حضور! یہ درندہ کیا ہوتا ہے؟ یہ بھیڑیا، یہ وحشی، مگر کیا یہ اپنے ہم جنسوں پہ ظلم ڈھاتا ہے؟ یہ انسان ہے، حضرتِ آزاد فرماتے ہیں کہ اتنی سفاکیت انسان میں ہی ہے کہ اپنے ہی قبیلے پہ ظلم ڈھاتا اور پیالوں میں بھر کے لہو پیتا ہے۔اشرف علی المخلوقات کا زعم الگ، عقل و دانش مگر طرہِ امتیاز، لیکن خدا کا فرمانِ برحق، کہ شرالدوآبّ یہی ہے۔ انسان ملائک سے برتر کہلایا، جب آدم تھا، لیکن فراعنہ و نمرود کا روپ دھارا تو جانوروں سے بدتر ہوا، جانور نہیں، کہ وہ اپنوں سے پیار کرتے ہیں، جنگل میں کہاوت مشہور ہے کہ کوئی اپنوں کے لہو کا پیاسا ہو جائے تو انسان کہلاتا ہے۔
ہمیں ابھی بھی خوش فہمی کہ ہم ان سے برتر کوئی شےہیں۔ وہ بے زبان زمین، جو ہماری جزوِ تخلیق ہے، سو ماں بھی، جس نے اپنے ہی بیٹوں کے ظلم سہے، جو صدیوں سے ہماری خوں آشا میوں کی گواہ ہے، بولتی نہیں، مگر کھولتی ضرور ہے۔ یہی وجہ ہےکہ جہنم اس کےا ندر پنپ رہی ہے، کسی کافر یا کسی مسلمانِ نا ہنجار کے لیے نہیں، مگر انسان کے لیے، ہاں فقط انسان کے لیے۔وہ جنہیں عہدِ الست یاد نہیں، جو خود سر ہیں، جنہیں زعمِ شرف و نیابت نے اندھا کر دیا ہے۔ کیسے لوگ ہیں، جو اپنے ہم جنسوں کی تباہ کاریوں کو بڑے دھڑلے سے جانوروں اور دور افتادہ جنگلوں کے "بے عقل” وحشیوں کے کھاتے ڈال دیتے ہیں۔ حوصلہ اور ہمت نہیں کہ سامنا کر پائیں اپنی اصلیت کا، کہیں کہ انسان ہے، وہ جو دشمنِ انساں ہے، وہ ہمیں میں سے ہے، کسی اور سیارے یا کسی اور بستی کی مخلوق نہیں۔ مگر یہاں یہ چلن عام کہ جھوٹ کہیں، آؤ مل کر جھوٹ کہیں۔ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، کہ حقیقت یہی ہے۔
دہشت گردی و قتل و غارت نے مذہب کے دامانِ عافیت میں پناہ لی تو علماء نے کہا یہ اہلِ مذہب نہیں، ان کا اصرار مگر قہر ڈھاتا رہا۔ ہمارا گریز ،ان کا استقرار بنا، ان کی من مانیاں بے کراں ہوئیں، انہوں نے کلماتِ نور کہے، انسانوں کی بستیوں پر چڑھ دوڑے، خدا کا نام لے کر خد ا کی مخلوق کو لہو لہان کردیا۔ اہلِ مذہب مگر گریزاں، حل کہاں نکلتا، انکار سے حل کہاں نکلتا ہے، انکار سے ہلا شیری ملتی ہے، سو ملی۔ اور اب ایک اور راگ الاپا جا رہا ہے، ہر ایک کو برتری کا زعم، کہ وہ جو ماں حوا کا مجرم ہے، وہ جو سیدہ زینب کا مجرم ہے، وہ ہم میں سے نہیں، وہ کوئی اور مخلوق ہے، وہ ہم سے بدتر ہے، مگر ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمیں میں سے ہے۔ اس کا نام، چہرہ مہرہ، خدو خال، حتیٰ کہ قوم و مذہب بھی ہم جیسا ہے۔ وہ اسی سماج کا حصہ ہے، جسے ہمارے رویے تشکیل دیتے ہیں یا پھر جس سے ہمارے رویے تشکیل پاتے ہیں۔
سو یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ برائی سماج میں ہے اورمعاشرتی اخلاقیات و معیارات کی تشکیلِ نو اصل ضرورت ہے۔ جرم ہوا، مانا ہم شریکِ جرم نہیں تھے، مگر ہمارا وجود، ہماری خاموشی، ہمارا معذرت خواہانہ رویہ، انکار و گریزکی پرانی روش، چند دن شور شرابا اور پھر سکوتِ مرگ، اسے کیا نام دیں؟ اہلِ سیاست کی شعبدہ بازیاں، صاحبان اقتدار کے جھوٹے دلاسے، ہرحادثے کے بعد بڑا حادثہ یہی، برسوں کا رونا بھی یہی، کہ ہم انہیں پہ ایمان لے آتے، انہیں کی طفل تسلیوں پہ سر تسلیمِ خم کر لیتے ہیں۔زینب نہیں، بنتِ زینب کہو، اور معلوم نہیں کتنی بناتِ زینب ، یہ بچپنا، یہ معصومیت، یہ فارغ البالی، یہ لا ابالی کے دن کہ شیطان بھی بہکاوے میں لانے سے گریز کرے، مگر یہ انسان ،کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ معصوم ابنائے آدم و بناتِ حوا، جو اپنے ہم جنس انسانوں کی بھینٹ چڑھے، ان کاہم پر قرض یہی ہے کہ نفاق و انکار کی روش ترک کر کے حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے سماجی نفسیات و معاشرتی اخلاقیات کی پیش بندی کا سامان کریں کہ ماں دھرتی کا ازل ازل سے خواب اور ابنِ آدم کے وجود کا جواز یہی ہے۔

