جنگل میں منگل مبارک۔ ہم سب نے مل کر آج تاریخ رقم کردی ہے۔ تماشا ختم ہوتا ہے۔بادشاہت ختم اب سچی جمہوریت کا راج ہوگا۔ پچھلا پیسہ ہضم ۔ اب کوئی کسی سے پیسہ واپس لانے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ الیکشن کی تیاری کریں۔
آپ نے جنگل میں منگل کی بہت سی کہانیاں سنی ہوں گی۔ یہ کہانی ان کہی ہے ۔ صدیوں سے کہی جارہی ہے لیکن ابھی پوری نہیں ہوئی۔ ۔ جنگل کی کہانیاں شہر میں بسنے والے لکھتے ہیں جو کہانی کے ختم ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے لکھی بھی نہیں گئی
داستان گو کہتا ہے کہ دروغ بر گردن راوی ، روئے سخن کسی کی طرف ہو تو حاشا و کلا رو سیاہ۔ تمثیل کسی پر منطبق ہو تو مقصود نہیں، کسی کی دل آزاری مطلوب نہیں۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک جنگل میں دو بھائی رہتے تھے چھانگا اورمانگا۔ بہت ہوشیار اور محنتی۔ مٹی ان کے ہاتھ میں سونا بن جاتی۔ نیک اتنے کہ لوگ شہروں سےدم درود کے لئے ان کے پاس آتے۔ آہستہ آہستہ یہ جنگل چھانگا مانگا کے نام سے مشہور ہو گیا۔ ایک مرتبہ بادشاہ کو ڈر ہوا کہ اس کے مصاحب اور وزیر دغا دینے والے ہیں۔ بادشاہ نے چھانگا مانگا بھائیوں سے مدد کی درخواست کی۔ چھانگا نے بادشاہ سے کہا کہ ان سب کو شکار کے بہانے چھانگا مانگا بھیج دو۔ کرنا خدا کا ، یہ مصاحب اور وزیر کچھ دن ہی چھانگا مانگا میں رہےتو وہ خود کو گھوڑے سمجھنے لگے۔ ہر بات کو بولی سمجھ کر ہنہہناتے کہ پیسہ پھینکو اورقدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ دوسرے ضرورت مند بادشاہوں کو پتا لگا تو وہ بھی چھانگا مانگا آتے اور دل کی مراد پاتے۔ چھانگا مانگا کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیل گئی۔
چھانگا مانگا بھائیوں کو پتا تھا کہ انسان جنگل سے شہر چلا تو گیا لیکن اس کی یادوں سے جنگل نہیں گیا۔ پچھلے زمانے میں تو شہروں میں رفع حاجات کی سہولت نہیں تھی اس لئے آنا جانا روز کا تھا۔ اب شہر جنگل بنتے جارہے ہیں اور سب حاجات وہیں رفع ہو جاتی ہیں اس لئے اب صرف پکنک کے لئے جنگل جانا ہوتا ہے یا شکار کے لئے۔ جانور ایک ایک کرکے مارے گئے صرف حرام باقی رہ گئے۔ اب جانور بھی باہر سے آتے ہیں اور شکاری بھی۔ بہت سارے جانور شہر میں بس گئے ہیں۔ باقی سوچتے ہیں کہ آخر انسان بھی تو جانور ہی ہے۔ پھر امتیاز کیسا۔ جو جتنا کم عقل ہے اسے اتنے ہی عقلمند کے باڑے میں رہنا چاہئے۔
ایک زمانہ تھا جب شہری یہ سوچنے کے لئے کہ باڑے کا انتظام کیسے چلایا جائے جنگل میں جاتے اور جانوروں سے مشورہ کرتے تھے۔ اب شہریت کا فلسفہ بدل گیا ہے۔ پہلے عوام کوجانور سمجھا جاتا تھا۔ شہروں میں آکر گھریلو ہو گئے تو ان کے درجے میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اب ان کو وہی حقوق حاصل ہیں جو قانون گھریلو بیوی کو دیتا ہے۔ ان کو آزادی اظہار اور مساوات کی زنجیروں سے آزاد کر کے جنگل کے قانون کی امتیازی سہولت میسر ہے۔ اب کسی کو سیاسیات کی گتھیاں سلجھانے کے لئے جنگل جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ ساری سہولتیں شہروں میں دستیاب ہیں۔ عوام خوش ہیں کہ ان کے لئے فطری قوانین بحال ہو گئے۔
