بھارت کا CPEC سے انسلاک مسئلہ کشمیر سمیت متنازع ایشوز پر پاکستان کے ساتھ پیش رفت کو موثر کرے گا۔ مستقبل میں پاکستان کے جیواقتصادی امکانات بارے افغانستان کی مرکزی حیثیت ہے۔ اس ناطے افغانستان کو CPEC کے لیئے مائل کیا جاسکتا ہے

گزشتہ دنوں بیجنگ میں ‘‘ون بیلٹ ون روڈ ’’ کے موضوع پر ہونےوالی سربراہ کانفرنس کو عالمی میڈیا میں بھرپور کوریج ملی۔تقریب میں  ‘(OBOR) منصوبہ کی ممکنہ شراکت دار اقوام کو مستقبل میں پیش آنے والے امکانات اور چیلنجز پر گفت و شنید ہوئی۔ امکانات اور چیلنجز کی یہی بحث آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اِن ممالک میں پالیسی سازی سے متعلقہ آراء پر اثرانداز ہوگی۔
یہ تقریب پاکستان کے لیے بہت اہم  ثابت ہوئی کیونکہ OBOR منصوبہ کے لوازمات میں ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (CPEC) کو فلیگ شپ جیسی’جزوِاعظم‘حیثیت میں پیش کیا گیا۔ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے زیرِ اہتمام جون میں منعقد ہونے والا سربراہی اجلاس بھی پاکستان کی اہمیت کا اسی طرح ادراک کرے گا ۔ پاکستان کے بیشتر حلقوں میں پہلے ہی سے CPEC سمیت پاکستان اور چین کے جیواقتصادی اتحاد کا جائزہ لیا جانے لگ پڑا ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان علاقائی اقتصادیات اور سیاسی امور سے متعلقہ اتحادوں پر ہی کلیدی مول تول کرے گا۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے فورم سے اپنے کلیدی خطاب میں اِس نکتہ پر زور دیا کہ OBOR صرف مشترکہ اقتصادی ترقی کے لیے ہے اور یہ ہر طرح کی سیاسست کاری کے ایجنڈوں سے آزاد ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف کی تقریر میں بھی چینی صدر شی جن پنگ کے موقف کی بازگشت محسوس کی گئی؛ خصوصاً جب انہوں نے CPEC منصوبہ سے باہر کے ممالک کو بھی شرکت داری کی دعوت دی۔ ایسے بیانات کے باوجود بھی توقع یہی ہے کہ OBORکے تزویراتی پہلو ہی متعلقہ فورمز میں غالب آئیں گے بالخصوص SCO کے آنے والے سربراہی اجلاس بارے یہی امکان ہے۔اِس سربراہی اجلاس کے اولین اہداف میںOBOR کے شراکت دار ممالک کو درپیش مشترکہ سیکورٹی چیلنجز پر معاملت داری سرفہرست ہوگی۔
جنوبی ایشیا کے لیئے یہ سربراہی اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ پاکستان اور بھارت کو اِسی برسSCO کی مکمل رکنیت ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ کئی حوالوں سے یہ ایک دلچسپ بین الاقوامی پیش رفت ہے؛ بالخصوص چین کی سربراہی میں چلنے والےOBOR منصوبہ کی نسبت سے۔ پاکستان اور بھارت OBOR پر اپنے نقطہ ہائے نظر میں تفاوت رکھتے ہیں۔ پاکستان CPEC کو (کم وقت، کم فاصلہ، کم جوکھم اور کم مصارف کی قیمت) پر دنیا سے زمینی اور سمندری اتصالی روابطہ کے چینی خواب کا ’جزوِاعظم‘ سمجھتا ہے۔ شاید اسی لیئے بھارت نے بیجنگ میں منعقدہ فورم میں شرکت کی بجائے بائیکاٹ کیا۔ بھارت CPEC کے مقابل اپنا متوازی منصوبہ پیش کرنے میں اب تک ناکام چلا آرہا ہے۔ سربراہی اجلاس کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کانفرس سے باہر سائیڈلائن بیٹھک میں ملاقات کریں گے۔ البتہ اگر اُن کی ملاقات ہوئی تو بلا شبہ یہ تقریب کی خبری شہ سرخیوں میں شمار ہوگی۔
