Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مسئلہ شام کا حل صرف جمہوریت کے پاس ہے
    کالم

    مسئلہ شام کا حل صرف جمہوریت کے پاس ہے

    عاصم اعجازBy عاصم اعجازمارچ 6, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ان دنوں شام کا شہر "غوطہ” عالمی میڈیا کی شہہ سرخی بنا ہوا ہے۔ اس وقت یہ شہر ملکی اور بین الاقوامی دہشت گردی کا شکار ہے۔ تقریبا چار لاکھ  لوگوں کی جان خطرے میں ہے۔اگرچہ اقوام متحدہ نے متحارب گروہوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے لیکن فریقین میں سے کوئی بھی اقوام متحدہ کی اپیل پر کان دھرنے کو تیا رنہیں۔”غوطہ” شام کے دارلحکومت "دمشق” سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔دارلحکومت کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ حکومت اور باغیوں دونوں ہی کے لئے اہم ہے۔ چار لاکھ آبادی کے اس شہر کی نصف آبادی بچوں پر مشتمل ہے۔2013 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے بشار الاسد کی حامی اور باغی افواج اس پر قبضہ کرناچاہتی ہیں۔
    پندرہ مارچ کو شام میں ہونے والی خانہ جنگی کو آٹھ برس پورے ہو جائیں گے۔ اس خانہ جنگی کے شروع ہونے سے پہلے بھی شام میں انسانی حقوق کی شدید پامالی جاری تھی۔ بشارالاسد کی آمریت سے پہلے حافظ الاسد کی آمرانہ حکومت تیس سال قائم رہی جس میں سیاسی مخالفین کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ بشار الاسد نے بھی اپنے باپ کی آمرانہ پالیسیوں کو جاری رکھا اور اپوزیشن پر زمین تنگ کئے رکھی۔”عرب بہار” کی آمد نے تیونس اور مصر کی آمریتوں کو ختم کیا تو شام کے شہری بھی اپنے حقوق اور نظام حکومت کی تبدیلی کے لئے سڑکوں پر نکلے،لیکن صدر بشار کی حکومت نے ان "پرامن مظاہروں” کو تشدد سے کچل ڈالا۔درجنوں افراد مارے گئے اور سینکڑوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔جولائی 2011 میں فوج کے ایک حصے نے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور ملک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت کو کچلنے کی خاطر بشار الاسد کی حمایتی افواج سامنے آئیں ۔یوں ملک میں باقاعدہ خانہ جنگی کا آغازہوا۔

    2011 میں برپا ہونے والی”عرب بہار” سے پہلے شام کے عوام شدید قحط کا شکار تھے۔تقریبا پندرہ لاکھ لوگ دیہاتوں سے نکل کر شہروں کی طرف آئے جس سے ان شہری علاقوں میں غربت اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ”عرب بہار” کی حمایت میں ہونے والے کسی بھی قسم کے مذہبی جنوننیت کا شکار نہ تھے لیکن اس کے بعد بشار الاسد کے حمایتیوں اور باغیوں کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی مسلکی  بنیادوں پر لڑی جارہی ہے۔باغی فوجیوں کی اکثریت کا تعلق "سنی مسلک” سے ہے جب کہ بشار الاسد اور اس کے حمایتیوں کا تعلق "علوی مسلک” سے ہے۔
    شام میں ہونے والے فساد اور خانہ جنگی میں اس کے ہمسائیوں نے بھی اپنا بھر پور حصہ ڈالا ہے۔ایک طرٖف بشار الاسد کی حمایت میں ایران ،عراق کی حکومتیں اور لبنان کا مذہبی گروہ حزب اللہ سرگرداں ہیں تو دوسری طرف باغیوں کی مدد کے لئے ترکی،قطر اور سعودی عرب موجود ہیں۔ اپنے اپنے گروپوں کی حمایت کی خاطر پہلے اس جنگ میں امریکہ اور بعد میں روس بھی شامل ہوگئے۔اس طرح ایک ملکی مسئلہ عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

    2013 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے صدربشار الاسد کی باغیوں کی تربیت پر پانچ سو ملین ڈالر خرچ کئے۔ 2015میں روس اس جنگ میں شامل ہوا اور اس کے فوجی طیاروں نے داعش اور اسد مخالفین کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ روس نے صدر بشارالاسد کی حفاطت کے لئے اپنی سیکورٹی بھی مہیا کی۔2016سے ترکی کی فوج داعش اور کر د مخالفین کو کچلنے کے نام پر شام کے کئی علاقوں میں مداخلت کر رہی ہے۔ترکی کے علاوہ اسرائیلین ائیر فورس حزب اللہ کے ٹھکانے تباہ کرنے کے نام پر شام میں بمباری کر رہی ہے۔ 2017میں شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے روکنے کے نام پر امریکی ٹام ہاک میزائلیوں نے شام کی کئی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔
    شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے اور امن قائم کرنے کی خاطر کئی کوششیں کی گئیں۔ جینیوا،آستنہ اور سوچی میں کئی بار مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
    شام کے مسئلہ کا حل صرف جمہوریت کے پاس ہے۔ یہ خوبی صرف جمہوریت میں ہے کہ وہ اقتدار کی تبدیلی کا ایک پرامن طریقہ بتاتی ہے۔ جمہوریت کسی بھی  معاشرے کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ شام میں امن کی صرف ایک صورت ہے کہ وہاں ایک جمہوری حل پر اتفاق کر لیا جائے۔ اس کے لیے بشار الاسد کا معزول ہونا اور دوسرے گروہوں کا غیر مسلح ہونا لازم ہے۔ یہ  صدر بشار الاسد کے لیے ایک محفوظ راستہ ہے۔ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی فریقین پر مبنی ایک نگران عارضی حکومت کا قیام اور آزادنہ انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا اختیار ہی شام کے مسئلے کا حل ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں بنیاد پرستی کی وجوہات
    Next Article قومی داخلی سلامتی پالیسی
    عاصم اعجاز

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by