اب ٹی وی پروگرام ہو یا یونیورسٹی مذاکرہ، پارلیمنٹ ہو یا الیکشن ہر جگہ جنگل کی سہولیات میسر ہیں۔ اب تو یہ تجربہ بھی کامیاب رہا ہے کہ کامیاب جنگل کے لئے درختوں کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے شہروں کو بھی درختوں سے صاف کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انہیں جو الرجی ہے وہ درختوں کی وجہ سے ہے۔ یوں ماحولیات کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔ ماہرین نفسیات نے بھی تائید کی ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے دماغ میں جنگل کی یاد اور اس کے مزاج میں جانوروں کی عادات موجود ہوتی ہیں۔ اکثراندر کا جنگل اور جنگلی پن باہر آجاتا ہے۔ سائنسدانوں نے بھی گواہی دی ہے کہ انسان کے آبا و اجداد بندر تھے اور جنگلوں میں رہتے تھے۔
کہتے ہیں کہ اکبر الہ آبادی نے ایک مرتبہ ڈارون اورحلاج کو اپنے ٹاک شو میں بلا لیا۔ ڈارون نے آتے ہی کہا کہ میرے جینز کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ میں بندر کی اولاد ہوں۔ حلاج نے دونوں ہاتھ جھٹک کر لا حول ولا قوة پڑھا اور بولا اگر ایسا ہے تو میں خدا ہوں۔ اس سے پہلے کہ بات دور تک جاتی اکبر نے جلدی سے کہا: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ آپ دونوں کا پوائینٹ آگیا۔ ہم وقفہ کرتے ہیں۔ تو ناظرین آپ نے دیکھا کوئی شخص اپنی ہمت سے زیادہ نہیں سوچ سکتا۔
بات ہورہی تھی چھانگا مانگا کی کہ یہ دونوں بھائی بہت ذہین تھے۔ جنگل کی نفسیات میں ان کی دلچسپی انہیں کہیں سے کہیں لے گئی۔ علم میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان کی مہارت کی شہرت دوسرے ملکوں بھی پھیل گئی۔ سات سمندر سے بادشاہ ان سے مشورے کرتے۔ بھائی کوئی فیس اور نذرانہ نہ لیتے صرف یہ درخواست کرتے کہ چھانگا مانگا سے شاخیں لے جائیں اور اپنے ملکوں میں لگائیں۔ یوں ہر ملک میں ساحل پار چھانگا مانگا جنگل لگ گئے۔ ہر جنگل میں منگل کا سماں رہنے لگا۔
داستان گو یہ کہانی لہک لہک کر سناتے ہیں کہ سات سمندر پار نولینڈ کے ملک میں ایک نادان بادشاہ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اس کی بادشاہت کبھی ختم نہ ہو۔ اس نے اپنے وزیروں کو مشورے کے لئے چھانگا مانگا بھیجا۔ وزیر چھانگا مانگا آئے تو یہاں کا امن اور سکون دیکھ کر حیران رہ گئے۔ جنگل میں منگل پرگم شدہ جنت کا گمان ہوتا تھا۔ جنگل کے قانون کی وجہ سے عدالتوں کا جھنجٹ نہیں تھا۔ پولیس جرم سے زیادہ مجرم کی بیخ کنی کی فکر کرتی تھی۔ ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے جانور بنا دیا جاتا۔ وزیر یہ دیکھ کربہت خوش ہوئے۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ صحیح جگہ پہنچے ۔
چھانگا مانگا نے مشورہ دیا کہ تا حیات بادشاہ رہنے کی ایک ہی ترکیب ہے کہ بادشاہت ختم کرکے جمہوریت کا اعلان کردیا جائے۔ وزیر اس تجویز پر حیران ہوئے تو چھانگا نے بتا یا شرط یہ رکھو کہ جو بھی حاکم بنے الیکشن سے بنے۔ الیکشن کو تمام پابندیوں سے آزاد کر دیا جائے۔ جو ایک مرتبہ الیکشن جیت لے اسے اگلی بلکہ ہر مرتبہ الیکشن جیتنے کی آزادی ہو۔ غیر ملکی وزیر عش عش کرنے لگے۔ انہوں نے کہا تدبیر تو زبر دست ہے لیکن ہمارے ملک میں مسائل بہت ہیں۔ تخت کے دعوےدار بہت ہیں اور سارے طاقتور۔ نہ ان کی طاقت کو ختم کیا جاسکتا ہے نہ ان کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ پھر اب جلسے جلوسوں کا رواج ہو چلا ہے۔
