گذشتہ روز نواز شریف کو عدالت نے طلب نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ خود عدالت پہنچے اور پورا دن عدالت میں گزارا۔ نوازشریف اس وقت جذباتی ہوگئے جب انہوں نے مریم نواز کو روسٹرم پر کھڑا دیکھا۔ کاغذ اور قلم اٹھایا اور کچھ لکھنا شروع ہوگئے۔ کچھ دیر بعد سماعت میں وقفہ ہوا تو وہاں پر موجود صحافیوں کو قریب بلا لیا۔ ہاتھ سے لکھے نوٹس پڑھ کر سنانا شروع ہوگئے۔ اب نوٹس لینے کی باری ہماری تھی۔ نوازشریف نے کہا یہاں ایک باپ کے سامنے اسکی بیٹی مقدمہ بھگت رہی ہے،میری بیٹی کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں اس کیس سے،یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹیوں کو مقدمات میں گھسیٹا جا رہا ہے، جس زمانے کا یہ کیس بھگت رہے ہیں اس وقت مریم کا سیاست سے دور دور تک تعلق واسطہ نہیں تھا، یہ اوچھی قسم کی روایت قائم کی جا رہی ہے۔ نواز شریف کا لہجہ مزیدتلخ ہوتا جارہاتھا۔ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا جنہوں نے یہ روایت قائم کی ہے ،یہ سودا انکو بھی مہنگا پڑے گا۔ انتقام کی آگ کو اتنا پھلاؤ دیاگیا ہے کہ وہ لوگ بھی اس میں جھلس رہے ہیں جنکا حکومتی امور سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔اس سے زیادہ قابل مذمت عمل کون سا ہوسکتاہے؟ نوازشریف نے کہا کہ ایسے راستے نہ چنو جہاں سے کسی کی بھی واپسی ممکن نہ ہو،میں تو اس امتحان سے بھی گزرجاؤں گاانشاءاللہ، لیکن اس روش سے جو نتیجہ نکلے گاوہ پھر سب کو بھگتنا ہوگا۔ ایک پارٹی رہنما نے تبصرہ کیا آپ اللہ کا شکر اداکریں کہ اللہ نے آپ کو ایسی بیٹی عطا کی جو آپ کے کندھے سے کندھا ملا کرکھڑی ہے۔ میں نے ایک ہمدردی کا سوال پوچھا کہ آپ کی نااہلی تاحیات ہوگئی ہے ، وزارت عظمیٰ کے بعد آپ کو پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیاہے مزید آپ سے کیا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ نوازشریف کا لہجہ ابھی بھی تلخ تھا ، کہنے لگے جنہوں نے یہ فصلےکیے ان سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک اور پارٹی ورکر نے کہا یہ روش بڑھنی نہیں چاہے، پھر وہ صاحب جو خود بھی وکیل تھے صحافیوں سے مخاطب ہوئے اور کہا کاا یسا کہاں ہوتا ہے کہ روزپیشیاں ہوتی ہوں اور مقدمات کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہو۔ سابق وزیر اعظم نے کہا یہ بدقسمتی ہے کہ قائد اعظم کا خواب شرمندہ تعبیر نہں ہوا، پاکستان بنانے کا مقصد کوئی اور تھامگر کسی اور سمت جارہے ہیں، 70سال ہوگئے ہم نے خود اپنا مذاق بنایا ہوا ہے۔
مریم نواز تسلی سے یہ سب سن رہی تھیں۔ آج وہ زیادہ حوصلے میں لگ رہی تھیں۔ اپنا بیان بھی انہوں نے تسلی سے ریکارڈ کرایا۔ ان کی آواز پورے کمرے میں سنائی دے رہی تھی۔ ہر بات اور ہر جملہ صاف صاف سنائی دے رہا تھا۔ جیسے وہ کسی جلسے سے خطاب کر رہی ہوں۔مریم نواز نے نوازشریف کو کہا میں نے جج صاحب کو بھی بتایا ہے کہ جب گلف اسٹیل ملز بنی تھی تو میں صرف ایک سال کی تھی۔ نواز شریف بولے جب یہ ایک سال کی تھی تو اس بات کی اکاؤنٹبیلٹی بھی ہورہی ہے۔ پھر کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس سے نواز شریف کے عزم کو شکست دے دیگاتو بہت سخت غلط فہمی میں ہے۔اسی دوران عدالتی اہلکار کی آواز بلند ہوئی سر جج عدالت میں آگئے ہیں ۔ سماعت دوبارہ شروع ہوگئی۔
سماعت کے اختتام پر نواز شریف سے را اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کی طرف سے لکھی گئی کتاب پر بات ہوئی کہ کیسے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے اہم اکشافات کیے۔ جب انہیں مذکورہ کتاب سے کارگل سے متعلق جنرل درانی کا یہ دعویٰ پڑھ کرسنایا گیا کہ اس معرکے کے لیے سابق آرمی چیف جنرل مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اندھیرے میں رکھا تھا تو نوازشریف نے ہاں میں سر ہلایا کہ یہ بات درست ہے اور پھر بولے یہ آہستہ آہستہ میرے موقف کی تائیدکریں گے۔

