Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»دو قطبی ہوتی دنیا اور پاکستان
    کالم

    دو قطبی ہوتی دنیا اور پاکستان

    ثاقب اکبرBy ثاقب اکبراگست 27, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہماری رائے یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر دنیا دو قطبی بنتی جارہی ہے۔ اس کے لیے کوئی لمبے چوڑے دلائل کی ضرورت نہیں، عالمی حالات پر سرسری نظر رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ امریکا کی بلاشرکت غیرے عالمی بالادستی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ امریکا کو چیلنج کرنے والی نئی قوتیں اور نئے اتحاد معرض وجود میں آچکے ہیں اور آ رہے ہیں۔ اب صرف وینزویلا،سنی گال، ایران، شام ، کیوبا اور شمالی کوریا جیسے چھوٹے ملک ہی نہیں بلکہ بڑی عالمی طاقتیں بھی امریکی پالیسیوں اور امریکا کی عالمی سلطنت کے خواب کو چیلنج کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال شام ہے جہاں عملی طور پر روس اور ایران نے مل کر امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حتمی شکست کے قریب پہنچا دیا ہے۔ اس اتحاد کو چین کو حمایت بھی حاصل ہے۔ حال ہی میں ریاض میں شامی حکومت کے مخالف نمائندوں کی جو ملاقات مغربی حکومتوں کے نمائندوں سے ہوئی ہے اس میں واضح طور پر مغربی ممالک نے بشار حکومت کے مخالفین سے کہا ہے کہ اب یہ مطالبہ نہیں کیاجاسکتا کہ مذاکرات کے لیے پہلے شامی صدر بشار الاسد کو حکومت چھوڑنا ہوگی۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم پہلے ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بشار الاسد کا حکومت سے علیحدہ ہونا مذاکرات کے لیے ہماری ایک پیشگی شرط ہے لیکن اب ہم یہ کہتے ہیں کہ اقتدار منتقل کرنے کے لیے جو لائحہ عمل اختیار کیا جائے اس میں اس شرط کو ترک کردینا ہوگا نیز آئندہ کے جمہوری انتخابات میں بشارالاسد کو بھی انتخاب لڑنے کا حق دینا پڑے گا۔ شام کے بیشتر علاقے اس وقت شامی حکومت کی حامی افواج اور اس کی اتحادی قوتوں کے قبضے میں آچکے ہیں۔ داعش کا خاتمہ تقریباً نزدیک ہے۔ لبنان کے بھی بیشتر سرحدی علاقوں سے داعش کو شکست دے کر نکالا جا چکا ہے۔ شامی کردوں کے ایک گروہ جسے امریکا کی سرپرستی حاصل ہے ،س کے قبضے سے ایک شامی علاقہ آزاد کروانے کی جنگ شاید شام میں بشارالاسد کی حامی افواج کا آخری معرکہ ہوگا۔ اس میں جو نئی صورت حال سامنے آئے گی اس میں شامی افواج کو کسی نہ کسی صورت میں ترکی کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

    اسی تناظر کو عالمی سطح پر وسیع کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے اتحادی آج سامنے صف آرا نظر آئیں گے۔ ایران تو پہلے ہی امریکا کے سامنے صف اول میں کھڑا ہے جو 1979تک خطے میں امریکا کا پولیس مین سمجھا جاتا تھا، اب وہ ایک طاقتور چیلنج بن کر امریکا کے سامنے سینہ سپرہے۔ پہلی مرتبہ  روس نے اسرائیل کو شام پر فضائی حملوں کے خلاف دھمکی دی ہے۔ ایک عالمی طاقت کی طرف سے اسرائیل کے خلاف گذشتہ چند دہائیوں میں یہ پہلی دھمکی قراردی جاسکتی ہے۔

    پاکستان کی صورت حال جو کسی حد تک زیر زمین تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سطح زمین پر آ گئی ہے۔ ایک عرصے تک پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا کہ انھوں نے ماسکو کی طرف سے آئے ہوئے دعوت نامے کو نظرانداز کرکے امریکا جانے کا غلط فیصلہ کیا۔ آج ہم بالکل برعکس فیصلہ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنا امریکا کا دورہ ملتوی کرتے ہوئے چین اور روس جانے کا اعلان کردیا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ کونسل نے پاکستان کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے اور امریکا پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے ذمہ داروں سمیت افغان سر زمین پر دہشت گردوں اور شر پسندوں کی پناہ گاہوں کے خاتمہ کے لیے موثر اور فوری فوجی کارروائی کی جائے۔ کونسل کا اجلاس جو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی۔ پاکستان میں اس چیز کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد سب سے پہلے چین نے پاکستان کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ ایک روسی عہدے دار نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے، جس کے بغیر کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ماسکو میں روسی صدر کے نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے مزید کہا کہ پاکستان پر غیر ضروری دباﺅ سے خطے کی مجموعی سیکورٹی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے تعاون اور مرضی کے بغیر خطے میں استحکام بہت مشکل ہوگا جس کا نتیجہ افغانستان کو بھگتنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس حوالے سے امریکا کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا آج خطے بالخصوص افغانستان کے بار ے میں اپنی غلط اور بے وقت پالیسیوں کے نتائج پر دوسرے ملکوں کو مورد الزام ٹھہرا رہاہے۔ ان کاکہنا تھا کہ امریکا کی مفاد پرستانہ پالیسیوں اور حکمت عملیوں اور غلط مداخلت کے نتیجے سے کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ خطے کے  خلفشار میں اضافہ ہوا ہے اور دہشت گرد ی و انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے۔ امریکا کو دوسرے ملکوں کو سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں۔

    نئی دو قطبی دنیا میں یہ واضح ہوتا چلا جارہا ہے کہ امریکا، بھارت اور اسرائیل ایک طرف ہیں جب کہ روس، چین اور ایران دوسری طرف ہیں۔ پاکستان آہستہ آہستہ حالات کے دباﺅ کے تحت ایک خاص رخ اختیار کررہا ہے کیونکہ پاکستان کو داخلی و خارجی طور پر بعض ایسی مشکلات کا سامنا ہے جن کی وجہ سے وہ زیادہ کھل کر ایک قطب کا حصہ بننے کا اعلان نہیں کر سکتا۔ ان مشکلات میں پاکستان کے ماضی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں سے رہنے والے تاریخی تعلقات ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ،سیاسی راہنماﺅں اور افسرشاہی کے امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک سے گہرے عسکری اور معاشی روابط رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ اتنی آسانی سے ان روابط اور ان کے اثرات سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی۔   ویسے بھی تیز رفتاری سے دشمن تراشی کوئی دانشمندی نہیں، معاملات کو تدبر اور حکمت ہی سے آگے بڑھانا ہوگا۔ البتہ مستقبل کا فیصلہ سامنے جلی حروف میں لکھا ہے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleداعش کی شکست کا مطلب آزاد کردستان ہوگا
    Next Article مذہب، سیاست اورروحانیت
    ثاقب اکبر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by