12 اکتوبر کو حماس اورالفتح کے درمیان ایک تاریخ ساز معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق دونوں جماعتوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں تمام انتظامی امور یکم دسمبر تک بتدریج قومی حکومت کو سپرد کردیے جائیں گے۔ اس کے بعد حماس اور الفتح مل کر قومی حکومت کو مستحکم کریں گی۔ دونوں بڑی جماعتوں میں مفاہمتی مذاکرات کی نگرانی مصری وزیر برائے انٹیلی جنس امور خالد فوزی نے کی۔ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں سنہ 2011 کو طے پانے والے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے، غزہ کا انتظامی کنٹرول فلسطینی قومی حکومت کو سپرد کرنے، سرکاری ملازمین اور گذرگاہوں کی نگرانی جیسے امور کو حتمی شکل دی گئی ہے۔
فلسطین کی دونوں بڑی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور فتح کے درمیان 10 سال بعد تاریخ ساز معاہدے کے ساتھ صلح ہو گئی ہے جس پر پوری اسلامی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور عرب ممالک کے سربراہان سمیت دنیا بھر میں اس معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں جماعتوں میں طویل عرصہ سے قائم مخاصمت کے خاتمے اور فلسطینیوں کو باہم شیرو شکر کرنے میں مصری حکومت نے جو مؤثر، جاندار اور برادرانہ کردار ادا کیا اس پر مصری حکومت بجا طور پر داد کی مستحق ہے۔فلسطین اور مصر کے عوام کے درمیان انتہائی گہرے اور دوستانہ مراسم ہیں، غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں اور مصری شہریوں نے تو آپس میں شادیاں کرکے ایک منفرد سماجی امتزاج قائم کیا ہواہے۔یہی وجہ ہے کہ غزہ کی پٹی کو”چھوٹا مصر” بھی کہا جاتا ہے۔ سنہ 1948,1967 اور 1973ء کی جنگوں میں فلسطینیوں نے مصر میں اپنا خون بہایا اور جانوں کی قربانیاں دیں۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدوں میں بھی قاہرہ کا کلیدی کردار رہا ہے۔مصر نے فلسطینیوں کے درمیان کئی بار معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا۔ سنہ 2005ء، 2006ء،2007ء کے معاہدہ مکہ ، 2011ء میں فلسطینیوں میں مصالحت اور سنہ 2008ء اور 2014ء کی اسرائیل کی جانب سےغزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگوں کی روک تھام میں مصر کا کردار بے مثال ہے۔
حالیہ معاہدے سے فلسطینیوں میں مفاہمت کے ساتھ ساتھ حماس اور مصر کے درمیان باہمی تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں۔مصری ذرائع ابلاغ میں بھی حماس اور قاہرہ کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو مثبت سمت میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔عرب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ اور مصر کے جغرافیائی محل وقوع نے مصر کے لیے مسئلہ فلسطین کی اہمیت دو چند کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر جہاں ایک طرف تمام فلسطینی دھڑوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے وہیں وہ عرب ممالک میں بھی کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ مصر کو اس امر کا اعتراف ہے کہ حماس کسی دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں کرتی اور اس نے فلسطین سے باہر کبھی ایک گولی بھی نہیں چلائی۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ اور تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے منظر نامے میں مصر کا فلسطینیوں کو متحد کرنے کا کردار قابل تحسین ہے۔مصر گذشتہ گیارہ سال سے فلسطینیوں میں مصالحت کاری کے لیے کوشاں رہا ہے۔ مسئلہ فلسطین ہو یا غزہ کا معاملہ، مصر نے سیاسی اور عملی میدانوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ رواں ہفتے طویل جدوجہد کے بعد مصالحتی معاہدہ طے پایا جسے نہ صرف فلسطینی بلکہ تما م مسلمان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
فلسطینی جماعتوں حماس اور تحریک فتح کے درمیان مصر کی مساعی سے طے پانے والے مصالحتی معاہدے پر عالم اسلام اور عرب ممالک کی طرف سے مثبت رد عمل سامنےآیا ہے۔جامعہ الازھر کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح نے دس سالہ اختلافات ختم کرکے مصائب و آلام میں گھری مسلم امہ کو خوشی کا موقع فراہم کیا ہے،دونوں دھڑوں میں اتحاد وقت کی ضرورت تھی۔ اس حوالے سے حماس اور فتح دونوں نےغیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کرکے فلسطینی قوم کو یکجہتی کی خوش خبری سنائی ہے۔ جامعہ الازھر فلسطینیوں میں مفاہمت کا خیر مقدم کرتی ہے۔ادھر عرب لیگ نے بھی فلسطینی دھڑوں میں مصالحت کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے قومی مفاہمت کی بھرپور حمایت اور تایید کا اعلان کیا ہے۔
دیر آید درست آید کا مصداق یہ مصالحتی معاہدہ ایک چیلنج ہے اور اسے برقرار رکھنا تمام فلسطینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔اسرائیل سمیت مسلم دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں میں قائم ہونے والے مصالحتی عمل میں رخنہ ڈالنے کے لیے کوششیں کریں گے(معاہدے کے دو دن بعد سیناء میں ہونے والی خونی کارروائی کو بعض تجزیہ کار اسی تناظر میں دیکھتے ہیں) جس کا جواب اتحاد ،تحمل اور دانشمندی سے ہی دیا جا سکتا ہے۔اب حماس اور الفتح کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ آپس میں در آنے والے افتراق و تشتت کو مٹائیں کہ یہی وہ اسباب ہیں جن سے غاصبوں کو راہ ملتی ہے۔اگر فلسطین کی جماعتیں آپس میں اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھیں تو کوئی تیسری طاقت انہیں دیوار سے لگانے کی کبھی جرات نہیں کر سکے گی۔
