وزیراعظم عمران خان نے ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے ’’احساس‘‘ کے نام سے ایک منصوبے کا اعلان کیاہے۔ انہوں نے روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم کو ریاستی ذمہ داری بنانے کے لیے آئین میں باقاعدہ ترمیم لانے کا ارادہ بھی ظاہر کیاہے۔ اس مقصد کے لیے آرٹیکل 38-ڈی میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ یوں یہ بنیادی ضروریات ہرشہری کو فراہم کرنا ریاست کے فریضہ میں شامل ہوجائے گا۔ اس پروگرام کے تحت سماج کے سہولیات سے محروم طبقے کیلئے 80 ارب روپے کی اضافی رقم بھی مختص کرنے کا اعلان کیاگیا، جو 2020 میں بڑھاکر 120 ارب روپے کردی جائے گی۔ غربت مٹاؤ منصوبے پر عمل درآمد اور نگرانی کے لیے الگ سے نئی وزارت قائم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ آئینی سطح پرروٹی، کپڑا، مکان، صحت اورتعلیم کو ریاست کی ذمہ داری تسلیم کرنا بہت اچھا قدم ہے۔ عوام کویہ سہولیات فراہم کرنا آسان بھی ہے کیونکہ ان کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ پہلے سے دستیاب ہیں۔ پاکستان کو گندم، چاول، شکر، دال اورگوشت وغیرہ کے حوالے سے کافی حد تک خودکفیل کہا جاسکتا ہے۔ اس منصوبے سے بلاشبہ عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
عمران خان اکثر اپنی سیاسی جدوجہد کا موازانہ ذوالفقارعلی بھٹو کی عوامی سیاست سے کرتے ہیں۔ 1967 میں اٹھنے والی مزدور، کسان اورطلبہ تحریکوں کےساتھ اتحاد کے بعد پارٹی میں موجود سوشلسٹوں، مزدورں، کسان رہنماؤں اور ترقی پسند عناصر کے مطالبہ پر ‘روٹی، کپڑا اورمکان’ کوباقاعدہ انتخابی نعرہ بنایا گیا تھا۔ یہی نعرہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا محور رہا۔ پیپلزپارٹی اپنے اس منشور سے عملی طور پر بےنظیربھٹو کے دور میں 1992 میں اس وقت پیچھے ہٹی جب نیولبرل ازم کے تحت پارٹی منشورکو تبدیل کردیا گیا۔ اور اب ایسے لگتا ہے کہ عمران خان پیپلز پارٹی کے اولین منشور کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے جار ہے ہیں۔
حکومت ایک طرف ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اوراسپتالوں کونیلام کر رہی ہے تو دوسری طرف غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت صحت کارڈ جاری کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور ساتھ ہی بجلی وگیس پرسبسڈی کے خاتمے اورٹیکسوں میں اضافے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں
حکومت نے غربت میں کمی کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب وزیرخزانہ اسدعمر اس سال مئی میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی متضاد پالیسی دکھائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں آئی ایم ایف اور ورلڈبنک کی پالیسیاں غربت میں اضافہ کی وجوہات میں سے بڑی وجہ گردانی جاتی ہیں۔ 1980 کی دہائی میں یہ کھل کرسامنے آگیا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی وجہ سے دنیا میں غربت اورماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل بڑھے ہیں۔ 90 کی دہائی میں آئی ایم ایف کےاسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کامقصد بھی غربت مٹانا تھا۔ جس میں اہم ترین سرکاری اداروں کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن کا منصوبہ شامل تھا۔ یعنی ہر چیز پر سے ریاستی کنٹرول کوختم کرنا۔ اس کے پیچھے کارپوریٹ سیکٹر تھا۔ اس طرح قیمتوں پر ریاستی کنٹرول کوختم کردیا گیا۔ پانی، صحت، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ کے اداروں میں ریاست کی عملداری کم ہوگئی۔ بعد میں جب عالمی مالیاتی اداروں نے اس اسکیم کو لینے والے ممالک سے قرضہ کی واپسی کا مطالبہ کیاتو ان کی عوام کا معیار زندگی نیچے گرگیا۔ اوریہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ اسی دور میں ہوا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈبینک جیسے اداروں نے ان ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی مارکیٹوں کوعالمی کمپنیوں کے لیے کھولیں، نتیجہ میں مقامی صنعتیں بیٹھ گئیں اور امپورٹ ٹیکس میں کمی سے آمدنی کے مسائل پیدا ہوئے۔ پاکستان جیسے ممالک پر زور دیا گیا کہ یہ ممالک اپنی پالیسیوں کو معاشی نمو اور برآمدات میں اضافہ سے جوڑیں۔ بجلی، تیل، گیس وغیرہ کی قیمتوں کےتعین کا اختیار خودمختار اداروں کے نام پرکارپوریٹ سیکٹرکے حوالے کردیا گیا۔ ان پالیسیوں کی وجہ بہت زیادہ نقصانات ہوئے۔ 2000ء میں امریکی شہر سیاٹل سے شروع ہونے والی اینٹی گلوبلائزیشن تحریک اور ورلڈسوشل فورم کے دباؤ میں آکر عالمی مالیاتی اداروں نے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کانام بدل کر’غربت مٹاؤ پروگرام’ رکھ دیا۔ یعنی وہ منصوبہ جوغربت میں اضافہ کاباعث بنتاہے، اس کوغربت مٹاؤ کانام دیا گیا۔ اوریہی الجھن موجودہ حکومت کے حوالے سے بھی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں غربت کے حوالے سے اعداد و شمار پر شک وشبہ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ورلڈبنک کے مطابق یہ 30 فیصد ہے، جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق یہ 60 فیصد سے زائد ہے۔ یوں ملک کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 62 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ لیکن ورلڈ بنک کہتا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح روبہ زوال ہے۔ ہرحکومت غربت مٹاؤ پروگرام پر کچھ رقم خرچ کرنے کا اخیتار رکھتی ہے اوراس کے لیے وہ وقفے وقفے سے منصوبوں کا اعلان کرتی رہتی ہے جو مختلف ناموں سے متعارف کرائے جاتے ہیں۔ ریاست براہ راست پوری آبادی کے لیے اقدام نہیں کرتی بلکہ یہ سماج کے ایک حصے کو منتخب کرکے اس کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ زکواۃ وبیت المال فنڈ، صحت کارڈ اور ہاؤسنگ اسکیم جیسے پروگرام اسی پالیسی کا مظہر ہیں۔ ایک ایساہی منصوبہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے نام شروع کیا گیا جو تاحال چل رہاہے۔ اس پروگرام کے تحت 2016 میں پچاس لاکھ سے زائد افراد کو 90 ارب سے زائد رقم دی گئی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارے صحت کارڈ سے 8 کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ حکومت ایک طرف ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اوراسپتالوں کونیلام کر رہی ہے تو دوسری طرف غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت صحت کارڈ جاری کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور ساتھ ہی بجلی وگیس پرسبسڈی کے خاتمے اورٹیکسوں میں اضافے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ حکومت میں بے روزگاری اورمہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عام افرادکی قوت خرید اور آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سےحکومت کی معاشی پالیسیوں پر مسلسل شدید تنقید کی جارہی تھی۔ ایسالگتاہے کہ وزیراعظم کے احساس اور غربت مٹاؤ پروگرام جیسے اقدامات اسی دباؤ کانتیجہ ہیں۔
پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ عالمی ماہرین پاکستان میں غربت کو آبادی میں اضافہ، خراب طرزحکمرانی، کرپشن، تعلیم و ہنر کی کمی، زرعی پسماندگی، صنعتوں کی ابتری، نمو و برآمدت میں عدمِ بڑھوتری اورسرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے نہ ہونے سے جوڑتے ہیں۔ جبکہ سماجی ماہرین اس کوذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم اورغیر مساوی زرعی اراضی سے جوڑتے ہیں۔ بہت سارے ماہرین کے نزدیک اب بھی زرعی اصلاحات سے دیہی غربت کوکافی حدتک کم کیاجاسکتاہے جبکہ صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور روزگارکے وسائل میں بہتری لانے کے لیے حکومت کو الگ سےمضبوط اقدامات کرنے ہوں گے۔ البتہ اس چیز پر سب کا اتفاق ہے کہ انتظامی اصلاحات، کرپشن میں کمی، میرٹ کے فروغ اور زندگی گزارنے کے لیے ضروری وسائل تک تمام شہریوں کی بلاتفریق اور یکساں رسائی ملک اور سماج کو آگے بڑھانے کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