چھانگا مانگا ہنس پڑے۔ کہنے لگے کیا اب انسان کا جانور مر گیا ہے۔ ہم مشورے دیں گے تو پورا ملک چھانگا مانگا بن جائے گا۔ تھوڑا بہت شور مچے گا۔ لیکن پھر سکون ہی سکون۔ وزیروں نے کہا ہم سے یہ سب کچھ سنبھالا نہیں جا سکتا۔ آپ لوگ ہمارے ساتھ چلیں۔ چھانگا مانگا نے کہا کہ ہم کسی کے معاملات میں دخل نہیں دیتے۔ البتہ جب کام مکمل ہو جاتا ہے تو جنگل میں منگل کی رسم میں ہم شامل ہو سکتے ہیں۔ آن لائن مشورے کی سہولت موجود ہے جب بھی ضرورت ہو آپ ہمیں کال کر سکتے ہیں۔
نو لینڈ کے بادشاہ نے ایک ماہ بعد جمہوریت کا اعلان کردیا۔ چھانگا مانگا کے مشورے کے مطابق الیکشن بھی جیت لیا۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ کی طرف سے پیغام ملا کہ نئی مصیبت کھڑی ہو گئی ہے۔ لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ چھانگا مانگا نے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ یہ سنہری موقع ہے۔ احتجاج کو بڑھنے دو۔ اس کو اگلے الیکشن تک کھینچو۔ اپنے چھانگا مانگا سے لومڑیاں، لگڑ بگڑ، طوطے، کوے اور شور مچانے والے جانور اکٹھے کرو اور گلیوں بازاروں میں بھیج کر میلے لگاو۔ ڈھول باجے کے ساتھ تماشا لگا دو۔ لوگ اس تماشے میں مگن رہیں گے۔ اس عرصے میں تم طاقتور اداروں سے ایک کرکے نبٹو۔ اپنے لوگ بھیجو جو ان کی زیادتیوں کی کہانیاں سنائیں۔
دوسال اسی گہما گہمی میں گذر گئے۔ ایک دن بادشاہ کا پیغام آیا کہ یہ تو سب ٹھیک ہے لیکن لوگ اب یقین کرنے لگے ہیں کہ ہم دھاندلی سے آئے ہیں۔ جلسے جلوس زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔ ہم نے بہت سے نئے مسائل بھی اٹھائے لیکن لوگ ہمارے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ چھانگا مانگا نے کہا کہ یہ سب ٹھیک جارہا ہے۔ اب لوگ غصے میں جنگلی ہونے جارہے ہیں۔ اس لئے اب راست اقدام کا وقت ہے۔ اب خود کو احتساب کے لئے پیش کردو۔ اور ایک ہی سال میں جنگل میں منگل کی رسم کی تیاری شروع کردو۔
چھانگا مانگا اب روزانہ کی بنیاد پر بادشاہ کو مشورے بھیجتے۔ تماشا شروع ہوگیا۔ مخالفین بھی خوش تھے کہ اب بادشاہ نہیں بچے گا۔ بادشاہ نے احتساب کے لئے خود کو پیش کردیا۔ تدبیر یہ تھی کہ کوئی بھی معاملہ ہو اس پر یہ کہا جائے کہ آپ نے الزام لگا یا ہے آپ ہی ثابت کریں۔ ادھر ادھر کی کہانیاں کچھ خود سنائیں۔ کچھ دوسرے سنائیں۔ تائید اور تردید کا دنگل جمائیں۔ لوگ اس میں الجھے رہیں گے۔ بادشاہ اپنا کام کرتا رہے۔ اور آئیندہ ہر الیکشن میں اپنی کامیابی کو پکا کرلے۔ جونہی لوگ اکتائیں نیا تماشا شروع کر دیا جائے۔
آخری تماشا شروع ہوا تو الیکشن کا وقت آچکا تھا۔ اب ہدایت کے مطابق جنگل میں منگل کی رسم کا اعلان کر دیا گیا۔
