Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تذبذب کی سماجیات
    کالم

    تذبذب کی سماجیات

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعودمارچ 24, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم ابھی تک تذبذب کی سماجیات میں جی رہے ہیں۔ کبھی اسے شہریت قرار دیتے ہیں کبھی اخلاقیات میں محدود کرتے ہیں۔ کبھی اسے دین بنا کر معاشرے پر گرفت مضبوط کرنے کا علم سمجھتے ہیں۔

    آج کل ضرب عضب کے بعد ہم رد الفساد کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ بقول اکبر الہ آبادی

    توپ کھسکی پروفیسر آئے

    جب بسولہ ہٹا تو رندا  ہے

    بعض لوگوں کو گلہ ہے کہ توپ، پروفیسر، بسولہ اور رندا ایک ہی کمپنی فراہم کر رہی ہے۔ لیکن ہماری رائے میں یہ گلہ بے جا ہے۔ ستر برس اسی سوچ میں گذرگئے کہ ہم کون ہیں؟ کدھر جانا ہے؟  قرار داد مقاصد  نے  یہ تو طے کردیا کہ ہمیں کدھر جانا ہے اور کیسے جانا ہے۔ لیکن  ہم تذبذب سے نکل نہیں پائے۔ دو آئین مرتب کئے لیکن تذبذب نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ خود کو تو کیا تبدیل کرتے دونوں آئین تبدیل کردئے لیکن تذبذب وہیں کا وہیں رہا۔ ۱۹۷۳ میں اتفاق رائے سے تیسرا آئین ترتیب دینے میں کامیاب ہوگئے۔ خوش تھے کہ الجھے ہوے مسائل طے پا گئے۔ جمہوریت، شریعت، بنیادی حقوق، مسلم کون اور غیر مسلم کون، اقلیتوں کی حیثیت، حقوق سب  سوالوں کے جواب آئین میں لکھ دئے گئے۔ لیکن اس آئین کے بارے میں یہ تذبذب ہی رہا کہ یہ آئین تحریری عمرانی معاہدہ  ہے کہ نہیں۔

    نصف صدی سے زیادہ قومیت کی تاریخ اور جغرافیہ درست کرنے میں گذر گئی۔  اسی تگ و دو میں جغرافیہ دو ٹکڑے ہو گیا۔ تاریخ ماضی  قریب سے سفر کرتی ماضی بعید  میں  پہنچ کرکِرچی کرچی ہوگئی۔ وطنیت لسانی گروہ بندی کی چادر اوڑھ کرہانڈی چولھا الگ کرنے کا مطالبہ کرنے لگی۔ معیشت  طبقاتی  خلیجیں پیدا کرکے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگاتی گئی۔ علم اور تعلیم  اشرافیہ کے جزیرے بنا تی رہی ۔ مسجدیں، مدرسے مذہب اور دینی اقدار کے گرد مسلکوں اور فرقوں کی دیواریں کھڑی ہوتی گئیں۔ جب مذہبی منافرت کی بارود نے مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں ، گرجاؤں اور سکولوں کو خون سے نہلا د یا تو ہم سکتے میں آگئے۔ ہم کہتے رہے کہ یہ کام مسلمانوں کا نہیں ہے۔ لیکن فساد بڑھتا گیا۔ قتل و غارت کا اندھیرا پھیلتا گیا۔ ہم کہتے رہے یہ جنگ ہماری نہیں۔ لیکن اس شدت پسندی  کی جنگ کا ہدف بھی مسلمان تھے، شکار  بھی مسلمان اور الزام بھی مسلمان ۔ ہم چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ یہ بیرونی سازش ہے لیکن خود کش حملہ آوروں  کے نعروں، معصوم بچوں کی چیخوں اور دھماکوں  کے شور میں دبی  ہمیں اپنی ہی آواز اجنبی لگتی تھی۔

