Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بے نظیربھٹوکاورثہ
    کالم

    بے نظیربھٹوکاورثہ

    سرتاج خانBy سرتاج خاندسمبر 27, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج پاکستان کی سابق وزیراعظم اورپیپلزپارٹی کی رہنما بے نظیربھٹوکوہم سے بچھڑے دس سال ہوگئے ہیں۔ 27دسمبر2007کوانہیں  لیاقت باغ راولپنڈی میں خطاب  کرکے واپس جاتے ہوئے راستے میں شہیدکردیاگیاتھا۔ میں نے بے نظیربھٹوکوپہلی اورآخری بار18اکتوبر2007کوکراچی میں وطن واپیسی پرایک ٹرک پرسوارہاتھ ہلاتے ہوئے ڈرگ روڈکے قریب دیکھاتھا۔ وہ کارسازکے قریب دھماکہ میں اتفاق سے بچ گئیں لیکن 27دسمبرکوایک نشانہ بازکی گولی کانشانہ بن گئیں۔ دوسری مرتبہ میں ان کے مزارگڑھی خدابخش، لاڑکانہ گیا اورا ن کے مزارپرسوارکھڑےہوکران کی پہلی بار وزرات عظمی کے وقت حلف اٹھانے کے منظرکویادکرنے لگا۔

    بے نظیربھٹوکوزندگی بھرسیاسی مخالفت کاسامناکرناپڑا اوران پرہرقسم کے الزامات لگتے رہے، لیکن حیرت انگیزطورپران کی شہادت کے بعد میں نے جس سے بھی پوچھا اس نے بے نظیربھٹوکواچھے الفاظ میں یادکیا، ان لوگوں میں زندگی پر بے نظیر پر تنقید کرنے والے بھی شامل ہیں۔ یہ  سب لوگ اب  بے نظیرسے ہمدردی کااظہارکرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ توشائد ان کی بے رحمانہ موت ہے۔ عورت کوبے دردی سے قتل کرناہمارے معاشرے میں براسمجھاجاتاہے اوربے نظیربھٹوجیسی لیڈرکے لیے اس طرح کی موت شائد کوئی بھی پسندنہیں کرتا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں نے ہرجگہ لوگوں کوتقریباایک ہی بات دھراتے دیکھاہےکہ  بے نظیرہوتی توحالات مختلف ہوتے۔ یہ تاثرپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں بھی عام ہے۔ عام طورپرلوگ بے نظیربھٹوکوآصف علی زرداری سے الگ سمجھتے ہیں۔ عام افراد اورپیپلزپارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ بے نظیربھٹوحیات ہوتیں توشائد پاکستان  اورپاکستانیوں کوان مشکلات کاسامنا نہیں کرناپڑتاجس سے وہ گزررہے ہیں۔ یہ بے نظیربھٹوکی پاکستانی سیاست میں اہمیت کواجاگرکرتاہے اوربتاتاہے کہ بارباراسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں اقتدارسے محرومی کے بعد کیوں عوام اس کومنتخب کرتے۔ بنیاشاہ اپنے ایک مضمون میں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بے نظیرکے انتقال سے پاکستانی سیاست اورلیڈرشپ میں جوخلاء پیداہواہے اسے پرکرنامشکل ہے۔

    زیڈ اے بھٹوکی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹوپارٹی کی چِیرمین بنی مگربہت جلد بے نظیربھٹو اپوزیشن لیڈرکے طورپرسامنے آئی ان کے لیے شریک چیرمین کی راہیں بھی کھل گئیں۔ 1986میں وطن واپسی پرلاہورمیں بے نظیر بھٹو کے شاندارعوامی استقبال نے ان کےمستقبل کے وزیراعظم بننے پرمہرثبت کرڈالی۔ بے نظیربھٹونے حتی الامکان کوشش کی جنرل ضیاء کی باقیات سے سیاسی جنگ کے لیے انہیں تقسیم کرکے ایک حصے کو اپنے ساتھ ملایاجائے توا س میں کوئی حرج نہیں۔ یوں انہوں  نے مزاحمت اورمفاہمت دونوں کوملانے کی کوشش کی۔ ایک طرف نوازشریف کی قیادت میں ملک کے رجعت پسند عناصراکھٹے تھے تودوسری طرف بے نظیربھٹوکی قیادت تھی۔

