Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»دہشت گردی کی نئی لہر
    کالم

    دہشت گردی کی نئی لہر

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناجولائی 18, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کی لہر نے انتخابی سیاسی منظر نامے پر اثرات مرتب کیے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ھم 2013 کے انتخابی ماحول میں لو ٹ آئے ہیں ۔ تب تحریک طالبان پاکستان تشدد کے ذریعے سیاسی رجحانات کی تشکیل کر رہی تھی۔ اسے چیلنج کرنے والی سیاسی قوتیں اس وقت نشانے پر تھیں اور جو جماعتیں مذاکرات کاراگ آلاپ رہی تھیں وہ آزادانہ انتحابی مہم چلا رہی تھیں۔

    حالیہ انتحابی منظر نامے پر کرپشن، ووٹ کی عزت اور دیگر روایتی سیاسی الزام تراشیوں کا غلغلہ تھا اور توجہ سیکورٹی اور شدت پسندی جیسے موضوعات سے ہٹی ہوئی تھی۔ ویسے تو معیشت اور معاشرت سے جڑے مسائل بھی بڑی جماعتوں کی انتحابی مہمات میں کم توجہ حاصل کر پاتے ہیں، لیکن سیکورٹی کا مسئلہ تو خود انتخابی مہم سے جڑا ہے۔ خوش گمانی کی وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ یہ کہ شدت پسندوں کے حملوں میں نمایاں کمی ہے۔ لیکن یہ بات کئی مرتبہ کہی گئی ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ شدت پسند گروپ پسپا ضرور ہوۓ ہیں لیکن ان کے نیٹ ورک ابھی تک چیلنج بنے ہوۓ ہیں۔ صرف رواں سال میں شدت پسندی کے 155 واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں387 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان حملوں میں سے 57 کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے، جبکہ 11 کی جماعت الاحرار اور3 کی ذمہ داری دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کی۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان گروپوں کے اہداف اور آپریشنل ایریاز میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ مثلاً دولت اسلامیہ نے 2016 سے اب تک پاکستان میں 14 حملے کیے ہیں اور ان میں سے 3 حملے مستونگ میں ہوۓ۔ سراج رئیسانی کے انتحابی جلسے پر حملے سے پہلے یہ گروپ یہاں مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر بھی حملہ کر چکا ہے ، جس میں 88 افراد جاں بحق ہوۓتھے۔ کوئٹہ اس کا دوسرا بڑا ہدف رہا ہے جہاں اس نے 5 حملے کیے اور ان میں سے 4 میں مسیحی برادری کے اجتماعات اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ دولت اسلامیہ بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گذشتہ برس کا سب سے بڑا حملہ جو سیہون شریف میں ہو تھا اسی گروپ نے کیا تھا۔

    پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ھارون بلور کی انتخابی میٹنگ پر حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے۔ اس نے پشاور میں یہ کاروائی 8 مہینے کے وقفے سے کی ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس گروپ میں اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی ایسا کر سکتا ہے۔

    ان حملوں نے ملک میں عموماً اور خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں انتخابی سر گرمیوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ اگر دہشت گردی کی یہ لہر جاری رہتی ہے تو یہ ووٹنگ کے ٹرن آوٹ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے حالیہ وارداتوں کی مذمت تو خوب کی ہے لیکن وہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا لائحہ عمل رکھتی ہیں؟ اس پر بہت کم بات ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی اس مسئلے پر حساس ہے اور دیگر کو شائد نہیں لگتا کہ یہ میدان سیاسی جماعتوں کا ہے اور یہاں اپنے پر جلانے کا فائدہ نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس مسئلے کی شدت کا احساس نہیں اور وہ اسی عمومی رویے کا شکار ہیں کہ سب کچھ با ہر سے ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی تبصرہ باز اس کے ثبوت میں ہر حملے کے بعد ایک سے زیادہ گروہوں کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے کو لاتے ہیں۔ حالانکہ شدت پسند گروہ عوام اور سیکورٹی اداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ ہر حملے کے بعد کئی گروہ اس کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں جن میں ٹی ٹی پٖی، دولت ِ اسلامیہ ، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی سرفہرست ہیں۔ ہر حملے کے بعد ان میں ذمہ داری قبول کرنے کی دوڑ لگ جاتی ہے ۔

    اس صورت میں دعویٰ صرف اسی گروپ کا درست تسلیم کیا جا تا ہے جب وہ گروپ اس آپریشن کی تفصیلات وڈیوز اور تصاویر کی صورت میں جاری کرتا ہے ۔ بعض اوقات کچھ بڑے گروہ اپنی حکمت کے تحت ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور چھوٹے گروپوں کو کہتے ہیں کہ وہ یہ ذمہ داری لے لیں ۔سیکورٹی ادارے بھی اسی کو مصدقہ مان لیتے ہیں اور اس کے بعد وہ ان چھوٹے گروہوں کے نام پر نام نہاد سیکورٹی الرٹ بھی جاری کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کے ان حملوں پر جب تحقیقات ہوتی ہیں تو وہ اپنے آغاز میں ہی غلط سمت چلی جاتی ہیں ۔

    دہشت گردی سے متعلق الرٹ جاری کرنا انتہائی ذمہ داری کا کام ہے لیکن یہاں انسداد دہشت گردی کا ادارہ، نیکٹا جس طرح کسی ایک ہی انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ پر الرٹ جاری کر دیتا ہے اس سے قانون ناگزیر کرنے والے ادروں میں ان کا اعتبار ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ جب صیح بھی اطلاع آ جاۓ یہ ادارے اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔

    شدت پسندی کے منظر نامے پر آنے والی تبدلیوں سے انتخابی ماحول متاثر ہوا ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔ منصفانہ انتخابات کے لیے پر امن حالات ضروری ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنوازشریف الیکشن جیل میں گزاریں گے
    Next Article مذہبی سیاست اور سیاست میں مذہب کا استعمال
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by