ملک میں جاری سیاسی کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ ایسے میں ایک نئے تنازعے نے جنم لیا ہے،سب کی نظریں عدالتوں پر لگی ہیں۔ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کا سوال سب اداروں کو درپیش ہے،بظاہر سب بے ہنگم لگ رہاہے، ذہن میں کچھ بنیادی سوالات ابھرتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ آخر اس سارے ہنگامے کا انجام کیا ہوگا؟ حکومت مدت پوری کرسکے گی یا نہیں؟ الیکشن وقت پر یا قبل ازوقت ہونگے یا ہو نگے بھی یا نہیں ؟ ملک ایک دفعہ پھر آمریت کے شکنجے میں تو نہیں چلا جائے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو پاکستان بننے کے ساتھ ہی ہمارے نصاب کامستقل حصہ بن چکے ہیں ۔ اس دوران دنیا میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کئی ممالک بعد میں آزاد ہوئے اور پھر تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہی گئے۔اس عرصے میں پاکستان نے بہت بھیانک حادثات بھی دیکھے لیکن پھر بھی ان خطرناک سوالات نے پیچھا نہیں چھوڑا ۔جب تک کئی دہائیوں سے آوٹ ہوئے اس پرچے کو حل نہیں کیا جاتا، ترقی اور خوشحالی تو درکنار اپنی بقاء کی ضمانت پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ ملک میں ایک بحران کے بعد دوسرا بحران کھڑا کر دیا جاتا ہےیا خود ادارے ہی اس بحران کے ساتھ کھڑے ہوجاتےہیں جس کا نقصان ملک کو ہی ہوتا ہے۔
فیض آباد دھرنا اس کی تازہ مثال ہے جہاں چند سو افراد نے ملک کے دارلحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو مفلوج بنا رکھا ہے۔ ایسے گروہوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے جو نہ آئین کو تسلیم کرتے ہیں، عدالتوں کو خاطر میں لاتے ہیں نہ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب دور دراز پہاڑوں میں چھپ کے نہیں بلکہ پاکستان کے دنیا بھر سے رابطے کے اہم انٹر چینج فیض آباد میں یہ سب ہو رہا ہے۔ اب دنیا پاکستان اور ملک کے اداروں سے متعلق جو بھی رائے قائم کرے اس میں ہمارا اپنا کردار بہت اہم ہے۔جہاں انتظامیہ، حکومت اور عوام مفلوج ٹھہرے وہیں پر ریاست اور ریاستی ادارے بھی بے بسی کی بس کے خاموش مسافر بن گئے۔ ہر معاملے میں ایکشن لینے والے اور کردار ادا کرنے والے ادارے بھی کوئی اثر ورسوخ استعمال کرتے نظر نہیں آتے۔ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنی بقا اور مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے جیسے ملک کی کسی کو فکر ہی نہ ہو۔ ہر کوئی اپنےمتنازعہ کردار کی بھی توجیہات دیتا نظر آتا ہے لیکن کوئی اپنی حدود اور دائرہ کار پر غور کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔جن کا کام سیاست ہے وہ سیاست نہیں کررہے، جن کا کام ملک کا دفاع ہے، وہ ریاست کے نظم و نسق کی فکر میں سرشار نظر آتے ہیں اورجن کا کام انصاف ہے وہ ایسا کرتے نظر نہیں آرہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف صحت اور تعلیم کے شعبوں پر ہی نظر دوڑائی جائے تو خوفناک نتائج سب کی ناکامی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں 44 فیصد بچے اب بھی غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 25 ملین بچے سکول سے باہر ہیں لیکن میڈیا پر یہ سب خبر بن کر سامنے نہیں آتا۔حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو جب بھی کوئی ٹھوکر لگی اس نےسطحی انداز سے حل نکالنے کی کوشش کی۔ جب عمران خان اور طاہرالقادری 126 دن تک پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے تو پھریک دم پارلیمنٹ کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا۔ پارلیمنٹ نے اپنا کردار ادا بھی کیا لیکن یہ سب اقدامات وقتی ثابت ہوئے اور بعد میں پارلیمنٹ کو خود ہی بے وقعت کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ وزیر اعظم نواز شریف کی راہ ہی دیکھتی رہی۔ ان کی دیکھا دیکھی ممبران کی بڑی تعداد اس مقدس ہاؤس کا راستہ ہی بھول گئی۔چار ماہ جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام ہوا تو نواز حکومت نے سب سے پہلا وار ڈی چوک پر کیا جہاں ان مظاہرین نے پڑاو ڈالا تھا ،جیسے سب سے بڑا مجرم یہی چوک تھا۔ اعلان کردیا گیا کہ آئندہ اس ڈی چوک میں کسی قسم کا سیاسی اجتماع یا دھرنا نہیں دیا جاسکے گا۔ اس کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ کے حکم پر کنٹینرز لگا کر پارلیمنٹ کے سامنے اس چوک کو مسقل طور پر بند کردیا گیا ۔پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہلی کا فیصلہ آیا تو سب سے پہلے آئین کے آرٹیکلز 62 اور63 کو ختم کرنے کا عزم دہرایا گیا۔ پھر قانون سازی کے ذریعے نوازشریف کو نااہلی کے باوجود پارٹی کا صدر منتخب ہونے کا رستہ ہموار کیا گیا۔ نیب نے پیچھا شروع کیا تو پھر نئے احتسابی کمیشن کی داغ بیل ڈالی۔ اب حکمران اور اپوزیشن جماعتیں مشکل میں گھری نظر آتی ہیں۔ مردم شماری کااہم ٹاسک بھی سپریم کورٹ کے کہنے پر انجام دیا گیا۔اب مسلہ درپیش ہوا کہ وقت پر انتخابات نہیں ہو سکیں گے تو فوری طور پر ایک آئینی ترمیم پر رضامند ہوگئے کہ مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر ہی انتخابات کرا دیتے ہیں۔ آخر یہ عمل وقت پر کیوں مکمل نہیں کیا جاسکا؟ آبادی کی بنیاد پر انتخابات سے زیادہ نقصان پنجاب اور سندھ کا ہی ہوگا۔ عبوری نتائج میں آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم ہوتی ہے۔ جس کا فائدہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو ہی ہوگا جہاں بڑی تعداد افغان مہاجرین کی رہ رہی ہے۔کیا اس طرح جمہوری عمل مضبوط ہو سکے گا؟ کیا اچھی حکمرانی کیے بغیر یہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں گے؟مارشل لاؤں سے جان چھڑانے کے لیے صرف سابق فوجی آمر پرویز مشرف پر غداری مقدمہ قائم کیا گیا لیکن ہوم ورک مکمل نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ بھیانک نکلا۔ سیاسی حکومت پہلے سے کئی گنا زیادہ کمزور سے کمزور تر ہوتی گئی اوراس کے قدم پیچھے کو ہی سرکتے گئے۔
اب منظرنامہ اور بھی دلچسپ ہو گیا ہے کہ عدلیہ نے اہم سیاسی مقدمات تیزی سے نمٹانے شروع کردیے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف درست کہتے ہیں کہ اہم مقدمات اب بھی سالہا سال سے الماریوں میں پڑے ہوئے ہیں یعنی اعلی عدلیہ کے سامنے زیر التواء ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان مقدمات کو آگے بڑھانے میں خود وزیر اعظم کی حیثیت سے نواز شریف نے کیا کردار ادا کیا؟ جہاں ان ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں وہیں پر حکومت وقت کی کارکردگی پربھی ایک سوال ہے۔
اہم مقدمات میں دو مقدمے بہت اہم نوعیت کے تھے۔ایک لاپتہ افراد کا کیس اوردوسرا اصغر خان کیس۔ دونوں مقدمات میں پیش رفت نہ ہونا ریاستی اداروں کے سامنے حکومت کی ایک کمزور حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عوام کا اعتماد اور مضبوط جمہوریت کا ضامن کون بن سکتا ہے؟بہت سے دوسرے سوالات کی طرح یہ سوال بھی ابھی تک حل طلب ہے۔

