المیہ یہ نہیں  کہ پاکستان میں مالیخولیا کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے المیہ یہ ہے کہ کسی کو صحیح علم ہی نہیں ہے کہ یہ بیماری ہے کیا۔ کوئی اسے پاگل پن سمجھتا ہے، کوئی ذہنی دباؤ۔ حتی کی ڈکشنری میں بھی اسے جنون، سودا، وحشت اور گھبراہٹ بتایا گیا ہے جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اسے ذہنی بیماری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ  نام سے ہی ظاہر ہے کہ مالیخولیا مال کی ہوس  کی بیماری ہے یہی وجہ ہے کہ بیمار بھی ڈاکٹر کی بات  نہیں مانتا نہ علاج کے لئے تیار  ہوتا ہے۔ اصرار کریں تو ڈاکٹر کو بائی پاس کرکے لندن کے کسی ہسپتال کا رخ کر لیتا ہے ۔

مالیخولیا کے مریضوں کا حال دیکھنے سے ہی پتا چل جاتا ہے کہ یہ مال بنانے کی بیماری ہے۔ مال کمانا بری بات نہیں نہ ہی اسے بیماری کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بیماری میں مال ودولت کی بھوک اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ  مریض کے ہوش و حواس پر قبضہ کر لیتی ہے۔  وہ دولت جمع کرنے کے لئے منافع خوری، اجارہ داری، جائداد ہتھیاری، چوری، ہیرا پھیری، رشوت ستانی، رسہ گیری، منی لانڈری، بھتہ خوری، بلیک میلنگ ہر قسم کے جرائم میں سکون محسوس کرتا ہے اور لطف لیتا ہے۔ اپنے کارناموں پر فخر کرتا ہے۔ اسے جرم کا احساس نہیں ہوتا۔ کبھی ضمیر میں چبھن  نہیں ہوتی۔ وہ بے فکر ہو کر اپنے کاروباروں کو دنیا بھر میں وسعت دینے لگتا ہے۔

اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اول تو ڈاکٹر اسے بیماری نہیں سمجھتے ہیں،  دوسرے جب بیماری بڑھنے لگتی ہے تو وہ  چونکہ اسے ذہنی بیماری قرار دیتے ہیں ،اس کا نفسیاتی علاج کرنے لگتے ہیں۔  نفسیاتی علاج کے چکر میں  دوسرے سب لوگ بھی مریض کے ساتھ ہمدردی کرنے لگتے ہیں۔  مریض کو بھی لطف آنے لگتا ہے۔ وہ  بھی ڈاکٹروں کو چکر دینے  کے لئے  ہر وقت شکایت کرتا ہے کہ وہ دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ سب اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر اسے تسلی دلاتے ہیں۔ دوست اس کا خوف دور کرنے کے لئے پبلک مقامات پر لے جاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں ہاتھ اٹھا کر بتائیں کیا آپ مریض کے دشمن ہیں ؟ سب یقین دلاتے ہیں کہ وہ مریض کے دوست ہیں۔

مریض کو پتا ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کا یہ ڈراما صرف اس کے علاج کے لئے ہے۔ لیکن جب یہ عمل بار بار دہرا یا جاتا ہےتو اسے احساس ہو نےلگتا ہے کہ واقعی عوام اس کے گرویدہ ہیں۔ وہ جس طرف نکلتا ہے لوگ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔  کاروبار میں کامیابیاں قدم چومتی ہیں تو اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ اللہ بھی خوش ہے۔ اب وہ لوگوں کی خدمت کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ وہ عوام کو ان کا حق دلانے کے لئے سب کچھ کر گذرنے کی ذہنی کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مالیخولیا  آخری خطرناک درجے پر پہنچ گیا ہے۔

پاکستان میں مالیخولیا واقعی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہےلیکن نہ ڈاکٹر اس خطرے کی بات کر رہے ہیں نہ مذہبی رہنما۔ دونوں کو مالیخولیا سے زیادہ مریض کی دولت میں دلچسپی ہے۔ مالیخولیا کا مریض مذہبی اور نیک لوگوں کی خد مت کرتا ہے۔ خیرات صدقات میں دل چسپی لیتا ہے۔ دونوں اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔  نہ مالیخولیا کو بیماری بتاتے ہیں نہ مریض کو بیمار کہتے ہیں۔  ملک کے غریب عوام  اس بیماری کے نتائج کو بھگت تو رہے ہیں لیکن مالیخولیا کو  بیماری  نہیں مانتے کیونکہ یہ امیر بیماری ہے۔  انہیں معلوم ہے کہ وہ امیر بننے کی کوشش میں  تڑپ  تو سکتے ہیں امیر نہیں بن سکتے۔  غریب  مالیخولیا کے مریضوں سےہمدردی اور ان کی اطاعت گذاری میں جی کر خوش ہیں۔ یہ بھی مالیخولیا کی ایک قسم ہے جسے خالیخولیا کہتے ہیں۔ خالیخولیا کے مریض مالیخولیا کے مریضوں  کے راستے میں پھول بچھاتے ہیں اور ان کی کاروں کے نیچے کچلے جاتے ہیں اور شہید کا رتبہ پاتے ہیں۔ سارا ملک انہی دو بیماریوں میں مبتلا ہے۔ مالیخولیا یا خالیخولیا۔

قدیم ترین کہانیوں سے بھی پتا چلتا ہے کہ بعض بادشاہ بھی مالیخولیا  کی بیماری میں مبتلا رہے ہیں۔ ایک کہانی میڈاس بادشاہ کے نام سے سنائی جاتی ہے۔ اسے مال کی اتنی ہوس ہوئی کہ اس نے خدا سے دعا مانگی کہ میں جس چیز کو ہاتھ لگا ؤں سونا  بن جائے۔ خدا نے دعا قبول کر لی۔ پورا دن وہ پاگلوں کی طرح محل میں گھومتا رہا۔ جس چیز کو ہاتھ لگا تا سونا ہو جاتی۔ وہ بے حد خوش تھا۔ اتنا سونا تو دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس نہیں ہوگا۔ دوپہر کو کھانے کی میز پر بیٹھا۔ میز سے سیب اٹھا کر کھانے لگا تو دانت جواب دے گئے، سیب سونے کا ہو گیا تھا۔ دسترخوان سے جو چیز اٹھاتا سونے کی ہو جاتی۔ سخت پریشان ہو گیا کہ کیا کھائے۔ اسے اداس دیکھ کر اس کی ننھی بیٹی ابو کی طرف دوڑی آئی۔ بادشاہ نے پیار سے اسے گود میں اٹھا لیا۔ لیکن وہ تو سونے کی گڑیا بن چکی تھی۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version