Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کیا یمن جنگ سے باہر نکل پائے گا؟
    کالم

    کیا یمن جنگ سے باہر نکل پائے گا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 6, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دوہزار پندرہ میں جب سعودی عرب اور امارات کی سربراہی میں ایک عرب فوجی اتحاد قائم ہوا تو یہ کہا گیا تھا کہ یمن کا مسئلہ چند ہی ماہ میں حل کرلیا جائے گا۔ لیکن آج عرب اتحاد کا محض نام باقی ہے اور یمن کی جنگ کے شعلے سعودی عرب کے اندر داخل ہوچکے ہیں۔ اس جنگ سے امارات کی علیحدگی کے بعد حوثیوں کو مزید حوصلہ ملا ہے اور انہوں نے سعودی عرب کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ کردیا ہے دوسری طرف سعودی عرب بھی مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں امن کے قیام کی کوئی صورت نظر آتی ہے یا یہ مشرق وسطیٰ کا افغانستان بن چکا ہے؟

    آرامکو پر میزائل حملوں اور امارات کی میدان سے علیحدگی کے بعد سعودی عرب کے موقف میں نرمی دکھائی دی ہے۔  سوڈان نے بھی اپنے کرائے کے چالیس ہزار فوجیوں میں سے کچھ تعداد کو واپس بلا لیا ہے۔ یمن پر بمباری سے اب تک سعودی حکومت کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکی، سوائے اس کے کہ ان سے عام شہری متأثر ہوتے ہیں اور اس کے سبب محمد بن سلمان کو دنیا میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ آرامکو حملے کے بعد امریکا کے سرد موقف نے بھی شہزادے پر یہ ثابت کردیا ہے کہ بہتری اسی میں ہے سعودی عرب اس مسئلے کو جلدازجلد حل کرلے۔ یہی وجہ ہے کہ نومبر کے وسط میں ان کے چھوٹے بھائی اور نائب وزیردفاع خالد بن سلمان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بات چیت کے لیے گئے تھے، مسقط حوثیوں کا مذاکرات کا غیررسمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اہم امریکی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ خالد بن سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح یمن کے بحران کو کنارے لگانا ہے۔

    سعودی عرب پہلے براہ راست حوثیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے رضامند نہیں تھا لیکن اقوام متحدہ کے دباؤ کے بعد اس نے یمن میں اپنی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مذاکرات کرانے کی حامی بھری۔ اب سعودی حکام خود بھی بحران میں کسی اتفاق تک پہنچنے کے لیے حوثیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    سعودی حکام یہ چاہتے ہیں کہ حوثی جماعت ایران سے پوری طرح قطع تعلق کرلے اور اس سے تعاون نہ لے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے یہ چیز بھی پریشانی کا باعث ہے کہ اس جماعت کے اخوان المسلمین کے عناصر کے ساتھ روابط بھی ہیں

    ستمبر کے مہینے میں مسقط میں ہونے والے ایک اجلاس میں حوثی جماعت کے سربراہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر سعودی عرب فضائی بمباری روک دے تو وہ اپنی کاروائیاں موقوف کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم سعودی عرب نے اس کے بعد بمباری میں کمی تو کی لیکن حملے مکمل طور پہ بند نہیں کیے۔ سعودی حکام یہ چاہتے ہیں کہ حوثی جماعت ایران سے پوری طرح قطع تعلق کرلے اور اس سے تعاون نہ لے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے یہ چیز بھی پریشانی کا باعث ہے کہ جماعت کے اخوان المسلمین کے عناصر کے ساتھ روابط بھی ہیں۔

    حوثیوں اور اخوانیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے یمن کے جنوبی حصے میں امارات نے سلفی خیالات کے مالک گروہوں کی اپنی سرپرستی میں عسکری تربیت کی۔ یہ تقریباََ 90 افراد تھے۔ یہ غلطی ایک الگ دردِسر بن گئی ہے۔ عراق میں بھی یہی غلطی کی گئی تھی جس کا نتیجہ داعش کی صورت میں دنیا کو بھگتنا پڑا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر الیزابتھ کنڈل نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی حصے میں نئے شدت پسندی کا بیج رکھنا آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا، کتنی عجیب بات ہے کہ اب اماراتی حکام اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ شدت پسند گروہ اب علیحدگی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جنوبی حصے کو الگ ریاست بنایا جائے۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ علیحدگی کا مطالبہ ان کا اپنا ہے یا اس کے پیچھے امارات کا کردار ہے۔

    امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے کہا ایک پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے یمن میں فساد برپا کیا ہے لیکن بحران کے حل کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام فریقوں کو امن عمل کا حصہ بنایا جائے، حوثی بھی یمن کے شہری ہیں اور مستقبل میں ان کے کردار اور حصے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    بظاہر اس جنگ کے تمام فریق جنگ  ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی شرائط و خواہشات کا اختلاف بہت وسیع ہے اور ان میں سے کسی فریق کا کردار ایسا بھی نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جاسکے۔۔ یہ بھی لگتا ہے کہ حوثی جتنی طاقت حاصل کرچکے ہیں اور جتنا وسیع وتجربہ کار تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے چکے ہیں وہ اسے مکمل طور پہ تحلیل اور ختم نہیں کریں گے، بلکہ وہ پورے یمن پر قبضے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اگر سعودی عرب جنگ بندی پر آمادہ ہوبھی جائے تو اس کے لیے یہ جماعت ایک حقیقی خطرہ رہے گی اور وہ یمن میں بھی اپنے بھرپور نفوذ کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی رہے گی۔ حوثیوں کو کنٹرول کرنے یا یمن کی وحدت کو محفوظ کرنے کے لیے سعودی ذمہ داران کے ساتھ کوئی حلیف کھڑے نظر نہیں آتے۔

    سعودی عرب یمن کے اندر بھی اپنا کوئی قابل ذکر حلیف نہیں رکھتا، نہ ہی امارات کی طرح وہاں اس کے حمایت یافتہ کوئی مسلح ومنظم گروہ موجود ہیں۔ یمن میں اعتدال پسند عناصر کی کسی نے مدد نہیں کی تھی۔ اب اس ملک میں طاقت کے مؤثر فریق چھوٹے بڑے متشدد گروہ ہیں جو سنگلاخ پہاڑوں میں رہتے ہیں اور انہیں بھوک نے پریشان بھی کیا ہے۔ اگر یہ ایک نئی داعش میں ڈھل گئے تو دنیا کے لیے ایک اور بھیانک چیلنج ہوگا۔

    مترجم: شفیق منصور، بشکریہ عریبک پوسٹ

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعقائد قومی شناخت نہیں ہوتے
    Next Article کیا قطر خلیج بحران ختم ہونے کو ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by