    ہم  شاید تاریخ کا یہ سبق بھول چکے تھے کہ جو قومیں اندر سے کمزور ہوں وہی  طالع آزماؤں کا لقمہِ تر بنتی ہیں ۔ یہ طالع آزما ہمیشہ باہر کے نہیں ہوتے۔ ہم نے ہر مسئلے کو  قومی ریاست اور مذہب کے زاویوں سے دیکھا۔ ہم نےجغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی بات تو کی ، لیکن دونوں کو نظریاتی سرحدیں قرار دے کر۔ یہ یاد نہ رہا کہ نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں دونوں کی حفاظت کے طریق کار مختلف ہیں۔ حقایق کو نظریاتی بنا لینے سے نظری تجزیے بھی صرف نظریاتی شدت پسندی، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو جنم دیتے ہیں۔

    ہم فساد   کےمذہبی جوازاور نظریاتی اسباب دریافت کرتے رہے اورقرآن کی یہ یقین دہانی بھول گئے کہ بحرو بر میں فساد انسان کے ہاتھوں پھیلا ہے۔ ظلم انسان کرتا ہے۔  ظلم، فساد، نا انصافی اور قتل و غارت رضائے الہی نہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں تعمیر معاشرت کے دو اصول اجتہاد اور تجدید اس بات کو مان کر چلتے ہیں کہ سماج آئے دن تبدیل ہوتا ہے۔ انسانی علم محدود ہے اور سماجی تبدیلیاں لامحدود۔ اجتہاد اس  مسلسل علمی جد وجہد کا نام ہے جو ان سماجی تبدیلیوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ سماجی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل کا تجزیہ کرتی ہے اور ان تبدیلیوں کی پیدا کردہ سماجی ٹوٹ پھوٹ،اورمعاشرتی تنازعات کا بے لاگ تجزیہ کرکے مسائل کا حل دریافت کرتی ہے۔ تجدید کا اصول سماجی تبدیلیوں کے پس منظر میں سماج کی تشکیل نو کے عمل کو جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اسلامی روایت کے مطابق ہر صدی میں امت تجدید اور تشکیل نو سے تازہ دم ہوتی ہے۔  ثبات اور تغیر کے اس سماجی عمل کی ذمہ داری قوم کے تمام افراد کے سر ہے جو اتفاق رائے اور باہمی تعاون سے ان مسائل اور تنازعات کو حل تلاش کرتے ہیں تاکہ معاشرہ نہ جمود کا شکار ہو اور نہ افتراق اور فساد کا۔ سنت الہی ہے کہ جب تک لوگ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے تیار نہ ہوں اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا۔

    اسلامی روایت میں فرد اور معاشرے کے مطالعے کے لئے علوم تو تشکیل ہوے اور سماجی تبدیلیوں، قوموں کے عروج اور زوال کے اصول دریافت کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن ان علوم کا طریق کار زیادہ تر نظری تھا۔ ابن خلدون، ابن مسکویہ، فارابی کی کوششیں فلسفی منہج پر تھیں۔ البیرونی جیسے محقق بھی تھے جنہوں نے معاشرتی مطالعے کے لئے ان لوگوں میں رہنا، ان کی زبان سیکھنا ، ان کے علوم میں دسترس حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ ابن بطوطہ اور اس جیسے کئی علما نے دور دراز کے سفر کر کے لوگوں کے رسوم و رواج اور عادات کا مطالعہ بھی کیا۔  اسلامی قانون میں مقامی رواج و عادات  کو بہت اہمیت دی گئی۔  مفتی، قاضی اور مجتہد کے لئے سماج ، عادات اور رواج سے واقفیت کو لازمی قرار دیا گیا۔ ۔ یوں سماجیات کا علم جو شاہ ولی اللہ کے ہاں احکام شریعت  کے اسرار کی دریافت سے آگے بڑھ کر سماجی ارتفاقات ، تدبیر منزل اور رسوم و رواج کے سماجی کردار کی کھوج تک آ پہنچا تھا۔ لیکن تقلید کا غلبہ ہوا تو رسوم و رواج کا مطالعہ بدعات کی نشاندہی تک محدود ہوگیا۔ اصلاح پر زور ہوا تو استصلاح یعنی قانون کے مقاصد اور مصالح کی اہمیت کم ہوگئی۔

