات یہاں تک پہنچے۔

    جمعہ، 3 جنوری

    امریکی ڈرون نے دو کاروں کو نشانہ بنایا جو بغداد ایئرپورٹ سے جنرل قاسلم سلیمانی اور چند دیگر ایرانی حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیموں کے ارکان کو لے کر جارہی تھیں۔ امریکی سرکاری ذمہ داران کے مطابق جنرل سلیمانی ایرانی سپریم لیڈر کے مقرب تھے اور ملک کی خفیہ ایجنسی کے حلقے میں اہم حیثیت کے حامل تھے۔

    منگل، 31 دسمبر

    یہ حملہ منگل کے دن پیش آنے والے اس واقعے کے بعد رونما ہوا جب اس روز ایک ایران نواز ملیشیا کے مظاہرین نے عراق میں امریکی سفارت خانے کا رُخ کیا، اس کا گھیراؤ کیا اور 24 گھنٹوں تک عملاََ سفارت خانے کے اہلکاروں کو اندر محبوس رکھا گیا۔ مظاہرین مرکزی دروازے سے اندر بھی گھسے اور عمارت کے سامنے والے حصے کو نذرآتش کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس کا الزم ایران کو دیا تھا۔

    اتوار، 29 دسمبر

    سفارت خانے کی جانب مظاہرے کا سبب امریکی فضائی حملے تھے جن میں عراق و شام میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملوں کے دوران 24 افراد مارے گئے تھے۔

    ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا عراق میں ایک طاقتور عنصر ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں ایک بڑی اکثریت رکھتی ہیں۔ جب سے امریکا نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں ان تنظیموں کی طرف سے امریکی مفادات کو ٹارگٹ کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔

    جمہ، 27 دسمبر

    سابقہ امریکی فضائی حملوں کی وجہ یہ تھی کہ عراقی ملیشیا نے کرکوک کے نزدیک واقع عراقی سرکاری ملٹری کیمپ پر 30 راکٹ داغے تھے، جس سے وہاں موجود ایک امریکی سویلین تاجر کی موت ہوئی تھی اور چار امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ امریکا نے اس کی ذمہ داری ایرانی نواز کتائب حزب اللہ پر عائد کی تھی، جبکہ تنظیم نے اس سے انکار کیا تھا۔

    مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: نیویارک ٹائمز

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدینی و عصری اداروں میں ابتدائی سطح پر یکساں نصابِ تعلیم ضروری ہے
    Next Article اٹک کی عالمی شہرت یافتہ سرنگیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by