Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لبنان ، ایران اور سعودی عرب کا نیا محاذ جنگ
    کالم

    لبنان ، ایران اور سعودی عرب کا نیا محاذ جنگ

    عاصم اعجازBy عاصم اعجازنومبر 20, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کیا لبنان سعودی عرب اور ایران  کے درمیان نیا محاذ جنگ بننے جا رہا ہے۔؟یہ وہ سوال ہے  جو آج کل عالمی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس سوال کے پیچھے  حالیہ دنوں میں ہونے والے  مختلف واقعات ہیں جو یکے بعد دیگرے رونما  ہوئے ہیں ، ان میں یمن سے  ریاض  پر ہونے والا میزائل حملہ،سعودی عرب  میں ہونے والی اقتدار کی  نئی جنگ اور لبنانی وزیراعظم سعد حریری کا اپنے  عہدے  سے استعفی دینا جس کا اعلان انہوں نے اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران کیا۔یوں  تو ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ  خلیج فارس سمیت کسی بھی  جگہ ہو سکتی ہے لیکن اس وقت ان  دونوں ملکوں کے درمیان  فالٹ لائن لبنان ہے۔سعودی عرب  اور  خطے میں اس کے نئے حلیف  اسرائیل   دونوں کو ہی ایران کے علاقے میں بڑھتے ہوئے کردار پر تشویش ہے۔  سعودی عرب   عراق اور شام میں ایران کے ہاتھوں  ہونے والی  اپنی سبکی پر رنجیدہ ہے جبکہ  اسرائیل  لبنان میں حزب اللہ کی سرپرستی کرنے پر ایران سے نالاں ہے۔ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب  اور اسرائیل کے دوران  ریاض اور یروشلم  کی حکومتوں نے امریکی حکومت  کو  ایران کے اس نئے کردار سے اپنی  پریشانی سے آگاہ کیا۔ٹرمپ انتظامیہ  پہلے ہی سے ایران سے نالاں ہے۔اسے  اوبامہ انتظامیہ اور ایران کے درمیان  ہونےوالے نیوکلئیر معاہدہ پر سخت تحفظات ہیں ۔امریکہ کو بھی ایران کا  اس خطے میں نیا کردار  ایک آنکھ نہیں بھاتا۔اگر امریکہ  ایران کے خلاف  کوئی  فوجی ایکشن لیتا ہے  تو اس پر سب سے زیادہ خوشی  سعودی عرب کو ہوگی جو اپنے اندرونی مسائل اور  یمن  کی جنگ میں الجھا ہو اہے۔ ایران کے خلاف  امریکی جنگ  اسرائیل اور اس کے امریکہ میں موجود حامیوں کو بھی خوش کرے گی۔ امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ  امریکہ کے  لئے تو خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس سے ایران کی موجودہ حکومت  کے کمزور ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس جنگ سے  ایران اور سعودی عرب کے درمیان  تعلقات بہتر  ہونے کی بجائے  مزید خراب ہوں گے۔

    ۲۰۰۳ میں امریکہ کے عراق  پر حملے کے بعد سے  ایران کا اپنے پڑوسی ملکوں عراق اور شام کی سیاست میں کردار بہت اہمیت  حاصل  کر گیا ہے اور وہ اس جنگ کے بعد سے اس  خطے میں ایک اہم "پاور بروکر” کے  طور پر سامنے آیا ہے۔جب سے محمد بن سلمان سعودی حکومت  میں نئے ولی عہدمقرر ہوئے ہیں ،تب سے  سعودی حکومت ایران کے خلاف سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ سعودی حکومت نے ایرانی حمایت یافتہ  بشارالاسد کی حکومت ہٹانے کے لیے  اس کی  اپوزیشن کی کھل کر حمایت کی لیکن دونوں ممالک کے درمیان اصل مقابلہ  یمن میں ہو رہا ہے۔ یمن میں سعودی فضائیہ ایرانی  حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے  فوجی  ٹھکانوں  پر زور دار بمباری  کر رہی ہے لیکن ابھی تک وہ حوثی باغیوں کو اقتدار سے ہٹانے میں  کامیاب نہیں ہو سکی۔ ریاض پر حوثی باغیوں کی طرف سے ہونے والا میزائیل حملہ اسی سعودی بمباری کا جواب تھا۔اگرچہ سعودی عرب نے خطے کے کئی ممالک میں اپنی عسکری قوت دکھائی ہے لیکن اس سے ایران اور اس کے اس خطے میں موجود  حلیفوں کو کوئی پریشانی نہیں۔

    شام میں اسد حکومت جسے  روس اور ایران کی مدد حاصل تھی سعودی حمایت یافتہ اپوزیشن کو  شکست دی۔عراق میں عراقی حکومت نے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی مدد سے  داعش اور  کرد وں کے خلاف جنگ جیتی۔ عراقی حکومت اگرچہ ایرانی حلیف نہیں  لیکن اس نے  داعش اور  کرد وں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنےعربی ہمسائیوں کی بجائے ایران پر بھروسہ کیا۔

    ان حالا ت میں  سعودی حکومت کے پاس کوئی اور چوائس نہیں کہ  وہ ایران کو شکست دینے کےلیے  لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی مدد کرے۔  دونوں ممالک کے درمیان خفیہ تعلقات وروابط  کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوجی سربراہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے کیونکہ دونوں ممالک  کا مشترکہ مفاد ایران کو روکنے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی  کہا کہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے انتخابی وعدے پر کامیابی نے مشرق وسطیٰ میں نئی سیاسی صف بندی اور اتحاد بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

    اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہونے والے اس انٹرویو میں انہوں  نے مزید کہا کہ ایران کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ایک مفصل دفاعی منصوبہ تیار کیا جانا چاہیے اور وہ معتدل عرب ریاستوں کو دفاعی ماہرات اور خفیہ معلومات فراہم کرنے کو تیار ہیں۔اگر  سعودی حکومت اسرائیل کی حزب اللہ کے  خلاف  جنگ کی صورت میں کوئی ایڈوینچر کرتی ہےتو اس کے سخت نتائج برآمد ہوں گے۔ اسرائیل حزب اللہ کے مقابل عسکری  برتری رکھتا ہے اور اس کا اینٹی میزائل پروگرام بھی کافی جدید ہے لیکن حزب اللہ  کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اسرائیل  کو کئی مقامات پر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماضی قریب میں بھی حزب اللہ نے  اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اگر ایسی کوئی جنگ لبنان میں چھڑتی ہے  تو ہمیشہ کی طرح اس کا سب سے زیادہ نقصان لبنانی عوام کو اٹھانا ہوگا۔یہ بھی ممکن  ہے کہ  ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے جس سے خلیج فارس کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر نقصانات کا اندیشہ ہے کیونکہ اس طرح کی کوئی بھی جنگ صرف ایران اور سعودی عرب میں ہی نہیں بلکہ  اس علاقے  کے  کم وبیش سبھی ملکوں میں معاشی تباہی  لائے گی، دنیا بھر  کے ممالک توانائی کے بحران کا شکار ہوں گے اور عالمی معیشت جو پہلے سے ہی مندی کا شکار ہے مزیدابتری کا شکار ہوگی۔

    اس سے پہلے کہ ایسی کوئی جنگ تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار  کرے روس اور چین کو  آگے بڑھ کر امریکہ کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل اور سعودی عرب کو کسی  بھی ایڈوینچر سے روکے اوروہ ایران سے اپنے معاملات  جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مزاکرات  کی میز پر حل کریں۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتاریخِ جور و جفا
    Next Article افغان قضیہ
    عاصم اعجاز

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by