    سماجیات کا علم سماج کے مطالعے کا نام ہے۔ فرد اور معاشرے کا کیا تعلق ہے، فرد کے رویے کی نشوو نما اور کردار سازی میں سماجی ادرارے کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ سماجی ارتقا کسے کہتے ہیں۔ اس ارتقا کے مراحل کیا ہیں۔ سماجی رویے اور اخلاقیات میں کیا رشتہ ہے۔ سماج اور ریاست میں کیا رشتہ ہے۔ سماج اور مذہب میں کیا تعلق ہے؟ سماج قومیت کو اور شہریت کی اقدار کو کیسے مستحکم کرتا ہے۔  سماجی ادارے کونسے ہیں ۔ سماجی تنازعات کے اسباب، نتائج اور اثرات کیا ہیں؟ سماج میں بدلتی اقدار اور رویوں کا مطالعہ کیسے کیا جائے۔ ان کو شماریات میں کیسے تبدیل کیا جائے۔  یہ سارے سوالات ہیں جن کا سماجیات کا علم مطالعہ کرتا ہے۔ اور معروضی تجزیات کے ذریعے منصوبہ سازی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مثلا ماہرین سماجیات نے خود کشی کے رجحانات، اسباب اورواقعات کا باقاعدہ مطالعہ کرکے اس کے بارے میں بہت سی غلط  فہمیوں کو دور کیا۔ اس مطالعے کی بنیاد پر قانون میں اصلاح کی گئی۔

    ہم ابھی تک تذبذب کی سماجیات میں جی رہے ہیں۔ کبھی اسے شہریت قرار دیتے ہیں کبھی اخلاقیات میں محدود کرتے ہیں۔ کبھی اسے دین بنا کر معاشرے پر گرفت مضبوط کرنے کا علم سمجھتے ہیں۔ ہم سماجیات کو معروضی علم  کے طور پر تسلیم کرنے میں سخت تذبذب سے دوچار ہیں۔ کہیں سماج کے بارے میں ہمارے مفروضات اور مسلمات غلط نہ نکلین۔ ہم سماج کی درستی  چاہتے ہیں لیکن سماج کی حرکیات کو ماننےکے لئے تیار نہیں۔ ہم سماجی تبدیلیوں میں جی رہے ہیں لیکن ان تبدیلیوں  کا اعتراف کرنے میں تذبذب سے کام لے رہے ہیں۔ ہم اس امید میں  ادھار کی زندگی جی رہے ہیں  کہ رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔

    ماضی قریب میں علوم کو اسلامی بنانے کی تحریک اٹھی تو موقع تھا کہ ہم سماجیات کے علم سے صحیح معنوں میں استفادہ کریں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ہم تذبذب کا شکار رہے۔ ایک ماہر سماجیات نے اسلامی سماجیات کی تعریف کرتے ہوے یہ لکھا کہ سماجیات کا علم بتاتا ہے کہ ایک صحیح اسلامی معاشرہ کیسے بنتا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے اسلامی فقہ کو اسلامی سماجیات کا علم قرار دیا۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کرنا ضروری سمجھا کہ ابن خلدون کو اسلامی سماجیات کا بانی کہنا گمراہ کن ہے۔ اسلامی سماجیات کے صحیح نمائندہ امام ابوحنیفہ اور ان جیسے فقہا ہیں۔ فقہ اسلامی  اور سماجیات ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تو ہیں لیکن  نہ فقہ سماجیات کا علم مہیا کرتا ہے اور نہ سماجیات فقہ کی جگہ لے سکتی ہے۔ تذبذب کی یہی سماجیات ہے جو نہ منزل کے بارے میں پر عزم ہونے دیتی ہے نہ  رہبر کی پہچان میں مدد دیتی ہے۔ یہ کیسا تذبذب ہے کہ

    چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
    ہر اک سے پُو چھتا ہوں کہ “ جاؤں کدھر کو مَیں“
    چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ
    پہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں
    خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
    کیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں
    پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یار
    جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکراچی کے یہودی(حصہ اوّل)
    Next Article شریعت اور آئین
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by