شہر اقتدار میں کشمکش عروج پر ہے، لیکن یہ کیسا شہر اقتدار ہے؟ یہاں بیٹھنے والا تو سرے سے مقتدر ہی نہیں تو پھر یہ کشمکش کیسی؟ یہاں تومال روڈ کا سکہ چلتا ہے۔ آئین کا نہ سہی تو دستور کے نام پر بننے والی سڑک پر بیٹھے کچھ سیاسی اور غیرسیاسی عناصر بھی اپنے حلف بھلا کراس سکے کی لڑائی میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ایک تازہ مثال یہ ہے کہ حکومت ملک میں اس کی ہوگی جس کا سکہ بلوچستان میں چلتا ہو گا۔ جب بات اتنی واضح ہے تو پھر آئینی اداروں کو حدود میں کام کرنے کے مشورے کیسے؟ پھرآئین پرکاربند رہنے کے لیے روزانہ لیکچرز کیوں دیے جاتے ہیں؟خبر یہ بھی ہے کہ حالات مزید خرابی کی طرف بڑھ رہےہیں۔ الیکشن سے چند ماہ قبل سیاسی بھونچال تو عام بات ہے البتہ پردے کے پیچھے رہنے والی قوتوں کا کردار ہیجانی کیفیت کا پیش خیمہ ہے۔پاکستان عالمی طور پرمشکلات میں گھرا نظرآتا ہے تو داخلی طورپرغیریقینی کی صورتحال مزید ابتری کا باعث بن رہی ہے۔ قومی مفاد کا ذکر کرنے والے بھی نتائج کی پرواہ کیے بغیراپنے محدود مقاصد کی تکمیل میں برسرپیکار نظر آرہے ہیں۔
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نےجو بہت عرصے سے پارلیمنٹ اورجمہوری سسٹم سے نالاں بیٹھے تھے، لعنت جیسے سخت الفاظ استعمال کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ ان کے اس بیان نے بحث کا رخ ہی موڑدیا۔ یہ صلاحیت بھی صرف عمران خان کی ہے جب حکمران مشکل میں ہوتے ہیں وہ خود ہی ان کے لیے ریلیف کا بھی انتظام تلاش کر ہی لیتے ہیں۔یہ وہی پارلیمنٹ ہے جہاں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد ارکان بیٹھتے ہیں اوربحث کے لیےٹک ٹکی باندھ کر انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہی پارلیمنٹ ہے جس میں تحریک انصاف کے متعدد رہنما ایک عرصے سے حصہ رہے ہیں اور قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
کبھی ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہوا کرتا تھا تو کچھ ان میں سے مشرف کی کنگ پارٹی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی عمران خان کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور مذمتی قرارداد بھی منظور کر ڈالی۔ عمران خان کو پارلیمنٹ نے جواب بھی دے دیا۔ مختلف اہم سیاسی رہنماؤں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اس اسٹیج کا حصہ تھے جہاں سے پارلیمنٹ پر تیربرسائے گئے،لیکن سیاستدان بادشاہ ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے۔ یہ اپنے کیے کا حساب ضرور چکاتے ہیں۔ عمران خان کو اس کا کتنا فائدہ یا نقصان ہوگا اس کا فیصلہ بھی جلد عوام نے ہی کرنا ہے۔ البتہ سیاستدانوں کے بیانات کو من وعن ویسے ہی سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ تقاریر، کانفرنسز اور خطبات کی یلغار میں جب زبان ان کے سامنے دامن سکیڑ لیتی ہے تو پھر سخت الفاظ کا انتخاب بھی ہو جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کےاختلافات توکوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن اداروں کا اس طرح کے سیاسی عمل کا حصہ بننا تشویشناک ہے۔ انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت یا نظام پر تنقید کہیں اور سے نہیں بلکہ غیر جانبدار سمجھے جانے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججزاور سرحدوں کے محافظ جرنیلوں کی طرف سے بھی ایک معمول بن چکا ہے۔ہر روز اگر تین یا تین سے زائد ازخود نوٹس لیے جاتے ہیں تواحتساب کے نام پرقومی احتساب بیورو کی طرف سے اس تعداد میں پریس ریلیز جاری کر کے روز فرضی اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جاتے ہیں۔ یہ اربوں روپے بالکل اسی طرح ریکور کرائے جارہے ہیں جس طرح سب گمشدہ افراد کو گھر بھیجا جا رہے۔
اگربات صرف پریس ریلیز یا از خود مداخلت تک محدود رہتی تو کیا برا تھا لیکن غیرجانبداری کا یقین دلانے کے لیے خصوصی لیکچرز اور تقاریر کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ فرمائیشی تقریبات اور کانفرنسز کے انقعاد کے ذریعے ججز اور جنرلزاپنے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ سیاستدانوں کے نام لیکر تنقید کی جاتی ہے اوربراہ راست ان کے سیاسی بیانات کا جواب بھی دیا جاتا ہے ۔
ملک کے اندر انتشار کا ذیادہ ذمہ دار کون ہے؟ کوئی بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ سیاستدان تو اس کا خمیازہ انتخابات میں بھگت ہی لیتے ہیں لیکن جنھوں نے ٹکٹ نہیں لینا اور عوام کا سامنا نہیں کرنا ان کا احتساب کون کرے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو اقتدار کی کشمکش میں کسی جواب کو پھٹکنے نہیں دے رہا۔