    بے نظیربھٹونے البتہ جنرل مشرف حکومت کے خلاف کوئی بہت بڑی مزاحمت کونہیں اپنایا۔ اگرچہ انہوں  نے نوازشریف کے ساتھ  2006میں میثاق جمہوریت پرمعاہدہ کیامگرجنرل مشرف آمریت کے تحت ہونے والے انتخابات کوبائیکاٹ نہیں کیا۔ اگرچہ اس نے اے آرڈی اوروکلاء تحریک میں حصہ لیامگربعدازاں امریکہ کے ذریعے جنرل مشرف کوصدرماننے پرراضی ہوگئی تھی۔ یہ معاہدہ رحمن ملک اورحسین حقانی جیسے لوگوں کی کوششوں سے ممکن ہوسکاتھا۔ بے نظیربھٹونے جنرل مشرف کے صدر ہوتے ہوئے بھی وزارت عظمیٰ کے حصول کے لئے جدوجہد یہ جانتے ہوئے  شروع کی کہ ان  کی زندگی کوخطرات لاحق ہیں۔ اس کی واپسی پرپہلے ہی 18اکتوبرکوحملہ ہوچکاتھاجس میں وہ اتفاق سے بچ گئیں تھی، لیکن وہ جانتی تھی کہ وزارت عظمیٰ کاحصول ان کی سیاسی سرگرمیوں اورعوامی جلسوں میں شرکت کے بغیرممکن نہیں ہوسکتاتھا۔ اس لئے اس نے ہرقسم کے خطرات کے ہوتے ہوئے میدان میں اترنے کافیصلہ کیا۔ تاحال دیگراہم افرادکی طرح اس کی موت کی وجوہات اورقاتلوں کوپردے میں رکھاگیاہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم بھی پاکستان آئی۔ اس کے خاندان کی طرف سے قاتلوں کی نشاندھی بھی کی گئی مگرحیرت انگیزطورپردس سال گزرنے کے بعد کوئی قابل ذکرپیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔بے نظیردراصل ذوالفقارعلی بھٹواورآصف علی زرداری کی پیپلزپارٹی کے درمیانہ دورمیں ایک ٹرانزیشن کے طورپردیکھی جاسکتی ہیں۔ بے نظیربھٹونے جب دیکھاکہ عالمی معیشت میں نیولبرل پالیسی کواپنانے کارحجان عام ہورہاہے تو1990کے ابتدائی سالوں میں اس نے پیپلزپارٹی کے منشورمیں سے 1970کے دورمیں عوامی اصلاحات اورمراعات کی جگہ نجکاری کی طرف توجہ دی۔ لیکن پھربھی پیپلزپارٹی پرنیچے سے دباؤکے نتیجہ میں جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدارآتی، سرکاری اداروں میں مزدورکوپکاکرتی اورمراعات دی جاتیں۔

    پاکستان میں لبرل ازم اورجدیدیت کی تصویرسمجھی جانے والی اورمغرب کے بڑی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل بے نظیر، پیروں اورفقیروں سے اظہارعقیدت کے لئے ان کے آستانوں پرجاتیں اورمزارات پرباقاعدگی سے حاضری دیتیں۔ جب وہ 18اکتوبر2007کوکراچی پہنچی توجہازسے قران مجیدکے سایہ میں اتری۔ انہوں  نے اپنے لیے  ترقی پسندی اورلبرل ازم کواپنایاتودوسری طرف اپنے آپ کو  دقیانوس اوررجعت پسند کے طورپر بھی پیش کیا۔ بے نظیر کا متضاد روپ دراصل مختلف قسم کے افراد کواپنے گرداکھٹاکرنے کے لیے ضروری تھا۔ بے نظیر نے ایک طرف سرمایہ داروں تودوسری طرف نچلے طبقات ، مزدوروں اورکسانوں کواپنے پیچھے لگایا۔ یوں بے نظیربھٹونے ایک اصلاح پسند رہنماکے طورپرہرقسم کے طبقات کے مفادات کوآگے بڑھایا۔

    نوازشریف کی طرح بے نظیر کی حکومتوں کوجب بھی ختم کیاگیااس میں کرپشن کاالزام سرفہرست رہا۔ بے نظیربھٹوکے انتقال کے بعد  2008کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی میں ہمدردی کے ووٹوں کوخاص اہمیت دی جاتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے یہ انتخابات بے نظیرکے نام پر لڑے۔ اورابھی تک ان کے نام کواستعمال کیاجارہاہے۔ میری والدہ (جن کاپچھلے سال انتقال ہوا) جب بھی بلاول بھٹوکودیکھتیں توان کے آنکھوں میں آنسوآتے اورکہتی کہ یہ بے نظیرکابیٹاہے۔ وہ بلاول کے لئے اپنے دل میں  ایک خاص درد اورہمدردی کاجذبہ رکھتی تھیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ بے نظیراورذوالفقارعلی بھٹوکے وارث کے طورپرلوگ بلاول بھٹوکوقبول کرتے ہیں بشرطیکہ وہ آصف علی زرداری اوراپنی پھوپی فریال تالپورکے سائے سے دورہوجائے۔

    بے نظیربھٹو کوپاکستان میں جمہوری حقوق کی جدوجہد کی علامت کے طورپرپیش کیاجاتاہے جس نے دوفوجی جرنیلوں کی آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ اس نے شدیدترین مخالفت اورذاتی الزامات کی مہموں کے باوجود عوام میں جگہ بنائی۔ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد اس سے والہانہ لگاؤ رکھتے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود بے نظیرسیاسی طورپرہرقسم کی موقع پرستی اورمصالحت کی شکاربھی رہیں اورحالات وواقعات کے تناظرمیں فیصلہ کرتیں۔ یوں اس نے بہت ہوشیاری کے ساتھ مزاحمت اورمفاہمت کواپناتے ہوئے اپنے لئے راہیں ہموارکیں۔ بے نظیربھٹونے اپنے پیچھے  مسائل سے گھرے  ایک ملک اورپارٹی کوچھوڑاہے جونامساعدحالات سے نبردآزماہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکالعدم تنظیموں کی مین سٹریمنگ
    Next Article سیاست اور مذہبی جماعتی
    سرتاج خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by