Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»عقائد قومی شناخت نہیں ہوتے
    کالم

    عقائد قومی شناخت نہیں ہوتے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزاددسمبر 6, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خدا کے ہاں نجات یافتہ اور سزا یافتہ کسی خاص ظاہری شناخت کا حامل شخص نہیں بلکہ خاص رویوں کا حامل شخص ہے۔ عقیدے سے زیادہ رویے کا مسلم ہونا یا نہ ہونا اصل معیار ہے جس پر فلاح و کامیابی کے وعدے کیے گئے ہیں۔ خدا نے عذاب کی وعیدیں محض غیر مسلموں کو نہیں سنائیں، سرکش اور غفلت پر مصر افراد کو سنائیں ہیں۔ جنت کی بشارتیں بھی صرف درست عقائد پر نہیں سنائی گئیں۔ خدا کا پیغام دیانت داری و شعور سے قبول کرنے اور اس کی بلا چون و چراں اطاعت کرنے والوں کو سنائی گئی ہیں، اس رویے کے حامل افراد کو مسلم کہا گیا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ قاتل اگر مومن بھی ہو تو اسے اسی ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے جو خدا کے انکار کرنے والے سرکشوں کو سنائی گئی ہے۔ سبب یہی ہے کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن نے اس حقیقت کو جان لینے کے بعد کہ انسان کی جان خدا کے نزدیک کس قدر محترم ہے، ایک شخص کی جان جان بوجھ کر لے لی تو اس نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور یہی سرکشی اس کے لیے ابدی جہنم کا باعث بنی، چاہے قاتل نام اور قوم سے مسلم کیوں نہ تھا۔

    خدا کی صفتِ عدل کو نظر انداز کر کے مسلمانوں نے یہود کی طرح خدا کو قومیانے کی کوشش کی ہے اور یہ تصور کرلیا کہ اس کے ذمے ہے کہ وہ انہیں بالآخر بخش دے، اور یہ کہ اس کے پاس غیر مسلموں کے لیے ابدی عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ اسی تصور سے وہ اشکالات پیدا ہوتے ہیں جو خدا کے عدل پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کو اس نظر سے دیکھنے کا نتیجہ ہے جو اسلام کے خدا کے دین کی بجائے ایک قومی دین اور مسلم کے ایک رویے کی بجائے ایک قومیت کی شناخت بن جانے کے بعد پیدا ہوئی۔ اسی سوچ سے شکوہ جیسی نظمیں تخلیق ہوتی ہیں کیونکہ یہ سوچا جاتا ہے کہ کلمہ شہادت پڑھ لینے اور مسلم قومیت میں اندارج کروا لینے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ  خدا مسلمانوں کوغیر مسلم قوموں کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے دے  اور ہر معرکے میں انہیں فتح یاب نہ کرے۔

    کسی درست لگتی بات کو سننتے ہی محض اس بنا پر رد نہ کیا جائے کہ غور و فکر کی زحمت سے بچنا اور اپنی بے خبری کا لطف قائم رکھنا چاہتے ہیں

    خدا کے عذاب کا مستحق کفر ہے جو یا تو شرکشی کے رویے  کی وجہ پیدا ہوتا ہے یا غفلت پر اصرار سے۔ یہ رویے مسلمانوں یا غیر مسلمانوں میں  جہاں کہیں پائے جائیں گے، اس فرد کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا دیں گے۔ قرآن مجید میں دیکھیے کہ کفر کرنے والے محض اس وجہ سے مورد الزام نہیں ٹھہرائے گئے کہ انہوں نے مذہب کے آزادانہ انتخاب میں غلط انتخاب کر لیا، بلکہ اس  بات پر وہ مجرم ٹھہرائے گئے کہ وہ اپنے مانے ہوئے مقدمات کے بدیہی نتائج قبول کرنے پر تیار نہ تھے، جس پر خدا اوراس کا رسول بار بار ان کی توجہ دلا رہے تھے۔ وہ مانتے تھے کہ کائنات اور ان کا خالق ایک اللہ ہے مگر اس کے ساتھ وہ یہ بات  بلا دلیل مانتے تھے کہ اس  خدا نے  اپنے ساتھ چھوٹے خدا بھی رکھے ہوئے ہیں، جو اس کی خدائی میں شریک ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا تھا کہ کس بنا پر انھیں خدا مانتے ہو؟ کوئی آسمانی کتاب ان کے پاس ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے؟ جن انبیا کو وہ مانتے ہیں ان سے کوئی روایت اس بارے میں ان کے پاس موجود ہے؟ کیا عقل اس کا تقاضا کرتی ہے کہ خدا اپنے کام اکیلا کرنے سے عاجز ہے اس لیے اس نے اپنے مددگار بنا لیے ہیں؟  وہ آخرت  پر ایمان لانے کو تیار نہ تھے، ان سے پوچھا جاتا تھا کہ جو  خدا پہلی بار پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتا جب کہ تم جانتے ہو کہ تمھارا ضمیر یہ تقاضا کرتا ہے کہ اچھائی اوربرائی کا صلہ ملنا چاہیے۔ یہاں انصاف نہیں ہوتا تو کہیں ہونا چاہیے۔ تم دیکھتے ہو کہ بارش ہوتی ہے تو مردہ زمین سے پودے نکل آتےہیں، تو تمھیں دوبارہ پیدا کرنا عقلی لحاظ سے کیوں کر ناممکن ہے۔

    اس سب کے جواب میں ان کی دلیل تھی تو یہ کہ ان کے بڑے ایسا کرتے اور مانتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو چل رہا ہے چلنے دیا جائے۔ وہ اس پر بات کرنا، سننا ہی پسند نہیں کرتے۔ ان کے سردار لوگ مزید یہ بھی کہتے تھے کہ وہ توحید کی اس دعوت کو کسی اور کو بھی قبول بھی کرنے نہیں دیں گے اور یہ کہ وہ اس دعوت کو ختم کر کے رہیں گے۔ اس رویے کو دو لفظوں کا عنوان دیا جائے تو یہ سرکشی اور غفلت پر اصرار تھا، نہ کہ محض دین و ایمان کے معاملے میں غلط انتخاب پر سزا۔

    قرآن مجید ہمیں ازکار رفتہ رویوں کی کہانی نہیں سناتا۔ یہ رویے ہر دور، ہر سماج میں ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے ضروری یہ ہے کہ ان رویوں کو اپنے مزاج میں شناخت کریں، ان پر متنبہ رہیں اور درست رویے اپنانے کی شعوری کوشش کرنا ہے۔ جس بات کو درست سمجھیں، اسے دیانت داری اور شعورسے درست سمجھیں۔ کسی درست لگتی بات کو سننتے ہی محض اس بنا پر رد نہ کیا جائے کہ غور و فکر کی زحمت سے بچنا اور اپنی بے خبری کا لطف قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی درست بات کو تسلیم کرنے سے کوئی تعصب، کوئی مفاد، اور کوئی عقیدت مانع نہ ہو۔ اپنے عقیدے اور نظریہ کے تقاضے جس اطاعت کا تقاضا کریں اس پر عمل کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی نہ برتی جائے۔

    یہ رویے صرف مذہب میں ہی مطلوب نہیں ہیں، بلکہ مستقل رویے ہیں جنہیں ہر شعبہ زندگی میں اپنانا ہی آپ کو وہ مسلم بناتا ہے جو خدا کی طرف سے نجات اور انعام پانے کا مستحق بناتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاُمید کی ثقافت زندہ کریں
    Next Article کیا یمن جنگ سے باہر نکل پائے گا؟
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by