مائنس نوازشریف کامطلب عمران خان کی سیاسی جیت ہوگی۔ یوں پی ٹی آئی میں کئی جیتنے والے کھلاڑیوں کی شمولیت اوربہترکاکردگی ایک معلق پارلیمان کی راہ ہموارکرے گی
کہاجارہاہےکہ اسٹیبلشمنٹ ’’مائنس تھری‘‘ فارمولاپرعمل پیراہے۔ ایک عام دلیل یہ ہے کہ اس کامقصد طاقتورترین افراد کوکنارے لگاکراسٹبلشمنٹ اپنی من مانی کے لئے زیادہ جگہ پیدا کرلے گی۔ اس سلسلہ میں کہاجارہاہے کہ تین طاقتورترین سیاسی افراد جیسے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین، مسلم لیگ ن کے نوازشریف اورپیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری کوایک یادوسرے طریقے سے کنارے لگایاجانا اس منصوبہ کاحصہ ہے۔
اسٹبلشمنٹ نے پہلے ہی جب الطاف حسین کوایک متنازعہ ٹیلی فون خطاب کے بعد زبردستی ایم کیوایم سے علیحدہ کروالیاتوتب اس منصوبہ کے پروپگنڈہ کوزیادہ تقویت بھی مل گئی۔ اس کےبعد نوازشریف کے خلاف پانامہ اسیکنڈل اورجے آئی ٹی کی تشکیل اسی منصوبے کی کڑی قراردی جارہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس کے بعد پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری کی باری آئے گی۔
ایم کیوایم لندن نے پچھلے سال 15اکتوبرکو’مائنس ون ‘فارمولا مسترد کردیاتھا۔ سماء ٹی وی کی ایک خبر27اگست 2016کے مطابق ایم کیوایم کے ڈپٹی کنونئیر نے ایم کیوایم پاکستان کااعلان کرکے تحریک کے بانی وقائد الطاف حسین سے ہرقسم کی علیحدگی کااعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس نےالطاف حسین کی ایک متنازعہ تقریرکے بعد اسٹبلشمنٹ کے دباوکے بعد دوسرے دن کیا۔ جبکہ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے ظفرعارف نے اسےمستردکیا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ ایم کیوایم ایک ہے اورایک ہی رہے گی۔ اورایم کیوایم کوتوڑنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نے اس طرح کی سازشوں کے خلاف ماضی میں بھی جدوجہد کی ہے۔ اس کااشارہ 1990کی دہائی میں آفاق احمد کی قیادت میں بننے والی ایم کیوایم حقیقی کی طرف ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی قیادت میں بننے والی پاک سرزمین پارٹی ہے۔ لیکن ایسانظرآرہاہے کہ فی الحال سیاسی طورپرالطاف حسین کااثرسندھ کےصوبائی اسمبلی کے حلقہ 114کے ضمنی الیکشن میں دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس فارمولے کے مطابق الطاف حسین کے بعد جس شخصیت سے اسٹبلشمنٹ کوجان چھڑانا چاہتی ہے،وہ وزیراعظم نوازشریف ہیں۔ نوازخاندان کے خلاف جی آئی ٹی کی تحقیقات کے موقع پرپانی اوربجلی کے وفاقی وزیرمملکت چودھری عابدشیرعلی کابیان آیاکہ’واضح طورپرسن لو، کہ ہم مائنس نوازشریف فارمولاکوپاکستان میں کام کرنے نہیں دیں گے۔مائنس نوازفارمولا نہ پہلے قابل قبول تھااورنہ ہی یہ مستقبل میں ماناجائےگا۔ جی آئی ٹی کے فیصلے کے بعد دواہم اجلاس ہوئے جس میں وزیراعظم نوازشریف پراعتماد کااظہارکرتے ہوئے متبادل پرغورکرنے کومسترد کرنےکی خبرعام کردی گئی۔ یوں بظاہرمائنس نواازشریف کے لئے ایک طرف حکومت پراخلاقی اوراپوزیشن کادباؤبڑھ گیاہے۔ تودوسری طرف وزیراعظم نوازشریف کے ممکنہ متبادل کے لئے بھی نام پیش ہونے لگے ہیں۔ پہلے وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی وارث ان کی بیٹی مریم نوازکوبتایاجاتاتھا۔ لیکن ان پرلگنے والے الزامات کے بعد اب سب سے اہم امیدوارکے طورپرپنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف اوراس کے بیٹے حمزہ شریف کے نام لئے جارہے ہیں۔ روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کےبعد ہونے والے ایک اجلاس میں شہبازشریف توجہ کامرکزبنے ہوئےتھے۔ میڈیا کے تجزیہ کاراورمخالفین کی جانب سے بھی ان پرکوئی خاص تنقید دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہبازشریف کی سربراہی میں چلنے والی پنجاب کی صوبائی حکومت کے خلاف بھی کوئی بڑااسیکنڈل سامنے نہیں آیا۔ اخبارنے ایک لیگی رہنماکے حوالےسے کہاکہ ’شہباز شریف بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں، وہ اس جاری بحران میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس وقت میں وہ ان سے بھی رابطے میں ہیں، جو معاملہ ساز ہیں‘۔ وزیراعظم کے وفاداروں کے برعکس اس نے اسٹبلشمنٹ اورعدالتوں پر تنقید میں احتیاط سے کام لیاہے۔
