Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»وینیزویلاکا سیاسی بحران
    کالم

    وینیزویلاکا سیاسی بحران

    عاصم اعجازBy عاصم اعجازستمبر 25, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وینیزویلا اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے۔ اپریل سے شروع ہونے والا یہ پرتشدد ، حکومت مخالف احتجاج اب تک درجنوں افراد کی جان لے چکا ہے۔ اس سیاسی بحران نے ملک بھر کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طر ف آنجہانی صدر شاویز کے حامی ہیں اور دوسری طر ف انکے مخالفین جو پچھلے اٹھارہ برس سے موجود شاویز کے حامیوں کی اس حکومت کو اب مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔  شاویز کی وفات کے بعد اس کی جماعت پی ایس یو وی نے نیکولاس مادورو  کو  اپنا  صدرمنتخب کیا جس نے حکومت سنبھالتے ہی وعدہ کیا کہ وہ مسٹر شاویزکی پالیسیوں کو جاری رکھے گا۔شاویز کے حامی سابقہ اور موجودہ صدر کو اس لئے پسند کرتے ہیں کہ ان دونوں نے وینزویلا کی تیل کی کمائی کو امیروں پر خرچ کرنے کی بجائے غریبوں پر خرچ کیا ہے، جس سے معاشرے میں طبقاتی تقسیم کم ہوئی ہے۔اس کے برعکس حکومت کے مخالفین  کاکہنا یہ ہے کہ جب سے شاویز کی حمایت یافتہ جماعت پی ایس یو وی کی حکومت آئی ہے،تب سے انہوں نے معیشت کو تباہ وبرباد کیا ہے اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا ہے۔
    شاویز کے حامی اپوزیشن پر "امراء اورروساء ” کی جماعت ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ایلیٹ کلاس عام لوگوں کا استحصال کر کے اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔شاویز کے حامی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کے ان رہنما وں کو امریکہ کی پشت پنائی حاصل ہے۔وینیزویلا کی ملکی آمدنی کا 95 فی صد تیل کی آمدن سے حاصل ہوتاہے۔ شاویز کے دور حکومت میں اس کا بڑا حصہ سماجی کاموں اور عوام کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جاتا تھااور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا کے تقریباً دس لاکھ بے گھر غریب لوگوں کو شاویز حکومت نے اپنے سر کی چھت مہیا کی۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے حکومتی آمدنی میں کمی ہوئی ہے جس نے موجودہ حکومت کومجبور کیا ہے کہ وہ اپنے سماجی پروگراموں پر اب کم خرچ کرے۔ جس کے نتیجے میں اس جماعت کے پرانے حامی بھی اس سے اب ناراض ہیں۔حالیہ کچھ عرصے میں پے در پے کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی بڑھی ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

    سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک کی سپریم کورٹ نے یہ اعلان کیا کہ وہ قومی اسمبلی کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس وقت وینیزویلا کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو اکژیت حاصل ہے۔اپوزیشن کا ماننا یہ ہے کہ یہ رولنگ دے کر عدلیہ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ملک میں آمریت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دوسری طر ف سپریم کورٹ کا کہنا یہ تھا کہ اسے یہ انتہائی قدم اس لئے اٹھانا پڑا کیونکہ قومی اسمبلی نے اس کے کچھ فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ "توہین عدالت ” کی مرتکب ہوئی تھی۔اگرچہ تین دن کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا تھا اسکے باوجود اپوزیشن کا اعلیٰ عدلیہ پراعتماد بحال نہیں ہوا۔

    وینیزویلا کی اپوزیشن کے چار مطالبات ہیں۔ سپریم کورٹ کے جس چیف جسٹس نے قومی اسمبلی کا انتظام سپریم کورٹ کے حوالے کیا تھا اسکی نوکری سے برخواستگی۔اسی سال یعنی 2017 ء میں عام الیکشن کروانا،تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اوران تمام ادویات کی وینیزویلا درآمدگی کی اجازت جس کی اس وقت ملک میں شدید قلت ہے۔وینیزویلا کے صدر مادورو اپوزیشن کے یہ مطالبات ماننے کو تیار نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن نے ان کی حکومت کے خلاف "اقتصادی جنگ” چھیڑ رکھی ہے تاکہ عام آدمی کے حالات خراب ہوں،غربت میں اضافہ ہو اور ان کی حکومت کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔

     اپوزیشن کو چونکہ قومی اسمبلی میں اکژیت حاصل ہے اس لئے صدر اپنی مرضی کی قانون سازی نہیں کرسکتے، اس لئے وہ ملک میں ایک نئی قانون ساز اسمبلی کا قیام چاہتے ہیں۔ اپوزیشن نے صدر کے اس طرح کے کسی بھی فیصلے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کی قانون سازی کا مطلب بالکل واضح ہے کہ صدرکسی کو حکومت نہیں کرتا دیکھ سکتے۔ اور تمام اختیارات خود سنبھالنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی حکومت کو دوام دے سکیں۔اپوزیشن یہ بھی سمجھتی ہے کہ صدر قانون ساز اسمبلی کا قیام اس لئے بھی چاہتے ہیں تاکہ اس سال ہونے والے علاقائی الیکشن اور 2018ء میں ہونے والے صدارتی الیکشن کو ملتوی کروایا جاسکے کیونکہ حکومتی جماعت ان الیکشنزکو جیتنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اپوزیشن اس لئے بھی خوف    ذدہ ہے کہ صدر کی بنائی گئی قانون سازاسمبلی قومی اسمبلی کوکمزور کرے گی ۔جس طرح سے وینیزویلا میں معاملات چل رہے ہیں ، ان حالات میں نہیں لگتا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مستقبل قریب میں کوئی بھی ایسا سمجھوتا ہوسکے جس سے ملک میں بے چینی اور سیاسی عدم استحکام ختم ہوسکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعائشہ گلالئی کے ساتھ ایک نشست
    Next Article پاک روس تعلقات اور خطے کا مستقبل
    عاصم اعجاز

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by