پاکستان میں امریکی صدر ٹرمپ کے افغانستان، پاکستان اورانڈیا سمیت خطے کے بارے میں نئی پالیسی کاردعمل مختلف طریقے سے دیکھنےمیں آیاہے۔ اس میں محتاط رویہ اخیتارکرنے سے لے کرامریکہ کوچیلنج کرنے تک شامل ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق امریکہ کے ساتھ معاونت کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کاشکاررہاہے مگرنئی امریکی پالیسی مایوس کن ہے جس میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا حالانکہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے۔ حسب معمول پاکستان کاروایتی موقف دہرایاکہاگیاہےکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستانی ریاست کوشکایت ہے کہ جنگ میں پاکستان کا 120بلین ڈالرزسے زائد مالی نقصان ہوا مگر اس کے علاوہ 70ہزارسے افراد لقمہ اجل بھی بنے اوراس کہیں زیادہ زخمی اوربے گھرہوئے۔ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کااعتراف کرنےکے بجائے پاکستان کوموردالزام ٹھہرانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ امریکی سفیرنے فوج کے سربراہ جنرل قمرباجوہ سے ملاقات کی جس میں جنرل باجوہ نے سفیرکوبتایاکہ "امریکا سے کسی بھی قسم کا مالی یا مادی فائدہ نہیں چاہتے لیکن ہم امریکا سے اپنی کوششوں پر اعتماد چاہتے ہیں اور ہماری کوششوں کو تسلیم کیا جائے”۔ آرمی چیف کااشارہ امریکی صدرکی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کے علاوہ امداد کی بندش کی طرف ہے جبکہ امریکہ پہلے ہی پاکستانی کوملنے والی سالانہ 50ملین کی فوجی امدادکی بندش کااعلان کرچکاہے۔
پاکستان میں اب قومی اسمبلی اورسینٹ میں امریکی صدرکی نئی پالیسی پربحث ہورہی ہے جبکہ پڑوسی ممالک اورامریکہ سے متعلق پالیسی پرپارلیمان سے زیادہ فوج کاکنٹرول ہے۔ ڈان لیکس کے مطابق سیاستدانوں کاخیال ہے کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کی ذمہ داری بھی فوج پرعائد ہوتی ہے۔پاکستان میں ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ امریکہ اپنی ناکام جنگی اورسفارتی ناکامی کاملبہ پاکستان پرڈالناچاہتاہے۔ سابق وزیرخارجہ حناربانی کھرکہتی ہیں کہ امریکہ کی وجہ سے پورا خطہ غیرمستحکم ہوگیاہے، امریکہ کی افغان پالیسی درست نہیں اورغیرملکی افواج کی موجودگی مسئلہ کی جڑہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت ڈری ہوئی ہے، اسی لئے امریکی صدرکے بیان پرآرمی چیف کوبیان دیناپڑا، سیاست دانوں کے اربوں ڈالرزباہرپڑے ہیں اسی لئے جواب دینے سے خوفزدہ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو افغانستان کے خطے اور تاریخ کی سمجھ ہی نہیں، نائن الیون میں کوئی افغان ملوث نہیں تھا، اس وقت پاکستان میں کوئی دہشت گرد تنظیم نہ تھی، ہم امریکا کے کہنے پر اس جنگ میں شامل ہوئے، یہ جنگ ہماری نہیں تھی، ٹرمپ اربوں ڈالر کی بات کرتے ہیں جبکہ اس جنگ میں ہمارا100ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔ قربانیاں پاکستان نے دیں مگر ٹرمپ بھارت کی تعریف کرتا ہے۔ عمران خان کے خیال میں پوری قوم کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرنی چاہیے۔ اس نے سوال کیاکہ کیا نیٹو کے ڈیڑھ لاکھ فوجی پاکستان کی وجہ سے ناکام ہوئے؟ یہ وہی بات ہے جو بھارت کشمیر میں 7لاکھ فوج رکھنے کے باوجود کہتا ہے۔ بلاول کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ہی ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرسکتی ہے، آصف زرداری نے کبھی امریکی دباؤ قبول نہیں کیا جب کہ زرداری نے امریکیوں کی سلالہ ایئربیس سے موجودگی ختم کی۔ چیئرمین سینٹ رضاربانی نے امریکہ کوچیلنج کرتے ہوئے کہاکہ ” اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان امریکی افواج کا قبرستان بن جائے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم میں ویت نام اورکمبوڈیا والی خصوصیات اورروایات پائی جاتی ہیں۔ ان کااشارہ ویت نام میں بدترین امریکی شکست کی طرف تھا جہاں عوام نے امریکہ کے خلاف جنگ لڑی اورجس نے پوری دنیا میں ایک جنگ مخالف تحریک کوجنم دیا۔ رضاربانی کا یہ بھی خیال ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف کوامریکہ کادورہ ملتوی کرناچاہئے۔
پاکستانی ریاست کوشکایت ہے کہ جنگ میں پاکستان کا 120بلین ڈالرزسے زائد مالی نقصان ہوا مگر اس کے علاوہ 70ہزارسے افراد لقمہ اجل بھی بنے اوراس کہیں زیادہ زخمی اوربے گھرہوئے۔ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کااعتراف کرنےکے بجائے پاکستان کوموردالزام ٹھہرانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے
رضاربانی کے سینٹ میں ریمارکس حیرت انگیزطورپرافغان طالبان سے مشابہ ہیں۔ طالبان نے بھی امریکی صدرکی نئی پالیسی پراسی قسم کاردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ”اگرامریکہ افغان سرزمین سے اپنے فوجیوں کا انخلاء نہیں کرتاتوافغانستان کوامریکی افواج کا21ویں صدی کاقبرستان بنادیاجائے گا”۔ یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ افغانوں نے جدیدتاریخ کی بڑی استعماری طاقتوں برطانیہ اورروس کوشکست دی، اب امریکہ کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ عام طورپر”افغانستان کوسامراجیوں کاقبرستان "کہاجاتاہے۔ اگرچہ اس خطے کے عوام نے برطانوی استعمارکے خلاف شدید مزاحمت کی مگر یہ کہناکہ افغانستان ہمیشہ اسی شکل میں رہاہے، ایک تاریخی مبالغہ ہے۔ دوئم یہ کابل کے حکمران اوراشرافیہ میں اکثرنے استعماری قوتوں کاساتھ دیا۔ درانی حکمران اوراشرافیہ اس حوالے سے بہت پراگندہ تاریخ کی مالک ہے۔ البتہ عام عوام ہمیشہ بیرونی قبضہ گیروں کے خلاف رہی اوراس عمل میں اپنے حکمرانوں کے خلاف بھی کھڑے ہوتے رہے۔
خطے میں امریکی پالیسی کے خلاف افغانستان اورپاکستان میں شدیدردعمل آیاہے جس کااندازہ دونوں ممالک کےسابق صدور آصف علی زرداری اورحامدکرزئی کے بیانات سے لگایاجاسکتاہے جواپنے دورحکومت میں امریکہ کے خاصے قریب بھی رہے اوراس حوالے سے تنقید کےشکاربھی رہتے تھے۔ آصف علی زرداری کے دورمیں سویلین کوزیادہ امریکی امداد ملی تھی لیکن اب زرداری کاکہنا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ پائی پائی کا حساب برابر کرنے کیلیے تیار ہیں۔ ٹرمپ ہمیں دھمیکیاں نہ دے اور امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ افغانستان نہیں پاکستان ہے۔پاکستان میں جنگ کے حامیوں کے برعکس عام لوگوں میں امریکی صدرٹرمپ کے نئی پالیسی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک عام خیال یہی ہے کہ ہم ایک عبث جنگ میں پڑگئے ہیں اوراس سے نکلناچاہئے۔ پاکستان پرحال ہی میں فوجی امدادبندکردی گئی ہے،جبکہ اقتصادی پابندیوں کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ پہلے فوجی امداد اس لئے بندکی گئی کہ ہماری فوج پر بعض افغان جنگی قوتوں کی پشت پناہی کاالزام لگایاجاتاہے۔ مزید دباوکےطورپر اقتصادی پابندیاں اگلاقدم ہوسکتاہے۔ اس کےبعد دیگراقدامات کی باری آسکتی ہے۔