اسٹبلشمنٹ جانتی ہے کہ نوازشریف اگراس وقت اسمبلی توڑکرانتخابات کراتے ہیں یا پھر2018میں انتخابات ہوتےہیں تونوازلیگ کے پنجاب میں کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔ لیکن نوازشریف کی غیرموجودگی میں پارٹی کی کارکردگی پراثرپڑسکتاہے۔ مائنس نوازشریف کامطلب عمران خان کی سیاسی جیت ہوگی۔ یوں پی ٹی آئی میں کئی جیتنے والے کھلاڑیوں کی شمولیت اوربہترکاکردگی ایک معلق پارلیمان کی راہ ہموارکرے گی۔ اس طرح ایک کمزوروزیراعظم اورحکومت سامنے آئے گی جس سے اسٹبلشمنٹ کے مقاصد کوتقویت ملے گی۔
مائنس تھری کے فارمولےمیں تیسری شخصیت سابق صدرآصف علی زرداری ہیں۔ آصف علی زرداری پرکرپشن کے الزامات پہلے بھی لگائے جاتےرہے ہیں۔ اس کے علاوہ آصف علی زرداری پردباؤ برقراررکھنے کےلئے اس کےقریبی ساتھی اغواء کئے گئے ہیں۔ زرداری پردباؤ کے لئے ڈاکٹرعاصم حسین اورلیاری گینگ کے عزیربلوچ کوبھی استعمال کئے جانے کی افواہیں عام ہیں۔ ماضی میں پی پی پی سے ’بے نظیربھٹو کومائنس‘کرنے کی تمام کوششیں کامیابی سے ہمکنارنہ ہوسکیں۔ جنرل ضیاء الحق اورجنرل مشرف کی کوششوں کے باوجود بے نظیربھٹوسے علیحدہ ہوکرمتبادل پارٹی کھڑی کرنے کی کوششیں بارآورثابت نہ ہوسکیں۔ جنرل مشرف دورمیں مرحوم مخدوم امین فہیم کی وزیراعظم بننے کی کوششوں کوخود بے نظیربھٹونے بھی پوری طرح کامیاب ہونے نہ دیا۔ لیکن اب کہاجارہاہےکہ صورتحال مختلف ہے۔ آصف علی زرداری کی عوام اورپی پی پی کے جیالوں کی نظروں میں وہ وقعت اورحیثیت نہیں جو بے نظیربھٹوکی تھی۔ اس لئے کہاجاتاہےکہ آصف علی زرداری کے مائنس ہونے پرشائد اس قدر ردعمل ظاہرنہ ہو۔ ایک عام خیال یہ ہےکہ یہ پیپلزپارٹی کے اپنے حق میں بھی بہترہے اوراس سے بلاول بھٹوزیادہ آزادانہ کام کرنے کے قابل ہوجائےگا۔ اورشائد آصف علی زرداری کے مائنس ہونےسے فریال تالپوراور شرجیل میمن جیسوں سے بھی پارٹی کونجات مل جائے گی۔
اس قسم کی سازشی تھیوری کے سب سے اہم محرک ڈاکٹرشاہدمسعودہیں۔ یہ مائنس تھری پربھی اکتفانہیں کرتے اوریہ اس فہرست میں عمران خان کوبھی شامل کرلیتے ہیں۔ اس کے لئے عمران خان کوالیکشن کمیشن سے نااہل کروانااس منصوبہ کاحصہ ہے۔ عام طورپرعمران خان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ ان تین افراد کے نااہل ہوجانے کے بعد شائد اسٹبلشمنٹ کوقابل قبول نہ ہو۔ اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک توعمران خان، اسٹبلشمنٹ کے لئے زیادہ قابل بھروسہ نہیں۔ دوسرے خطرے کی بات یہ ہے کہ عمران ایک بہت بڑی تحریک کی قیادت کررہے ہیں اوراس کے پیچھے عوام اورخاص کرنوجوانوں کی بڑی تعداد متحرک ہے۔ لہذااگراسٹبلشمنٹ اورعمران خان کے درمیان معاملات پراختلافات پیدا ہوجاتے ہیں، جس کے امکانات روشن ہیں، توپھراسٹبلشمنٹ کے لئے اس پرقابوپاناآسان نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ عمران خان پرعوامی دباؤبہت زیادہ ہے۔ اس لئے وہ داخلہ اورخارجہ پالیسی کے سلسلہ میں جواقدامات اٹھائے گاوہ ظاہرہے اسٹبلشمنٹ کوقابل قبول نہیں ہوں گے۔ تیسرا اہم معاملہ اصلاحات اورکرپشن پرکنٹرول کاہے جو عمران خان کا ایجنڈا ہے اس لئے اسٹبلشمنٹ کوخدشہ ہےکہ یہ اقدامات ایک طرح سے ان پرہی وارکرنے کے مترادف ہوگا۔ ان وجوہات کی بناء پرعمران خان اسٹبلشمنٹ کے لئے اتنے توکارآمد ہوسکتے ہیں کہ نوازشریف اورآصف علی زردری کوعوا م میں گندہ کرلے لیکن خود عمران خان کسی بڑے عہدے جیسے وزیراعظم کے لئے ہرگزموزوں تصورنہیں کئے جاسکتے۔ اس عہدے کے لئے پی ٹی آئی میں مضبوط ترین دوافراد چودھری سرور اورشاہ محمودقریشی ہیں، اوریہ اسٹبلشمنٹ کوقابل قبول بھی ہیں۔
مائنس تھری کے فارمولے پرعمل پیرا اسٹبلشمنٹ الطاف حسین کوکنارے لگاچکی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کومائنس کرنے کی پوری کوششیں جاری ہیں۔ آصف علی زرداری پہلے ہی علالت کابہانہ کرکے دبئی جاچکےہیں۔ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن سرگرم عمل ہے۔ دیکھنایہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ اپنے منصوبوں میں کہاں کامیاب ہوتی ہے۔
مضمون نگارکراچی میں مقیم محقق ہے۔
Tweet: @sartajku
