پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے مدرسہ مائنڈ سیٹ کے موضوع پر اپنی سروے رپورٹ جاری کر دی ہے،رپورٹ کے اجرا کی تقریب 24 جنوری کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جو کہ دو سیشنز پر محیط تھی،پہلی نشست میں فاضل محققین نے اس تحقیقی رپورٹ سے متعلق اپنے تجربے سے آگاہ کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کلیدی خطبہ دیا جبکہ دوسری نشست میں ملک کے نامور سکالرز اور دانشوروں نے موضوع کی مناسبت سے معروضات پیش کیں۔دونوں نشستوں میں میزبانی کے فرائض ممتاز سکالر خورشید ندیم نے سرانجام دیے جبکہ محمد اسماعیل خان نے رپورٹ کے نتائج پر مبنی پریذینٹیشن دی۔
اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فارریسرچ اینڈڈائیلاگ کے ریسرچ سکالر اور مدرسہ سروے رپورٹ میں بطور فیلڈ ریسرچر کام کرنے والے محمد یونس نے کہا کہ اگرچہ مدارس کے نصاب میں ایسا کوئی مواد شامل نہیں ہے جو فرقہ واریت کو فروغ دیتا ہو لیکن ہر مدرسہ میں ایک ایسا استاد موجود ہوتا ہے جو بچوں کی مناظرانہ خطوط پر تربیت کرتا ہے اور دوسرے مکاتب فکر کے بارے میں نفرت کی آبیاری کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیوبندی مدارس میں تا حال اینٹی شیعہ سوچ موجود ہے،اور اسی طرح بعض بریلوی حلقوں میں شیعہ مخالف سوچ سپاہ صحابہ سے بھی بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض مدارس میں اخبارات پر اب تک پابندی ہے جس کی وجہ سے طلبہ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ محقق محمد یونس نے مزید
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ مدرسہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے اور قومی و معاشرتی سطح پر بھی،افغانستان کے طالبان مدارس کے طلبہ ہی تھے، مسئلہ افغانستان پر اس وقت روس،چین اور امریکہ مذاکرات کر رہے ہیں جس میں مثبت یا منفی سے قطع نظر بنیادی کردار مدرسہ کا ہی ہے۔پاکستان میں بھی قومی سیاست میں مدرسہ کے تعلیم یافتہ لوگ
سپریم کورٹ میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ مدرسہ ایجوکیشن کی ابتدا ہی "ضرب یضرب” سے ہوتی ہے جس کا اثر ان پر یہ پڑتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بغیر مار کے کام نہیں چل
سوال و جواب کی نشست میں خواتین نے بھی حصہ لیا اور اور خواتین کے مدارس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی،ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ مدرسہ سسٹم سے گزرنے والی بچیوں میں زیادہ خشونت پائی جاتی ہے اور ادبیات کا ذوق بالکل بھی نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ ہمیں نالج بیسڈ اکانومی کے بجائے نالج بیسڈ سوسائٹی پر زور دینا چاہیے۔
آخر میں پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سروے رپورٹ کا کریڈٹ ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کو جاتا ہے کہ یہ انہی کا آئیڈیا تھا،مدارس اور ان کے نصاب پر بہت کام ہو چکا ہےلیکن ڈاکٹر صاحب کا مشورہ تھا کہ پڑھائی کے اوقات کے بعد طلبہ کی سرگرمیوں،ان کی سوچ،اساتذہ کے ساتھ تعامل اورسیاسی و سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا جائے۔اس سروے کے بہت سے نتائج ہمارے لیے حیران کن بھی تھے،مثلا یہ کہ اکثریت نے تاریخ میں دلچسپی ظاہر کی،وہ تاریخ کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں
Gallery
