Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تعلیم یافتہ دہشت گرد
    کالم

    تعلیم یافتہ دہشت گرد

    کاشف علیBy کاشف علیستمبر 21, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    عمومی تصور  یہ ہے کہ  شدت پسندی اور دہشت گردی غربت، جہالت اور بے روزگاری کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ اس میں ملوث افراد دینی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا ہوتے ہیں، جنہوں نے جدید تعلیمی اداروں کی شکل تک نہیں دیکھی ہوتی۔ یہ خود بھی دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں اور مذھب کی غلط تشریح کا سہارا لیتے ہوئے کم پڑھے لکھے لوگوں، خصوصا مذہب سے لگاو رکھنے والے نوعمر نوجوانوں کو بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرف راغب کرتے ہیں۔دنیا بھر خاص کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑانے سے مندرجہ بالا  تاثر کی نفی ہوتی ہے۔ 43 نہتے اسماعیلیوں کے قتل کا دلخراش سانحہ صفورہ گوٹھ اور انسانی حقوق کی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث آئی بی اے ( IBA ) کراچی کا طالب علم ساعد عزیز ہو ، داعش سے وابستہ میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری یا پھر حال ہی میں MQM کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر عید کے روز مبینہ حملہ آ ور  جامعہ کراچی کا سابقہ طالب علم عبدالکریم سروش صدیقی ہو، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گرد پاکستان کے جدید تعلیمی اداروں میں بھی نقب لگانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ افغان جہاد کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شدت پسندی ، عدم رواداری و  بردا شت نے فروغ پایا جس سے ہمارے دینی مدارس کے ساتھ ساتھ  دنیوی  تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے  اور آج شدت پسند عناصر ہماری اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل کواپنے مذموم مقاصد میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو ایسے دہشت گردوں کا سامنا ہے جو نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ٹیکنالوجی خاص کر سوشل میڈیا اور کمیونیکشن ٹولز اینڈ ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

    2017  کراچی میں منظر عام پر آنے والا اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل  نیا  دہشت گرد گروہ انصار الشریعہ پاکستان  سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر  بھی حملے میں ملوث ہے۔ یہ  داعش سے جدا ہو کر بننے والا ایک نیا گروہ ہے جس میں لشکر جھنگوی ، القاعدہ ، داعش اور تحریک طالبان پاکستان کے سابقہ اراکین شامل ہیں۔اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے نظریات سے متاثر افراد کا یہ گروہ   ماضی قریب  میں  شام میں جبھتہ النصرہ نامی گروہ کے ساتھ مل کر شامی حکومت کے خلاف کاروائیوں میں ملوث رہا ہے ۔ شام وعراق میں داعش کی شکست کے بعد انہوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے۔ فروری 2017 سے اب تک یہ گروپ پانچ کاروائیاں کر چکا ہے جس میں  ایک ریٹائر کرنل سمیت متعدد پولیس اہلکار اور عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔  اندیشہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسے مزید تجربہ کار جنگجو ہو سکتے ہیں جو ان چھوٹے گروپس کو ساتھ ملا کر پاکستان میں بڑے حملے کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل قریب میں شام کے محاذ سے فارغ ہونے والے مزید دہشت گرد بھی پاکستان کا رخ کر سکتے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

    شدت پسندی اور دہشت گردی کو صرف غربت کے ساتھ نتھی کرنا بھی درست نہیں کیونکہ دہشت گرد متمول گھرانوں کے نہ صرف طلبا بلکہ بعض اساتذہ کو بھی شدت پسندی کی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔دس سے بارہ  افراد پر مشتمل گروہ انصار الشریعہ میں شامل جن  افراد کا اب تک پتا چلایاگیاہے   یاانہیں  گرفتار کیا گیا ہے ان کی اکثریت نہ صرف کراچی کے اعلی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر چکی ہے بلکہ  بعض  کے والد  بھی شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد اپنے بیانیہ سے پاکستان کے متمول اعلی تعلیم یافتہ طبقے میں سے بعض لوگوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو چکےہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیہ کیا ہے اور اسکی ترویج کے لیے ریاستی سطح پر کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں ؟ اب تک کی تحقیق کے مطابق انصار الشریعہ نے کراچی میں دہشت گردی کے لیے سوشل میڈیا اور رابطے کے لیے مخصوص سافٹ ویئر ایپلیکیشنز کا استعمال کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی ذرائع کی کڑی نگرانی کے بعد دہشت گرد رابطے کے لیے متبادل ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل کے اذہان کو آلودہ کرنے اور انہیں اپنے جال میں پھا نسنے کے لیے دہشت گرد پاکستان سمیت پوری دنیا میں سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت نورین لغاری کیس ہے۔ ایسے میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کیا موثر حکمت عملی ہے، جس سے سوشل میڈیا اور دیگر  کمیونیکشن ٹولز کو موثر طور پر مانیٹر کیا جا سکے ؟

     پاکستان  کو سوشل میڈیا مونیٹرنگ کے لیے موثر حکمت عملی اپنانا پڑے گی یا پھر متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدات کرنا ہوں گے جس سے پاکستان میں موجود سوشل میڈیا صارفین پر نظر رکھی جا سکے اور مشکوک عناصر کے حوالے سے بروقت تھریٹ الرٹ جاری ہو جس سے ان کو کسی بھی مذموم کروائی کرنے سے پہلے  گرفتار کیا جا سکے۔  

    ملک سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں پر بھی گہری نظر رکھنا ہو گی  کیونکہ شدت پسند و دہشت گرد عناصر تعلیمی اداروں میں طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی شدت پسندی کی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ نوجوانوں کو مثبت سیاسی و ہم نصابی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کے لیے طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنا ہو گی۔ اگر آج بھی 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل ہو جائے تو اس کے مثبت اثرات ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی نظر آئیں گے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان شدت پسندی و  دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری و سیاسی ہر دو حکمت عملی پر عمل کرے اور بحثیت ریاست کسی بھی ابہام کا شکار نہ ہو۔ بصورت دیگر ہماری اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل دہشت گردی کا ایندھن بنتی رہے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی کیوں نہیں آ رہی ؟
    Next Article مشکل وقت سر پر ہے
    کاشف علی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by