اگرچہ OBOR سیاست کاری سے الگ تھلگ خالِصاً اقتصادی ترقی کا منصوبہ ہے۔ تاہم چین کے صدر نےOBOR کی کامیابی کے لیئے خطے میں امن و استحکام کی یقینی صورتحال کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ یُوں اس منصوبہ سے متعلقہ بحث مباحثہ تزویراتی سوالات اور نکات سے مربوط ہوگیا ہے۔ اگرچہ SCO کسی روایتی تزویراتی فورم کی طرح نہیں ہے لیکن اِس کی تشکیل کے اغراض و مقاصد میں غیرروایتی سیکورٹی چیلنجز کا سدباب کرنا ہے۔ چین اور روس کی سیادت میں SCO کا حلقہ اثر وابستہ ریاستوں کے مابین کَشیدگی کو زائل کرنے کی حد تک وسیع ہوچکا ہے؛ حتیٰ کہ SCO کا نفوذ وسطی ایشیا کے ساتھ جنوبی ایشیا میں بھی بڑھتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔
SCO کے سربراہی اجلاس بارے ہر قوم کا حاصلِ مطلب دوسروں سے مختلف ہوگا۔ چین کے لیئے یہ ایک موقع ہوگا جس میں وہ دوسرے ممالک کو اُن کے تحفظات اور مفادات بارے اعتماد میں لے سکے گا۔ بھارت بڑی طاقتوں کے مماثل سفارتی انداز میں آئے گا اور OBOR فورم میں عدم شرکت کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ علاوہ ازیں بھارت پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی بھی حتیٰ المقدر کوششیں کرے گا اور اِس مقصد کے لیئے خاص ایشوز لے کر آئے گا۔ ایران بحیثیتِ مبصر اپنی مکمل رکنیت کے لیئے بھرپور لابنگ کرے گا اور روس بھی ایران کے لیئے مکمل رکنیت کی حمایت کرے گا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان بھی SCO میں اپنے ملک کی رکنیت کے خواہاں ہیں۔ اگر ترکی SCO کی رکنیت لینے میں کامیاب ہوگیا تو یقیناًیہSCO کی ہیئت میں تزویراتی اتحاد کی صفت کا اضافہ کرے گا۔
پاکستان کے لیئے جون کا سربراہی اجلاس ایک اور موقع ثابت ہوگا کہ جس میں وہ SCO سے وابستہ ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھا کر اپنے جیواقتصادی اور جیو سیاسی مفادات کی بارآوری کرنے کی کوشش کرسکے گا۔ اسِ طرح پاکستان دولت اسلامیہ (داعش) سمیت دیگر دہشت گرد غیرریاستی عناصر کی جانب سے درپیش سیکورٹی چیلنجز سے نبردآزما ہوسکے گا۔ مزید برآں یہ کہ SCO کا سربراہی اجلاس پاکستان کے لیئے شوکیس کا کام دے گا؛ جس میں وہ CPECکی وسطیٰ ایشیائی ممالک کے لیئے مشترکہ نفع نقصان کے اقتصادی منصوبہ کی شکل میں تشہیر کرے گا۔ چین اور OBOR سے وابستہ ممالک کے باہمی تجارتی تعاون کی روشنی میں پاکستان اپنے تجارتی حجم اور تیزرفتار ترقی کی مددوں میں نمو لانے کی خاصی استعداد رکھتا ہے۔ پاکستان کو اپنی اقتصادی استعداد بروے کار لانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
پاکستان کی جانب سے جیو اقتصادی تعاون کے لیئے جیوتزویراتی تعاون کو لوازم منوانے میں افغانستان اور بھارت کا رویہ چیلنج بن سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھارت کو CPEC میں شمولیت کی پیشکش کرچکی ہے۔ بھارت CPEC بارے مثبت پیش رفت کرتا ہے یا نہیں! لیکن بھارت میں CPEC کے امکانات پر پہلے سے بحث مباحثہ ہورہا ہے۔ حتیٰ کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر کی قیادت بھی معاشی ترقی میں نمو اور وسطیٰ ایشیا کی منڈیوں تک رسائی میں CPEC کی افادیت دیکھ رہی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ مس محبوبہ مفتی بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ CPEC کی بدولت خطہ ابھرتے اقتصادی مواقع کا مرکز بن جائے گا۔ بھارت کا CPEC سے انسلاک مسئلہ کشمیر سمیت متنازع ایشوز پر پاکستان کے ساتھ پیش رفت کو موثر کرے گا۔ مستقبل میں پاکستان کے جیواقتصادی امکانات بارے افغانستان کی مرکزی حیثیت ہے۔ اس ناطے افغانستان کو CPEC کے لیئے مائل کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ افغانستان بھی CPEC میں شمولیت کے لیئے اپنی دلچسپی ظاہر کر چکا ہے لیکن اُس کو پوری مستعدی کے ساتھ اِس جانب راغب کرنے میں ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی CPEC کا حصہ بن سکتی ہیں اور شاہراہِ ریشم کے تاریخی راستوں کو قراقرم ہائی وے سمیت ریلوے لائنوں کے ذریعے دوبارہ چالو بھی کرسکتی ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لیئے پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ مزید نئے ٹرانزٹ معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔
چین کے لیئے اُس کےOBOR منصوبہ کی کامیابی میں CPEC کی حیثیت ناگزیر ہے۔ مزید برآں خطے میں استحکام اور افغانستان میں امن اس منصوبہ کی کامیابی کے لیئے اولین شرائط میں سے ہیں۔ اسی لیئے چین افغانستان میں امن و استحکام کے عمل کی خاظر کابل انتظامیہ کی مُعاونت کررہا ہے۔ البتہ افغانستان میں امن و استحکام کی ضمانت دینا تن تنہا پاکستان کے بس میں نہیں؛ کیونکہ طالبان کے علاوہ بھی ایسے کئی اور بیشتر عناصر ہیں جو افغانستان کے امن و استحکام کے لیئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان افغانستان میں امن مذاکرات کے لیئے اپنی معاونت کا دائرہ کار بڑھا سکتا ہے جو کہ پاکستان کے اپنے قدآور عالمی امیج کے لیئے بھی ضروری ہے۔ پاکستان مشترکہ تجارتی ٹرانزٹ معاہدوں کے لیئے چین، افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان سے مذاکرات کرسکتا ہے۔ اس طرح افغانستان اپنی اقتصادی منصوبہ بندی کے لیئے متبادل آپشنز پر غور کرسکے گا۔ یہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کا خواب تھا اور پاکستان اس میں شریک نہیں تھا۔
پاکستان کے لیئے CPEC چین کے علاوہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا سے اقتصادی اِنسلاک کے لیئے بھی ضروری ہے۔ اس طرح پاکستان کی سیکورٹی رسدرسانی کے لیئے SCO بھی ضروری ہے۔ CPECبارے شراکت داری اور سرمایہ کاری کے لیئے کوئی بھی پاکستان کی داخلی صورتِ حال کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ CPEC کا منصوبہ OBOR سے وابستہ ممالک کے لیئے اقتصادی ترقی کا ماڈل تب ہی بن سکے گا کہ جب داخلی اتفاقِ رائے برقراررہے گا۔ CPEC کی کامیابی کے لیئے ہماری داخلی صفوں میں اتفاقِ رائے اور خارجی محاذ پر ہمسایوں کے ساتھ متعاون تعلقات ناگزیر ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور ساتھ ساتھ منصوبہ کے سارے عمل کو شفاف بنانے کی حکمت عملی ترتیب دے۔وزارتِ ’منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات‘ کو چاہیے کہ وہ CPEC پر پیش رفت بارے ہفتہ وار یا پندرہ روزہ میڈیا بریفنگس پیش کرنے کا سلسلہ شروع کرے۔ ایسی بریفنگس تب یقیناًزیادہ مفید ثابت ہوں گی جب اُنہیں دفتری سیکرٹر یٹ کے نوکرشاہانہ ماحول کی بجائے ملک بھر کے چیمبر آف کامرسوں میں منعقد کیا جائے گا۔ اگر حکومت خطے میں CPECکی بدولت زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے تو پھر اُسے داخلی صورتِ حال کو بالکل بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

(بشکریہ ڈان ، مترجم حسین رضا)

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version