چاند کی چاندنی، منگل کا دن۔ ملک بھر سے موسیقی، رقص اور گائیکی کے نامور ستارے جلوس کی صورت میں آرہے تھے۔ سقے پانی کا چھڑکاو کر رہے تھے۔ عطارگونا گوں عطر کی خوشبو سے فضا معطر کرتے جا رہے تھے۔ اچانک روشنیوں کی چکا چوند میں آسمان میں رتھیں نمو دار ہوئیں جنہیں لمبے پروں والے گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ رتھیں میدان کا چکر لگاتی ایک ایک کرکے آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہی تھیں۔ پہلے رنگ برنگ لباس میں پریاں اتریں۔ جو پری اترتی اس کے موسیقار اس سے ساتھ اترتے۔ ہلکی موسیقی کی دھن ابھرتی اوررقص شروع ہو جاتا۔ میدان میں دور دور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ دو دن سے پہنچ رہے تھے۔ اور ابھی آمد جاری تھی۔ اب نفیریاں بج رہی تھیں۔ شہنائیوں اور قرنون کے شور میں بادشاہ سلامت جو اب صدر جمہوریہ کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے اپنے لاو لشکر کے ساتھ تشریف لا رہے تھے۔ تیرہ توپوں کی سلامی کے بعد چاق و چوبند فوجی دستوں نے سلامی دی۔ صدر جمہوریہ کرسی تخت پر بیٹھے تو آسمان سے گھن گرج کے ساتھ ایک زور دار چمک کے ساتھ تھنڈر طیارے نے میدان کے سات چکر لگا کر صدر جمہوریہ کو سلامی دی۔ یہ چھانگا مانگا کی آمد کا اعلان تھا۔
پریوں کا رقص عروج پر تھا۔ قوال سٹیج پر آئے خیر مقدم گانا شروع ہوا۔ گانے کے بول تھے یا موسیقی کی دھن کا اثر سب لوگ بے اختیار رقص کرنے لگے۔
جنگل میں منگل چھانگا کے دم سے
مانگا نے چاہا جنگل میں منگل
چنیں گی پرجا اسی کو راجا
جس کے دم سے جنگل میں منگل
پریوں کی ملکہ طوطا پری نے بھی صدر جمہوریہ کے لئے مبارک باد کا گانا گایا۔
جنگل میں منگل سب کو مبارک
طوطوں کی پرجا ، طوطا ہے راجہ
طوطوں کی باری کتنی ہے بھاری
سب نے ہاں میں ہاں ملائی ہے
مبارک بادوں اور سلامیوں کے بعد صدر جمہوریہ اٹھے تو میدان میں نعرے گونجنے لگے۔ صدر فرمارہے تھے۔ ہم پر الزام لگے۔ ہم نے خود کو احتساب کے لئے پیش کردیا۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ ہم سرخرو ہوگئے۔ اس دفعہ نعرے اور بھی بلند تھے۔ صدر جمہوریہ نے تقریباً چیختے ہوے کہا ہم نے بادشاہت کا لبادہ اتار پھینکا ہے۔ اور ساتھ ہی اس نے اپنی قبا نوچ کر پھینک دی۔ مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ مکمل خاموشی۔ سانس اوپر کا اوپر، نیچے کا نیچے۔ سب کی نظریں جہازی سکرینوں پر جمی تھیں۔ صرف ہوا کی سائیں سائیں اور وہ بھی رک رک کر آرہی تھی۔
صدر جمہوریہ نے قبا کے نیچے شیر کی کھال پہن رکھی تھی۔
ایک لمبی خاموشی کے بعد شور اٹھا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ہر جانور کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جیسے پورا جنگل امنڈ آیا ہو۔
چھانگا مانگا بھائیوں کی آواز سٹیریو بن کر گونج رہی تھی۔
جنگل میں منگل مبارک۔ ہم سب نے مل کر آج تاریخ رقم کردی ہے۔ تماشا ختم ہوتا ہے۔بادشاہت ختم اب سچی جمہوریت کا راج ہوگا۔ پچھلا پیسہ ہضم ۔ اب کوئی کسی سے پیسہ واپس لانے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ الیکشن کی تیاری کریں۔
ابھی تو الیکشن کو ایک سال ہے، لگتا ہے ہم ٹی وی دیکھتے سوگئے تھے۔
